Baseerat-e-Quran - An-Nahl : 5
وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪
وَالْاَنْعَامَ : اور چوپائے خَلَقَهَا : اس نے ان کو پیدا کیا لَكُمْ : تمہارے لیے فِيْهَا : ان میں دِفْءٌ : گرم سامان وَّمَنَافِعُ : اور فائدے (جمع) وَمِنْهَا : ان میں سے تَاْكُلُوْنَ : تم کھاتے ہو
اسی (اللہ) نے تمہارے لئے چوپائے (مویشی) پیدا کئے، ان میں سردی سے بچنے کا سامان اور بعض ان میں فائدے بھی ہیں اور ان میں سے بعض چوپایوں کو تم کھاتے بھی ہو۔
لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 9 الانعام چوپائے۔ مویشی جانور۔ دف گرمی۔ (کا سامان یعنی کھا لیں وغیرہ) جمال خوبصورتی۔ تریحون (اراحتہ) شام کو چرنے جاتے ہیں تسرحون (سرخ) ، صبح کو چرنے جاتے ہیں۔ تحمل اٹھاتا ہے اثقال (ثقل) ، بوجھ ۔ بلد شہر۔ لم تکونوا تم نہ تھے۔ بالغین (بالغنی) پہنچنے والے۔ بشق الانفس شدید جسمانی محنت سے۔ الخیل گھوڑے۔ البغال خچر الحمیر گدھے۔ لترکبوا تاکہ تم سواری کرو۔ زینۃ خوبصورتی، آرائش قصد السبیل سیدھا راستہ جائر ٹیڑھی۔ اجمعین سب کے سب، تمام تشریح : آیت نمبر 5 تا 9 توحید کے دلائل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے خیر اور شر کو پیدا کیا ہے اور انسان کے جسم و روح کا سامان مہیا کیا ہے۔ انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ خیر اور شر میں سے کسی ایک راستے کو اختیار کرلے اور اس اللہ نے انسانی فائدوں کے لئے جو طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حقیقی آخرت کی منزل پر نگاہ رکھے تاکہ اس کو صحیح راستہ نصیب ہو سکے۔ فرمایا کہ اس اللہ نے جہاں اپنی قدرت کاملہ سے چاند، سورج، ستارے، فضا میں ہوا میں، شجر و حجر کو پیدا کیا ہے وہیں ہر طرح کے جانور بھی پیدا فرمائے ہیں۔ چوپائے، مویشی، گائے، بیل، اونٹ، بکرا اور دنبہ جیسے جانور بنائے جن کے جسموں پر ایسی اون پیدا کی ہے جس سے انسان موسم کی نرمی و سختی سے بچ کر بہترین لباس تیار کرتا ہے اور راحت و سکون حاصل کرتا ہے۔ خود فائدہ حاصل کرتا ہے اور تجارت کے ذریعہ بہت سے فائدے حاصل کرتا ہے اللہ نے ان کی کھال بھی ایسی بنائی ہے جس سے بہترین لباس اور بیشمار چیزیں تیار کی جاتی ہیں۔ ان جانوروں کو تازہ گوشت کی فیکٹریاں بنا دیا، انسان جب چاہتا ہے ان کو ذبح کر کے تازہ تازہ گوشت حاصل کرتا ہے۔ ان جانوروں کو پال کر ان کے ریوڑ بناتا ہے جب وہ صبح کو اپنا رزق حاصل کرنے کی طرف جاتے ہیں یا شام کو وہ پیٹ بھر کر جھومتے، اٹھلاتے اپنی مستی میں واپس آتے ہیں تو آدمی کا سیروں خون بڑھ جاتا ہے۔ ان کی تعداد اور خوبصورتی دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور بڑیب ڑے نفع کی امید سے اس کی آنکھیں چمکنے لگتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ انسان اونچی نیچی پہاڑویں اور ان دشوار گزار راستوں پر بھاری سامان لاد کرلے جاتا ہے جہاں اس کو آساین سے پہنچنا دشوار ہوتا ہے۔ فرمایا کہ نجانے قیامت تک اور اللہ کیسی کیسی سواریاں پیدا کرے گا جن پر سوار ہو کر وہ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک سفر کرسکے گا۔ فرمایا کہ یہ توہ وہ اسباب ہیں جو اس رؤف اور رحیم نے اپنے فضل و کرم سے انسان کی دنیا سنوارنے کے لئے بنائے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس آخرت تک پہنچنے کے لئے اور صراط مستقیم پر چل کر حقیقی منزل تک پہنچنے کے لئے بہت سے ذریعے بنائے ہیں۔ اس اللہ نے خیر اور شر کو پیدا کیا اور انسان کو اختیار دیا کہ وہ ان میں سے کسی ایک راستے کو اپنا لے انجام دونوں کا بتا دیا گیا۔ انبیاء کرام یہی بتانے اور سمجھانے کے لئے تشریف لاتے ہیں۔ وہ پوری وضاحت سے اس بات کو بتا دیتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے دنیا کے انسانوں کو ایک ہی راستے پر لگا دیتا۔ کوئی دنیا میں کفر و شرک بدعات و خرافات میں مبتلا نہ ہوتا لیکن یہ اس اللہ کی مشیت اور مرضی ہے کہ اس نے انسان کے امتحان کے لئے خیر و شر کو پیدا کر کے یہ دیکھا ہے کہ کون ان میں سے خیر کا راستہ اختیار کرتا ہے اور کون شر اور شیطان کے بنائے ہوئے راستے پر چل کر اپنے لئے ابدی جہنم خریدتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ نظام ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہدایت کا راستہ تو دکھاتا ہے لیکن جبر نہیں کرتا۔ اس کی قدرت تو یہ تھی کہ وہ ساری دنیا کے لوگوں کو خیر پر چلنے والا بنا دیتا لیکن پھر اس انسان کا امتحان تو نہ ہوتا کیونکہ خیر کی پہچان تو شر سے ہوتی ہے۔ اگر دن ہی دن ہوتا اور کبھی رات نہ ہوتی تو دن کی پہچان اور قدر کیسے ہوتی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رات اور دن کے آنے جانے کو بھی ایک نشانی اور اپنی رحمت قرار دیا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Top