آسان قرآن
Aasan Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 109
قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا﴿109﴾
- قُلْفرمادیں
- لَّوْاگر
- كَانَہو
- الْبَحْرُسمندر
- مِدَادًاروشنائی
- لِّكَلِمٰتِباتوں کے لیے
- رَبِّيْمیرا رب
- لَنَفِدَ الْبَحْرُتو ختم ہوجائے سمندر
- قَبْلَپہلے
- اَنْ تَنْفَدَکہ ختم ہوں
- كَلِمٰتُ رَبِّيْمیرے رب کی باتیں
- وَلَوْاور اگرچہ
- جِئْنَاہم لے آئیں
- بِمِثْلِهٖاس جیسا
- مَدَدًامدد کو
Translation · Aasan Quran
(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ : اگر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے سمندر روشنائی بن جائے، تو میرے رب کی باتیں ختم نہیں ہوں گی کہ اس سے پہلے سمندر خشک ہوچکا ہوگا، چاہے اس سمندر کی کمی پوری کرنے کے لیے ہم ویسا ہی ایک اور سمندر کیوں نہ لے آئیں۔ (53)
Tafseer · Aasan Quran
53: اللہ تعالیٰ کی باتوں سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات اور کمالات کا تذکرہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کی حکمت اور اس کے کمالات اتنے زیادہ ہیں کہ اگر ان کو قلم بند کیا جائے تو بڑے بڑے سمندروں کو روشنائی بناکر لکھا جائے، تو سمندر کے سمندر خشک ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی صفات اور کمالات کا بیان ختم نہیں ہوگا۔