Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 48. Al-Fath · Ayah 24

  1. وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا﴿24﴾

    1. وَهُوَاور وہ
    2. الَّذِيْ كَفَّجس نے روکا
    3. اَيْدِيَهُمْان کے ہاتھ
    4. عَنْكُمْتم سے
    5. وَاَيْدِيَكُمْاور تمہارے ہاتھ
    6. عَنْهُمْان سے
    7. بِبَطْنِ مَكَّةَدرمیانی (وادیٔ) مکہ میں
    8. مِنْۢ بَعْدِاسکے بعد
    9. اَنْکہ
    10. اَظْفَرَكُمْفتح مند کیا تمہیں
    11. عَلَيْهِمْ ۭان پر
    12. وَكَانَ اللّٰهُاور ہے اللہ
    13. بِمَا تَعْمَلُوْنَجو کچھ تم کرتے ہوا سے
    14. بَصِيْرًادیکھنے والا
Translation · Aasan Quran
اور وہی اللہ ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان تک پہنچنے سے روک دیا، جبکہ وہ تمہیں ان پر قابو دے چکا تھا، (22) اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔
Tafseer · Aasan Quran
22: جب حضرت عثمان ؓ مکہ مکرمہ جاکر قریش کے لوگوں کو صلح کا پیغام دے رہے تھے، اس وقت مکہ مکرمہ کے کافروں نے پچاس آدمی آنحضرت ﷺ کے پاس اس غرض سے بھیجے تھے کہ وہ خفیہ طور سے آنحضرت ﷺ پر حملہ کرکے (معاذاللہ) آپ کو شہید کردیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں مسلمانوں کے ہاتھ گرفتار کرادیا، دوسری طرف جب قریش نے ان آدمیوں کی گرفتاری کی خبر سنی تو انہوں نے حضرت عثمان اور ان کے ساتھیوں کو روک لیا، اس وقت اگر مسلمان ان پچاس آدمیوں کو قتل کردیتے تو جواب میں قریش کے لوگ حضرت عثمان اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرتے، اور مکمل جنگ چھڑ جاتی، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ ان قیدیوں کو قتل نہ کریں، اور مسلمانوں کے ہاتھوں کو ان کے قتل سے روک دیا، حالانکہ وہ ان کے قابو میں آچکے تھے، اور دوسری طرف قریش کے ہاتھوں کو مسلمانوں سے لڑنے سے اس طرح روک دیا کہ ان کے دل میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ صلح پر راضی ہوگئے، حالانکہ حضرت عثمان ؓ سے وہ صاف انکار کرچکے تھے۔