Urwatul-Wusqaa - Aal-i-Imraan : 148
كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ
كُلُّ : ہر نَفْسٍ : جان ذَآئِقَةُ : چکھنا الْمَوْتِ : موت وَاِنَّمَا : اور بیشک تُوَفَّوْنَ : پورے پورے ملیں گے اُجُوْرَكُمْ : تمہارے اجر يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن فَمَنْ : پھر جو زُحْزِحَ : دور کیا گیا عَنِ : سے النَّارِ : دوزخ وَاُدْخِلَ : اور داخل کیا گیا الْجَنَّةَ : جنت فَقَدْ فَازَ : پس مراد کو پہنچا وَمَا : اور نہیں الْحَيٰوةُ : زندگی الدُّنْيَآ : دنیا اِلَّا : سوائے مَتَاعُ : سودا لْغُرُوْرِ : دھوکہ
تو اللہ نے بھی انہیں دونوں جہانوں میں اجر عطا فرمایا دنیا کا بھی ثواب دیا اور آخرت کا بھی بہتر ثواب دیا اور اللہ تو انہی لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو نیک کردار ہوتے ہیں
جن کو دین و دنیا میں کامیاب ہونے کی ضمانت دے دی گئی : 211: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوشش کرتے ہیں۔ یعنی جہاد کرتے ہیں اور دنیا کو دین پر قربان کردیتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ دنیا کا ثواب بھی دیتا ہے اور آخرت کا ثواب تو ان کو نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا ملتا ہے۔ بس ان لوگوں کو زیر نظر آیت میں ” محسنین “ کہا اور احسان کے معنی حدیث شریف میں آئے ہیں کہ ” تعبد اللہ کانک تراہ “ کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ اور جو شخص اپنے فوائد دنیوی اللہ کی راہ میں قربان کردیتا ہے یا قربان کر دیھے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ وہ واقعی احسان کی اس تعریف کے زمرہ میں آتا ہے۔
Top