Ashraf-ul-Hawashi - Al-Ahzaab : 26
وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ
وَاَمَّا : اور رہا مَنْ اُوْتِيَ : وہ جو کوئی دیا گیا كِتٰبَهٗ : کتاب اپنی بِشِمَالِهٖ : اپنے بائیں ہاتھ میں فَيَقُوْلُ : تو وہ کہے گا يٰلَيْتَنِيْ : اے کاش کہ میں لَمْ اُوْتَ : نہ دیا جاتا كِتٰبِيَهْ : اپنا نامہ اعمال۔ اپنی کتاب
اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی آدمی کے لئے (دنیا میں) ہمیشہ4 جینا نہیں رکھا بھلا ان سے پوچھنا چاہیے) اگر تو مرجائے تو کیا یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے
4 اوپر کی آیات میں توحید اور صانع کیو جود پر ” دلائل ستہ “ بیان فرمائے جو تمام دنیوی نعمتوں کی اصل ہیں۔ اب یہاں سے بیان فرمایا کہ یہ نظام ہمیشہ قائم رہنے کے لئے نہیں، بلکہ ابتلاء و امتحان کے لئے بنایا گیا ہے۔ (کبیر)
Top