Fi-Zilal-al-Quran - Al-Muminoon : 116
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ
فَتَعٰلَى : پس بلند تر اللّٰهُ : اللہ الْمَلِكُ : بادشاہ الْحَقُّ : حقیقی لَآ : نہیں اِلٰهَ : کوئی معبود اِلَّا هُوَ : اس کے سوا رَبُّ : مالک الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ : عزت والا عرش
پس بالا و برتر ہے اللہ ‘ پادشاہ حقیقی ‘ کوئی خدا اس کے سوا نہیں ‘ مالک ہے عرش بزرگ کا
فتعلی اللہ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین اس سے پہلے قیامت کا منظر گزر چکا ہے۔ اس پر یہ تبصرہ ہوتا ہے ‘ نیز اس سے قبل کے مناظر میں بحث و مباحثہ اور دلائل و بینات کا مفعل ذکر ہوچکا تھا۔ یہ تبصرہ اس پوری سورة کا منطقی نتیجہ ہے کہ اللہ شرک سے پاک ہے۔ وہ مالک حق ہے اور وہی مقتدر اعلیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ بادشاہت اس کی ہے اور وہی بلندی کا مستحق ہے۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔ اب جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور شخصیت کی الوہیت اور حاکمیت کو مانتے ہیں ان کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ نہ اس کائنات میں اس کا کوئی ثبوت ہے ‘ نہ انسانی فطرت اس کو مانتی ہے اور نہ انسانی عقل اس پر آمادہ ہوتی ہے۔ جو لوگ ایسا دعویٰ کریں گے ان کو اپنے رب کے سامنے حساب دینا ہوگا اور حساب کا نتیجہ یہی ہے کہ کافر کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور یہ اٹل ہے۔ اس کے بالمقابل اہل ایمان فلاح پائیں گے اور یہ تقاضائے فطرت و تقاضے ئے ناموس کائنات ہے۔ اب کافروں کے پاس جو انعامات ہیں ‘ دنیا کا سازو سامان ہے اور دنیا کا اقتدار ہے جو بعض اوقات قائم ہوتا رہتا ہے تو یہ ان کی کامیابی نہیں ہے۔ یہ ان کے لیے فتنہ اور آزمائش ہے۔ اگر ان میں سے بعض اس دنیا میں بلاحساب چلے جائیں تو آخرت میں حساب ان کے لیے تیار ہے ‘ وہاں ان کو پورا پورا حساب دینا ہوگا۔ آخرت کا حساب اس تخلیق کا آخری منظر ہوگا۔ اللہ کی تخلیق کے نظام میں آخرت اس دنیا سے علیحدہ اور دور نہیں ہے۔ یہ اس دنیا کا آخری صفحہ ہے اور اس کا حصہ ہے۔ سورة مومنون کی آخری آیت میں نبی ﷺ کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کی مغفرت اور اللہ کی رحمت کی طلب کرتے رہیں۔ وقل رب ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین (23 : 118) ” اور اے نبی ﷺ کہو ‘ میرے رب درگزر فرما اور رحم کر ‘ تو سب رحیموں سے اچھارحیم ہے “۔ دیکھئے سورة کا آغاز اور انجام ایک ہی مضمون پر ہوتا ہے۔ آغاز بھی اس مضمون سے ہے کہ مومنین کامیاب ہوئے اور کافرین خسارے میں پڑگئے۔ آغاز میں بھی یہ مضمون تھا کہ نماز میں خشوع و خضوع اختیار کیا جائے اور یہاں بھی اللہ کے سامنے دعاء اور طلب رحمت ہے۔ یوں سورة کا آغاز اور انجام یکساں ہوجاتے ہیں۔
Top