Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Muminoon : 116
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ
فَتَعٰلَى : پس بلند تر اللّٰهُ : اللہ الْمَلِكُ : بادشاہ الْحَقُّ : حقیقی لَآ : نہیں اِلٰهَ : کوئی معبود اِلَّا هُوَ : اس کے سوا رَبُّ : مالک الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ : عزت والا عرش
تو خدا جو سچا بادشاہ ہے (اس کی) شان اس سے اونچی ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش بزرگ کا مالک ہے
116:۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو بغیر کسی سند کے اللہ کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور سزا وجزا کے لیے حشر کے قائم ہونے کا انکار کر کے دنیا کی پیدائش کو بلا نتیجہ ٹھہراتے تھے ‘ ان آیتوں میں فرمایا کہ جب دنیا کے عارضی بادشاہ اپنی بادشاہت میں کسی کا شریک ہونا پسند نہیں کرتے ‘ اسی طرح نافرمان نوکروں اور رعایا کو مناسب سزا دیتے ہیں ‘ فرمانبرداروں سے طرح طرح کے سلوک کرتے ہیں تو اس صاحب عرش حقیقی بادشاہ کی شان میں یہ منکر شریعت لوگ جو باتیں منہ سے نکالتے ہیں وہ بادشاہ حقیقی ان باتوں سے بہت بالاتر ہے اور جب اس صاحب قدرت نے انسان کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو ہر شخص پر خالص اسی کی تعظیم واجب ہے جو لوگ اپنے اس واجب حق کو ادا نہیں کرتے وہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنی عاقبت خراب اور برباد کرتے ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے معاذ بن جبل کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی تعظیم میں کسی کو شریک نہ کریں ‘ اب جو بندے اللہ تعالیٰ کے اس حق کو پورے طور پر ادا کریں گے اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حق اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو عقبیٰ کی خرابی سے بچاوے گا ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے ان کا یہ حق اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو عقبیٰ کی خرابی سے بچاوے گا ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ جو لوگ اس حق کے ادا کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں وہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنی عقبیٰ خراب کرتے ہیں۔
Top