Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 17
اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ
اَللّٰهُ الَّذِيْٓ : اللہ وہ ذات ہے اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ : جس نے نازل کی کتاب حق کے ساتھ وَالْمِيْزَانَ : اور میزان کو وَمَا يُدْرِيْكَ : اور کیا چیز بتائے تجھ کو لَعَلَّ السَّاعَةَ : شاید کہ قیامت قَرِيْبٌ : قریب ہی ہو
اور جو لوگ (خدا کے بارے میں) بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہے جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے
تفسیر 16۔ ، والذین یحاجون فی اللہ، اللہ تعالیٰ کے دین کے بارے میں اس کے نبی (علیہ السلام) سے جگڑا کرتے ہیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ لوگ یہود ہیں انہوں نے کہا ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے اور ہمارے نبی (علیہ السلام) بھی تمہارے نبی سے پہلے ہیں توہم تم سے بہتر ہیں تو یہ ان کا جھگڑا ہے۔ ، من بعدمااستجیب لہ، یعنی لوگوں نے اس کو قبول کیا اور اسلام لے آئے اور آپ (علیہ السلام) کے دین میں داخل ہوگئے۔ آپ (علیہ السلام) کے معجزات ظاہرہونے کی وجہ کو قبول کیا اور اسلام لے آئے اور آپ (علیہ السلام) کے دین میں داخل ہوگئے۔ آپ (علیہ السلام) کے معجزات ظاہر ہونے کی وجہ سے ۔ ، حجتھم داحضۃ، ان کا جھگڑاباطل ہے۔ ، عند ربھم وعلیھم غضب ولھم عذاب شدید، آخرت میں۔
Top