72. Al-Jinnالجن

The Jinn · Meccan · 28 ayahs · 2 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ﴿1﴾

    (اے پیغمبر) کہہ دو : میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے (قرآن) غور سے سنا، اور (اپنی قوم سے جاکر) کہا کہ : ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔
  2. یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ﴿2﴾

    جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے، اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، اور اب اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو (عبادت میں) ہرگز شریک نہیں مانیں گے۔
  3. وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ﴿3﴾

    اور یہ کہ : ہمارے پروردگار کی بہت اونچی شان ہے، اس نے نہ کوئی بیوی رکھی ہے، اور نہ کوئی بیٹا۔
  4. وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ﴿4﴾

    اور یہ کہ : ہم میں سے بیوقوف لوگ اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہتے تھے جو حقیقت سے بہت دور ہیں۔
  5. وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ﴿5﴾

    اور یہ کہ ہم نے یہ سمجھا تھا کہ انسان اور جنات اللہ کے بارے میں جھوٹی بات نہیں کہیں گے۔
  6. وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ﴿6﴾

    اور یہ کہ : انسانوں میں سے کچھ لوگ جنات کے کچھ لوگوں کی پناہ لیا کرتے تھے، اس طرح ان لوگوں نے جنات کو اور سر چڑھا دیا تھا۔
  7. وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ﴿7﴾

    اور یہ کہ : جیسا گمان تم لوگوں کا تھا، انسانوں نے بھی یہی گمان کیا تھا کہ اللہ کسی کو بھی مرنے کے بعد دوسری زندگی نہیں دے گا۔
  8. وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ﴿8﴾

    اور یہ کہ : ہم نے آسمان کو ٹٹولنا چاہا تو ہم نے پایا کہ وہ بڑے سخت پہرے داروں اور شعلوں سے بھرا ہوا ہے۔
  9. وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ﴿9﴾

    اور یہ کہ : ہم پہلے سن گن لینے کے لیے آسمان کی کچھ جگہوں پر جا بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن اب جو کوئی سننا چاہتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ ایک شعلہ اس کی گھات میں لگا ہوا ہے۔
  10. وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ﴿10﴾

    اور یہ کہ : ہمیں یہ پتہ نہیں تھا کہ آیا زمین والوں سے کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے پروردگار نے ان کو راہ راست دکھانے کا ارادہ فرمایا ہے۔
  11. وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ﴿11﴾

    اور یہ کہ : ہم میں کچھ نیک ہیں، اور کچھ ایسے نہیں ہیں اور ہم مختلف طریقوں پر چلے آرہے ہیں۔
  12. وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ﴿12﴾

    اور یہ کہ : ہم یہ سمجھ چکے ہیں کہ نہ ہم زمین میں اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ (کہیں اور) بھاگ کر اسے بےبس کرسکتے ہیں۔
  13. وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ﴿13﴾

    اور یہ کہ : جب ہم نے ہدایت کی بات سن لی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ چنانچہ جو کوئی اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تو اس کو نہ کسی گھاٹے کا اندیشہ ہوگا، اور نہ کسی زیادتی کا۔
  14. وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا﴿14﴾

    اور یہ کہ : ہم میں سے کچھ تو مسلمان ہوگئے ہیں، اور ہم میں سے (اب بھی) کچھ ظالم ہیں۔ چنانچہ جو اسلام لاچکے ہیں، انہوں نے ہدایت کا راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔
  15. وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ﴿15﴾

    اور رہے وہ لوگ جو ظالم ہیں تو وہ جہنم کا ایندھن ہیں۔
  16. وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ﴿16﴾

    اور (اے پیغمبر ! اہل مکہ سے کہو کہ مجھ پر) یہ (وحی بھی آئی ہے) کہ : اگر یہ لوگ راستے پر آکر سیدھے ہوجائیں تو ہم انہیں وافر مقدار میں پانی سے سیراب کریں۔
  17. لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ﴿17﴾

    تاکہ اس کے ذریعے ان کو آزمائیں۔ اور جو کوئی اپنے پروردگار کی یاد سے منہ موڑے گا۔ اللہ اسے چڑھتے ہوئے عذاب میں پرو دے گا۔
  18. وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ﴿18﴾

    اور یہ کہ : سجدے تو تمام تر اللہ ہی کا حق ہیں۔ اس لیے اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت مت کرو۔
  19. وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ع﴿19﴾

    اور یہ کہ : جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کرنے کے لیے کھڑ اہوا تو ایسا معلوم ہوا جیسے یہ لوگ اس پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔
  20. قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا﴿20﴾

    کہہ دو کہ : میں تو صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں، اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں مانتا۔
  21. قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا﴿21﴾

    کہہ دو کہ : نہ تمہارا کوئی نقصان میرے اختیار میں ہے، اور نہ کوئی بھلائی۔
  22. قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ﴿22﴾

    کہہ دو کہ : مجھے اللہ سے نہ کوئی بچا سکتا ہے اور نہ میں اسے چھوڑ کر کوئی پناہ کی جگہ پاسکتا ہوں۔
  23. اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ﴿23﴾

    البتہ (جس چیز پر مجھے اختیار دیا گیا ہے، وہ) اللہ کی طرف سے بات پہنچا دینا، اور اس کے پیغامات ہیں۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
  24. حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا﴿24﴾

    (اور یہ لوگ نافرمانی کرتے رہیں گے) یہاں تک کہ جب وہ چیز انہیں نظر آجائے گی جس سے انہیں ڈرایا جارہا ہے تو اس وقت انہیں پتہ چل جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں، اور کون تعداد میں کم ہے۔
  25. قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا﴿25﴾

    کہہ دو کہ : مجھے معلوم نہیں ہے کہ جس چیز سے تمہیں ڈرایا جارہا ہے، آیا وہ نزدیک ہے یا میرا پروردگار اس کے لیے کوئی لمبی مدت مقرر فرماتا ہے۔
  26. عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ﴿26﴾

    وہی سارے بھید جاننے والا ہے، چنانچہ وہ اپنے بھید پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔
  27. اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ﴿27﴾

    سوائے کسی پیغبر کے جسے اس نے (اس کام کے لیے) پسند فرما لیا ہو۔ ایسی صورت میں وہ اس پیغمبر کے آگے اور پیچھے کچھ محافظ لگا دیتا ہے۔
  28. لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ع﴿28﴾

    تاکہ اللہ جان لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغامات پہنچا دیے ہیں، اور وہ ان کے سارے حالات کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اور اس نے ہر ہر چیز کی پوری طرح گنتی کر رکھی ہے۔