Mazhar-ul-Quran - Al-Muminoon : 93
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ
قُلْ : فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اِمَّا تُرِيَنِّيْ : اگر تو مجھے دکھا دے مَا يُوْعَدُوْنَ : جو ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
تم عرض کرو کہ اے میرے رب (ف 1) جس (عذاب) کا ان کافروں کو وعدہ دیا جا ا ہے اگر تو مجھے دکھائے
شیطان کے وسوسہ سے غصہ کے آنے کا ذکر اور اس کا حل۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اگر یہ مکہ کے مشرک شرک سے باز نہ آویں گے تو جس طرح ان لوگوں سے عذاب کے نازل کرنے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے ، اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اس وعدہ کے ظہور پر قادر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس واسطے مقررہ کے آتے ہی ان مشرکوں پر ایک نہ ایک دن وہ عذاب ضرور آوے گا، اس عذاب کے آنے کو ضروری جان کر اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ یا اللہ تو اپنی قدرت سے مجھ کو لائق عذاب قوم میں نہ رکھیو، آگے فرمایا ہجرت کا وقت آنے تک یہ مشرک کچھ ایذا دیویں تو اس کو درگذر فرمائیں ڈال دینا چاہیے اور اس ضعف اسلام کے زمانہ میں شیطان کی چھیڑ اور اس کے غلبہ سے اللہ کی پناہ کی دعا مانگنی چاہیے کیونکہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ اس ضعف اسلام کے زمانے میں مسلمانوں اور مشرکوں میں لڑائی کرادیوے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ابھی اس لڑائی کا وقت نہیں آیا، جس سے اسلام کا غلبہ کا نتیجہ نکلے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ غصہ کے وقت اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، پڑھے تو غصہ جاتارہتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ غصہ شیطان کے وسوسہ سے آتا ہے اور اللہ سے پناہ مانگتے ہی غصہ کا اثر جاتا رہتا ہے۔
Top