Tadabbur-e-Quran - Al-Muminoon : 93
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ
قُلْ : فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اِمَّا تُرِيَنِّيْ : اگر تو مجھے دکھا دے مَا يُوْعَدُوْنَ : جو ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
دعا کرو کہ اے میرے پر ودگار ! اگر تو مجھے وہ عذاب دکھائے جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے
آگے کا مضمون ………… آیات 118-93 آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جس میں ﷺ کو بشارت دی گئی ہے کہ اب فتح و نصرت کا وقت قریب ہے۔ اہل ایمان کامیاب و فتحمند اور آپ کے مخالفین دنیا و آخرت دونوں کی رسوائی سے دوچار ہوں گے تو کچھ عرصہ ان کی شرارتوں س درگزر کرو۔ فیصلہ کی گھڑی سر پر آگئی ہے۔ جس مدت کو یہ بہت طویل سمجھ رہے ہیں اور جس کے دھوکے میں اپنی شرارتوں میں دلیر ہوتے جا رہے ہیں، انجام سامنے آجانے کے بعد محسوس کریں گے کہ وہ پلک جھپکتے گزر گئی اور اس وقت اپنی بدبختی پر اپنے سرپیٹیں گے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ آیت 94-93 وعدہ عذاب کے باب میں کو بشارت رسول کی تکذیب کی صورت میں قوم پر جو عذاب آیا کرتا ہے، قریش کے متکبرین کو جب اس سے ڈرایا جاتا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کرتے کہ اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لائو۔ ان کے اس مطالبہ کا جواب قرآن نے جگہ جگہ دیا ہے۔ مثلاً سورة یونس میں ہے۔ واما نرینک بعض الذی نعدھم اونتوافینک فالینا موجعھر 46 (اور یا تو ہم تمہیں دکھاویں گے اس عذاب کا کچھ حصہ یا تم کو وفات دیں گے اور ان کی واپسی ہماری ہی طرف ہوگی) اسی طرح سورة وعد میں فرمایا ہے۔ وانا ما نرینک بعض الذی نعدھم اونتوفینک فانما علیک البلغ وعلینا الحساب 40 (اور یا تو ہم اس عذاب کا کچھ حصہ تم کو دکھا دیں گے جس سے ان کو آگاہ کر رہے ہیں یا تم کو وفات دیں گے اور تمہارے اوپر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے، محاسبہ ہمارے ذمہ ہے) بعینیہ یہی مضمون سورة غافر کی آیت 77 میں بھی ہے۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک مکذبین کے لئے وعدہ عذاب کا تعلق ہے وہ تو قطعی ہے۔ رہا اس کے ظہور کا وقت کہ یہ پیغمبر ﷺ کی زندگی ہی میں ظہور میں آئے گا یا آپ ﷺ کی وفات کے بعد تو اس سوال کے جواب کو ان آیات میں مبہم چھوڑ دیا گیا تھا لیکن آیت زیر بحث اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ پیغمبر ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کے لئے غلبہ تصرف کے ظہور کا وقت اب بالکل قریب ہے۔ یہ بات آپ ﷺ کی حیات مبارک ہی میں واقع ہوگی اور اس کا لازمی نتیجہ آپ ﷺ کے دشمنوں کی ہلاکت بھی ہے۔ یہ اشارہ یوں نکلتا ہے کہ اس میں نبی ﷺ کی یہ دعا تلقین کی گئی ہے کہ دا کرو کہ اے رب اگر تو اس عذاب کو میری ندزندگی ہی میں ان ظالموں پر لانے والا ہے جس سے ان کو ڈرایا جاتا رہا ہے تو مجھے اپنے دامن رحمت کے نیچے رکھیو، ان ظالموں میں شامل نہ کیجیو۔ اس دعا میں نبی ﷺ کے لئے جو بشارت اور آپ ﷺ کے مکذبین کے لئے جو آخری انذار ہے جو بالکل واضح ہے اور یہاں مراد واقعہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کے اعدا آپ کی زندگی ہی میں پامال ہوگئے اور آپ جب اس دنیا سے تشریف لے گئے تو جآء الحق وزھق الباطل کا اعلان کر کے تشریف لے گئے۔
Top