Baseerat-e-Quran - Al-Muminoon : 93
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ
قُلْ : فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اِمَّا تُرِيَنِّيْ : اگر تو مجھے دکھا دے مَا يُوْعَدُوْنَ : جو ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اے میرے پروردگار جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا گیا ہے۔
لغات القرآن : آیت نمبر 93 تا 118 : ترینی (مجھے دکھائیں) ‘ لاتجعلنی ( مجھے نہ بنائے گا) ‘ ادفع ( دورکردے) ‘ احسن ( بہترین) ‘ ھمزات (وسوسے) ‘ ترکت ( میں نے چھوڑ دیا) ‘ یحضرون (وہ حاضر ہوتے ہیں) برزخ (آڑ۔ پڑدے کے پیچھے) انساب (نسب۔ رشتے ناتے) ‘ ثقلت (بھاری ہونا) ‘ خفت (ہلکی ہوگی) موازین (وزن) خسروا ( نقصان کیا) ‘ تلفح (جھلس دی گئی) ‘ کالحون (بگڑے چہرے) ‘ شقوۃ (بدنصیبی۔ بد بختی) ‘ اخسوا (دور ہوجائو) ‘ سخریا (مذاق) ‘ تضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں) ‘ العادین (شمار کرنے والے۔ گننے والے) ‘ عبثا (فضول) خیرالراحمین ( بہترین رحم کرنے والا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 93 تا 118 : جب اللہ کے نبی اور رسول اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچاتے ہیں تو خوش نصیب اس کو قبول کرتے ہیں اور بدنصیب لوگ اس کا انکار کرکے کفر و شرک میں آگ بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اپنے آپ کو جہنم اور عذاب الہی کا مستحق بنا لیے یہں۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو سخت سزادیتا ہے۔ کفار کے لئے یہ عذاب کا فیصلہ کبھی تو پیغمبروں کی زندگی میں ان کو دیکھا دیا جاتا ہے اور کبھی ان کے بعد۔ رسول اللہ ﷺ نے جب اللہ کے دین اور اس ابدی پیغام کو پہنچانے کی کوشش کی جس میں کفار مکہ اور آنے والی نسلوں کی فلاح اور کامیابی پوشیدہ تھی تو وہ انکار کرکے اللہ کی رحمت سے دور ہوتے چلے گئے۔ نبی کریم ﷺ کے صدقے اب اس امت پر وہ عذاب تو نہیں آئیں گے جو گذشتہ امتوں پر آئے لیکن سزا کے طور پر بیماریوں ‘ طوفانو ‘ زلزلوں اور اپس کے اختلافات اور جھگڑوں کے عذاب آتے رہیں گے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے (پوری امت سے ) کہا جارہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیجئے کہ اے میرے پروردگار آپ نے ان کافروں سے جس عذاب کا وعدہ کیا ہے اگر وہ مجھے اسی دنیا میں دکھادیں تو وہ عذاب اس طرح آئے کہ میں بھی دیکھوں لیکن مجھے ظالموں میں شریک نہ کیجئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمیں اس بات پر پوری قدرت حاصل ہے کہ اگر ہم چاہیں تو کفارو مشرکین کے لئے جس عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے وہ آپ کو بھی دکھادیں لیکن اللہ نے ان کے لئے فیصلے کا ایک دن مقرر کر رکھا ہے۔ اس فیصلے کے دن تک بہر حال آپ ان کے ساتھ ہر برائی کا بدلہ بھلائی اور نیکی سے دیتے رہیے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان کے کرتوت کیا ہیں اور وہ کس طرح شیطان کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ آپ بھی دعا کرتے رہیے کہ الہی میں شیطان کے وسوسوں اور شرارتوں سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں او اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔ کفار و مشرکین کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جب ان میں سے کسی کو موت آئے گی تو وہ شرمندگی سے یہ کہیں گے کہ ہمیں تو پھر اسی دنیا میں بھیج دیجئے جس کو ہم چھوڑ کر آئے ہیں تاکہ ہم وہاں جا کر خوب نیک اور بھلے کام کریں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ کیونکہ ان کی یہ باتیں ہی باتیں ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان کے اور دنیا کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی گئی ہے جو اسی وقت ہٹے گی جب صور پھونکا جائے گا اور اولین و آخرین کے تمام لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کر اس میدان حشر میں جمع ہوں گے جہاں سارے رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے وہاں کوئی کسی کو نہیں پوچھے گا۔ ہر شخص اپنے اعمال لے کر حاضر ہوگا ۔ اچھے یا برے۔ جس کے اعمال کے وزن بھاری ہوں گے اس دن وہی کامیاب و بامراد ہوں گے لیکن جن کے اعمال ہلکے اور بےوزن ہوں گے ان کو اس بات پر بڑا افسوس ہوگا۔ کہ انہوں نے اپنا بہت بڑا نقصان کرلیا ہے اور ان کو جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جھونک دیا جائے گا۔ وہ آگ ان کے چہرے جھلس دے گی اور ان کے چہروں کو بگاڑ کر رکھ دے گی۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جب میری آیات تمہیں سنائی جاتی تھیں اور برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا تو تم ان آیات کو جھٹلایا کرتے تھے۔ وہ کہیں گے کہ واقعی یہ ہماری بد نصیبی ہے اور قدقسمتی نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا تھا اور ہم بھٹک گئے تھے۔ درخواست کریں گے الہیٰ ! اب ہمیں اس جہنم سے نجات دید دیجئے دنیا میں لوٹا دیجئے اگر ہم پھر بھی ایسا کریں تو بیشک ہم سے بڑا بےانصاف کوئی نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم اسی طح ذلیل و خوار پڑے رہو اور آج مجھ سے بات نہ کرو۔ ارشاد فرمایا جائے گا کہ میرے بندوں میں سے وہ بھی ایک جماعت تھی جو ہر وقت اپنے گناہوں کی معافی مانگتی رہتی تھی اور کہتی تھی کہ الہی ہم پر رحم فرمائیے کیونکہ آپ سے بڑا رحم کرنے والا کون ہے ؟ کفار سے فرمایا جائے گا کہ تم نے میرے بندوں کی اس جماعت کو مذاق کا نشانہ بنا لیا تھا اور ہماری یاد سے تم مسلسل غفلت برت رہے تھے اور ان نیک لوگوں پر تم ہنستے تھے۔ آج کے دن ہم نے ان کو ان کے صبرو برداشت کا بدلہ عطا کردیا اور آج وہ کامیاب و بامراد ہیں۔ فرمایا جائے گا کہ اچھا تو یہ بتائو کہ تم دنیا میں کتنے عرصے تک رہے ہو وہ کہیں گے ہمیں تو ایسا معلوم ہوا جیسے دن یا آدھے دن تک رہے ہوں گے۔ اس کا صحیح اندازہ تو انہیں ہوگا۔ جو اس کو شمار کررہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ واقعی دنیا کی زندگی بڑی مختصر ہے اور تم اسی مختصر عرصے میں رہے ہو۔ لیکن کیا اچھا ہوتا کہ اس تھوڑی سی مدت میں کبھی تم اس بات پر غور کرلیتے کہ تمہارے کفر و شرک اور گناہوں کا انجام کیا ہوگا۔ فرمایا جائے گا کہ تم نے تو یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم نے تمہیں یوں ہی کھیل کود کے طور پر بنارکھا ہے اور تمہیں ہماری طرف لوٹ کر نہیں آنا ہے۔ اگر تمہیں اس کا احساس ہوتا تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا ۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے ‘ سچا بادشاہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک و مختار ہے۔ جو لوگ ایسے با اختیار معبود کو چھوڑ کر بےبس ومجبور اور بےسند معبودوں کو پکارتے ہیں وہ ناکام ترین لوگ ہیں اور کافروں کو کبھی فلاح و کامیابی نصیب نہ ہوگی۔ آخری میں نبی کریم ﷺ (اور آپ کی امت کو) خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ گناہوں کا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا صرف اللہ ہی ہے لہذا تم ہمیشہ یہی کہو کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہ معاف کردیجئے۔ اور ہم پر رحم کیجئے کیونکہ سب رحم کرنے والوں میں آپ ہی سب سے بڑھ کر رحم و کرم کرنے والے ہیں۔ اس مضمون پر سورة مومنون کی ختم فرمایا گیا ہے۔ اس کی ابتداء اس جملے سے کی گئی تھی کہ اہل ایمان ہی کامیاب و بامراد ہیں اور ختم اس جملے پر کیا گیا ہے کہ جو اللہ کے منکر ہیں ان کو کبھی فلاح و کامیابی نصیب نہ ہوگی۔ اگر انہوں نے توبہ کرلی اور اپنے حقیقی معبود کو پہچان کر اس کی عبادت و بندگی میں لگ گئے تو وہ اللہ اتنا مہربان ہے کہ وہ انسانوں کے تمام گناہوں کو معاف کرکے رحم و کرم کرنے والا ہے۔ الحمد للہ سورة المومنون کا ترجمہ ‘ تشریح مکمل ہوا۔ واخر و دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
Top