Al-Qurtubi - An-Nahl : 5
وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪
وَالْاَنْعَامَ : اور چوپائے خَلَقَهَا : اس نے ان کو پیدا کیا لَكُمْ : تمہارے لیے فِيْهَا : ان میں دِفْءٌ : گرم سامان وَّمَنَافِعُ : اور فائدے (جمع) وَمِنْهَا : ان میں سے تَاْكُلُوْنَ : تم کھاتے ہو
اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لئے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو کھاتے بھی ہو۔
آیت نمبر 5 اس میں تین مسائل ہیں :۔ مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : والانعام خلقھا، لکم جب اللہ تعالیٰ نے انسان کا ذکر کیا تو پھر اس کا ذکر کیا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان فرمایا اور الانعام سے مراد اونٹ، گائیں اور بکریاں ہیں۔ اور نعم اور انعام کے الفاظ اکثر اونٹوں کے لئے بولے جاتے ہیں، اور یہ مجموعہ کے لئے بولے جاتے ہیں اکیلئے بکریوں کے لئے یہ لفظ نہیں بولا جاتا۔ حضرت حسان نے کہا ہے : عفت ذات الأصابع فالجواء إلی عذراء منزلھا خلاء دیار من بنی الحسح اس قفر تعفیھا الروامس والسماء وکانت لایزال بھا أنیس خلال مروجھا نعم وشاء پس اس میں نعم سے مراد صرف اونٹ ہیں۔ اور جوہری نے کہا ہے : النعم الانعام کی واحد ہے اور اس سے مراد چرنے والا مال ہے، اور اکثر اوقات اس اسم کا اطلاق اونٹوں پر ہوتا ہے۔ فراء نے کہا ہے : یہ مذکر ہے اس کی مونث نہیں آتی، وہ کہتے ہیں : ھذا نعم وارد (یہ اونٹ آرہا ہے) ، اور اسکی جمع نعمان آتی ہے جیسا کہ حمل اور اس کا جمع حملان آتی ہے۔ اور الأنعام مذکر بھی آتا ہے اور مونث بھی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : مما فی بطونہ (النحل : 66) اور دوسرے مقام پر فرمایا : مما فی بطونھا (المومنون : 21) اور الانعام، الانسان پر معطوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، یا پھر فعل مقدر کے ساتھ منصوب ہے اور اس کی کئی وجوہ ہیں۔ مسئلہ نمبر 2: قولہ تعالیٰ : دفء، الدف کا معنی السخانۃ (گرم ہونا) ہے، اور اس سے مراد وہ ہے جس کے ساتھ گرمائش حاصل کی جاتی ہے یعنی ان کی اون سے، اونٹوں کے بالوں سے اور دیگر جانوروں کے بالوں سے یعنی لباس، لحاف اور کمبل وغیرہ (بنا کر ان سے گرمائش حاصل کی جاتی ہے) ۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : دفوھا سے ان کی نسل مراد ہے۔ واللہ اعلم۔ علامہ جوہری نے صحاح میں کہا ہے : الدفء سے مراد اونٹ کا بچے جننا، ان کا دودھ دینا اور دیگر منافع جو ان سے حاصل کئے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : لکم فیھا دفء اور حدیث میں ہے لنا من دفئھم بما سلموا بالمیثاق (ہمارے لئے ان کے اونٹوں میں سے وہ ہیں جو انہوں نے معاہدہ کے ساتھ حوالے کئے) اور الدفء کا معنی السخونۃ (گرم ہونا) بھی ہے، اس معنی میں تو کہتا ہے، وفی الرجل دفاءۃ جیسا کہ کرہ کراھۃ ہے۔ (آدمی نے گرمی محسوس کی) ۔ اور اسی طرح دنی اور دفا ہے مثلا ظمئ اور ظمأ ہے۔ اور اسم الدفء (کسرہ کے ساتھ) ہے اس سے مراد وہ شے ہے جو تجھے گرمائش پہنچائے، اور اس کی جمع الأدفاء ہے۔ آپ کہتے ہیں : ما علیہ دف (اس پر گرم لباس نہیں ہے) کیونکہ یہ اسم ہے۔ اور آپ یہ نہیں کہتے : ما علیک دفاءۃ، کیونکہ یہ مصدر ہے۔ اور آپ کہتے ہیں : اقعد فی دف ھذا الحائط ای کنہ (آپ اس دیوار کے پردے میں بیٹھیں) ۔ اور رجل دفی علی فعل جب وہ ایسا لباس پہنے جو اسے گرمی پہنچائے۔ اور اسی طرح رجل دفآن اور امرأۃ دفاء ہے۔ اور تحقیق أدفأہ الثوب (کپڑے نے اسے گرمائش دی) وتدفأ ھو بالثوب (اس نے کپڑے کے ساتھ گرمائش حاصل کی) داستدفأبہ، اور ادفأ بہ اور یہ باب افتعال ہے، یعنی اس نے وہ لباس پہنا جو اسے گرمی پہنچاتا ہے۔ اور دفؤت لیلتنا (ہماری رات گرم ہوگئی) وھو یوم دفیء (اور وہ گرم دن ہے) یہ فعیل کے وذن پر ہے۔ اور لیلۃ دفیئۃ، (گرم رات) اور اسی طرح کپڑا اور گھر ہے۔ اور المدفئۃ بہت زیادہ اونٹ، کیونکہ وہاں بعض بعض کو اپنی سانسوں کے ساتھ گرمی پہنچاتے ہیں، اور کبھی اسے مشدد پڑھا جاتا ہے اور المدفاۃ وہ اونٹ جس کے بال اور چربی بہت زیادہ ہو، یہ اصمعی سے منقول ہے۔ اور شماخ نے شعر بیان کیا ہے : وکیف یضیع صاحب مدفآت علی أثباجھن من الصقیع قولہ تعالیٰ : ومنافع حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : المنافع سے مراد ہر جانور کی نسل ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اس سے مراد سوار ہونا، بوجھ اٹھانا، دودھ، گوشت اور گھی وغیرہ ہیں۔ ومنھا تاکلون صرف کھانے کی منفعت ذکر کی گئی ہے کیونکہ یہ تمام منافع میں سے عظیم منفعت ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے تم ذبح کے وقت ان کا گوشت کھاتے ہو۔ مسئلہ نمبر 3: یہ آیت اون کا لباس پہننے پر دلیل ہے ؛ تحقیق رسول اللہ ﷺ اور آپ سے قبل دیگر انبیاء (علیہم السلام) جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وغیرہ نے اس کا لباس پہنا ہے۔ اور حدیث مغیرہ میں ہے : پس آپ ﷺ نے اپنا چہرہ مبارک دھویا اور اون کا بنا ہوا شامی جبہ پہنے ہوئے تھے اس کی آستینیں تنگ تھیں۔ الحدیث، اسے امام مسلم وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ علامہ ابن عربی نے کہا ہے : یہ متقی لوگوں کا شعار اور علامت ہے، صالحین کا لباس ہے، صحابہ کرام اور تابعین کا حسن ہے، اور زہاد اور عارفین کی پسند ہے، اور وہ نرم، سخت (کھردرا) ، عمدہ، درمیانہ اور ردی (گھٹیا) سبھی قسم کا لباس پہنتے ہیں، اور اسی کی طرف لوگوں میں سے صوفیہ کی جماعت منسوب ہے، کیونکہ اکثر ان کا لباس یہی ہوتا ہے۔ پس (صوفیہ میں) یا نسبت کی ہے اور ھا تانیث کے لئے ہے۔ ان کے بعض اشیاخ نے مجھے بیت المقدس طہرہ اللہ کے یہ شعر بیان کئے ہیں : تشاجر الناس فی الصوفی واختلفوا فیہ وظنوہ مشتقا من الصوف لوگوں نے صوفی کے بارے میں باہم جھگڑا کیا اور ان کا اس بارے میں اختلاف ہوا اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ یہ الصوف سے مشتق ہے۔ ولست انحل ھذا الاسم غیرفتی صافی فصوفی حتی سمی الصوفی اور میں یہ نام اس جو ان کے بغیر کسی کو نہیں دیتا جو خود خالص اور پاک ہوا اور اسے پاک صاف کیا گیا یہاں تک کہ اسے صوفی کا نام دے دیا گیا۔
Top