Al-Quran-al-Kareem - Al-Haaqqa : 25
وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ
وَاَمَّا : اور رہا مَنْ اُوْتِيَ : وہ جو کوئی دیا گیا كِتٰبَهٗ : کتاب اپنی بِشِمَالِهٖ : اپنے بائیں ہاتھ میں فَيَقُوْلُ : تو وہ کہے گا يٰلَيْتَنِيْ : اے کاش کہ میں لَمْ اُوْتَ : نہ دیا جاتا كِتٰبِيَهْ : اپنا نامہ اعمال۔ اپنی کتاب
اور لیکن جسے اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا اے کاش ! مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا۔
واما من اوتی کتبہ بشمالہ…: جن لوگوں کو بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ نہایت پریشانی میں یہ باتیں کہیں گے جو ان آیات میں ذکر ہوئی ہیں۔ یہ بائیں ہاتھ میں اعمال نامے والے لوگ کافر ہوں گے، اس کی دلیل ایمان والوں کو دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، البتہ وہ ایمان والے جو کچھ عرصہ آگ میں رہیں گے ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ انہیں اعمال نامہ آگ میں جانے سے پہلے ملے گا یا آگ سے نکلنے کے بعد، راجح یہی ہے کہ آگ سے نکلنے کے بعد ملے گا، کیونکہ اعمال نامہ ملنے کے بعد اگر انہیں آگ میں بھیجا جا رہا ہو تو ان کے منہ سے ”ھآوم اقرء و کتبۃ“ کے خوشی کے الفاظ نہیں نکل سکتے۔ (التسہیل) ”یلیتھا کانت القاضیۃ“ یعنی موت میرا کام تمام کردیتی، اور مجھے دوبارہ نہ اٹھایاج اتا۔”ما اغنی عنی مالیہ، ھلک عنی سلطنیہ“ مال اور سرداری کی حرص کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ماذنبان جائعان ارسلا فی عنم بافسد لھا من حرص المرء علی المال و الشرف لدینہ) (ترمذی، الزھد، باب ما ذئبان جائعان …: 2386 قال الالبانی صحیح)”’ و بھوکے بھیڑیے جو بھیڑ بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں ، وہ انہیں اس سے زیادہ تباہ و برباد نہیں کرتے جتنا آدمی کی مال اور سرداری کی حرص اس کے دنی کو تباہ و برباد کرتی ہے۔“ تمام عمر اٹھی دو چیزوں کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں گزار دینے کے بعد اس وقت افسوس سے کہے گا کہ میرا مال میرے کسی کام نہ آیا اور میری سرداری بھی برباد ہوگی۔”سلطنیہ“ ”سلطان“ سے مراد دلیل و حجت ہو تو مطلب یہ ہے کہ میرے سارے دلائل اور حجت بازیاں ، جن سے میں حق والوں کو لاجواب کرتا تھنا، آج بےکار ہوگئے اور سرداری و حکومت ہو تو مطلب یہ ہے کہ آج میرا سارا اقتدار ختم ہوگیا وہ جتھے اور پارٹیاں، فوج اور پولیس کے دستے، وہ اہل خانہ، وہ نوکر چا کر جن پر میرا کم چلتا تھا سب غائب ہوگئے۔ دوسروں پر اقتدار تو دور یک بات ہے اپنے ہی اعضا نے میری سرداری ماننے سے انکار کردیا ہے، بلکہ میرے خلاف شہادتیں دے رہے ہیں۔ ”سلطنیہ“ سے حجت و دلیل اور حکومت و سرداری دونوں بھی مراد ہوسکتے ہیں۔
Top