Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 116
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ
فَتَعٰلَى : پس بلند تر اللّٰهُ : اللہ الْمَلِكُ : بادشاہ الْحَقُّ : حقیقی لَآ : نہیں اِلٰهَ : کوئی معبود اِلَّا هُوَ : اس کے سوا رَبُّ : مالک الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ : عزت والا عرش
اللہ کہ بادشاہ حقیقی ہے ، ایسی بات کرنے سے پاک و بلند ہے وہ ، کہ کوئی معبود نہیں ہے مگر اس کی ایک ذات ، جہانداروں کے تخت عزت کا مالک
اللہ کی ذات بہت بلند واعلی ہے اس نے کوئی کام عبث نہیں کیا : 116۔ ذات الہی کی پہچان اس کی صفات ہی سے ممکن ہے اس ان دیکھی اور ان سمجھی ذات کو صفات ہی کے ذریعہ سے پہچانا جاسکتا ہے بلاشبہ اس کی ذات اس کی صفات کے پردہ میں مستور ہے اور وہ مستور رہ کر دکھائی دیا جاسکتا ہے اور وہی اس کو دیکھ سکتا ہے جس کی عقل کی آنکھیں کھلی ہیں وہ ان ظاہری آنکھوں سے نہ کسی کو نظر آیا اور نہ ہی آسکتا ہے اور جو ان ظاہری آنکھوں سے دیکھا جاسکے وہ اللہ نہیں ہو سکتا لیکن یہ بات اس دنیوی زندگی کے لئے خاص ہے آخرت کی زندگی نہ اس طرح کی زندگی ہوگی اور نہ ہی اس طرح کی خواہشات ہوں گی گویا اس طرح جب اس زندگی کی آنکھیں بند ہوں گی تو اس زندگی کی ہرچیز روشن ہوجائے گی ذرا غور کرو کہ تم خود ایک محدود فہم رکھتے ہو لیکن اس کے باوجود اپنی طرف سے تم کوئی عبث وبیکار اور فضول کام کرنے کو اچھا نہیں سمجھتے پھر تم نے یہ باور کیوں نہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو بدرجہ اتم کوئی عبث وبیکار کام نہیں کرے گی ، اچھا انہیں اس زندگی کا کوئی مقصد بتاؤ ؟ اگر نہیں تو مان لو کہ اس نے انسان کو محض عدل قائم کرنے کے لئے پیدا کیا تاکہ اظہار حق ہو اور ثابت ہوجائے کہ الوہیت کے مقابل صرف اس کی ذات ہے اور وہی ہے جو اس کائنات کا پیدا کرنے والا اور اس کا نظام چلانے والا ہے اور اس میں کوئی بھی اس کا شریک ومعاون نہیں ۔
Top