Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 48. Al-Fath · Ayah 25

  1. هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا﴿25﴾

    1. هُمُوہ، یہ
    2. الَّذِيْنَ كَفَرُوْاجنہوں نے کفر کیا
    3. وَصَدُّوْكُمْاور تمہیں روکا
    4. عَنِسے
    5. الْمَسْجِدِ الْحَرَامِمسجد حرام
    6. وَالْهَدْيَاور قربانی کے جانور
    7. مَعْكُوْفًارکے ہوئے
    8. اَنْ يَّبْلُغَکہ وہ پہنچے
    9. مَحِلَّهٗ ۭاپنا مقام
    10. وَلَوْلَا رِجَالٌاور اگر نہ کچھ مرد
    11. مُّؤْمِنُوْنَمومن (جمع)
    12. وَنِسَآءٌاور عورتیں
    13. مُّؤْمِنٰتٌمومن (جمع)
    14. لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْتم نہیں جانتے انہیں
    15. اَنْکہ
    16. تَطَئُوْهُمْتم انکو پامال کردیتے
    17. فَتُصِيْبَكُمْپس تمہیں پہنچ جاتا
    18. مِّنْهُمْان سے
    19. مَّعَرَّةٌۢصدمہ، نقصان
    20. بِغَيْرِ عِلْمٍ ۚنادانستہ
    21. لِيُدْخِلَتاکہ داخل کرے
    22. اللّٰهُاللہ
    23. فِيْ رَحْمَتِهٖاپنی رحمت میں
    24. مَنْ يَّشَآءُ ۚجسے وہ چاہے
    25. لَوْ تَزَيَّلُوْااگر وہ جدا ہوجاتے
    26. لَعَذَّبْنَاالبتہ ہم عذاب دیتے
    27. الَّذِيْنَان لوگوں کو
    28. كَفَرُوْاجو کافر ہوئے
    29. مِنْهُمْان میں سے
    30. عَذَابًاعذاب
    31. اَلِيْمًادردناک
Translation · Aasan Quran
یہی لوگ تو ہیں جنہوں نے کفر اختیار کیا، اور تمہیں مسجد حرام سے روکا، اور قربانی کے جانوروں کو جو ٹھہرے ہوئے کھڑے تھے، اپنی جگہ پہنچنے سے روک دیا، (23) اور اگر کچھ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں (مکہ میں) نہ ہوتیں جن کے بارے میں تمہیں خبر بھی نہ ہوتی کہ تم انہیں پیس ڈالو گے، اور اس کی وجہ سے بیخبر ی میں تم کو نقصان پہنچ جاتا (24) (تو ہم ان کافروں سے تمہاری صلح کے بجائے جنگ کروا دیتے، لیکن ہم نے جنگ کو اس لیے روکا) تاکہ اللہ جس کو چاہے، اپنی رحمت میں داخل کردے۔ (25) (البتہ) اگر وہ مسلمان وہاں سے ہٹ جاتے تو ہم ان (اہل مکہ) میں سے جو کافر تھے، انہیں دردناک سزا دیتے۔ (26)
Tafseer · Aasan Quran
23: آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام چونکہ عمرے کے ارادے سے تشریف لائے تھے، اس لئے حرم میں قربانی کے لئے جانور بھی ساتھ لائے تھے جنہیں حرم میں پہنچ کر قربان ہونا تھا، وہ ان کافروں کے رکاوٹ ڈالنے کی وجہ سے حدیبیہ ہی میں کھڑے رہ گئے، اور جس جگہ لے جا کر انہیں قربان کرنے کا ارادہ تھا وہاں نہیں پہنچ پائے۔ 24: یہ ان مصلحتوں میں سے ایک مصلحت کا بیان ہے جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس وقت جنگ کو مناسب نہیں سمجھا۔ اور وہ مصلحت یہ تھی کہ مکہ مکرمہ میں بہت سے مسلمان موجود تھے، اور اب حضرت عثمان اور ان کے ساتھی بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔ جنگ ہوتی تو پورے زور و شور سے ہوتی، اور اس گھمسان کی جنگ میں مکہ مکرمہ کے مسلمانوں کو خود مسلمانوں ہی کے ہاتھوں بیخبر ی میں نقصان پہنچ سکتا تھا جس پر بعد میں خود مسلمانوں کو ندامت اور نقصان کا احساس ہوتا۔ 25: یعنی اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کے مسلمانوں پر یہ رحمت فرمائی کہ انہیں قتل ہونے سے بچالیا، اور مدینہ منورہ کے مسلمانوں پر یہ رحمت فرمائی کہ انہیں اپنے دینی بھائیوں کے قتل سے بچا لیا۔ 26: یعنی اگر مکہ مکرمہ میں جو مسلمان کافروں کے ہاتھوں ظلم سہہ رہے تھے، وہ وہاں سے کہیں اور چلے گئے ہوتے تو ہم ان کافروں سے مسلمانوں کی جنگ کروا دیتے جس کے نتیجے میں وہ دردناک شکست سے دوچار ہوتے۔