Dure-Mansoor - Ash-Shura : 23
ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ
ذٰلِكَ الَّذِيْ : یہ وہ چیز ہے يُبَشِّرُ اللّٰهُ : خوش خبری دیتا ہے اللہ عِبَادَهُ : اپنے ان بندوں کو الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : وہ جو ایمان لائے وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور انہوں نے عمل کیے اچھے ۭ قُلْ : کہہ دیجئے لَّآ اَسْئَلُكُمْ : نہیں میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ اَجْرًا : اس پر کوئی اجر اِلَّا الْمَوَدَّةَ : سوائے محبت کے فِي الْقُرْبٰى : قرابت داری میں وَمَنْ يَّقْتَرِفْ : اور جو کوئی کمائے گا حَسَنَةً : کوئی نیکی نَّزِدْ لَهٗ : ہم اضافہ کردیں گے اس کے لیے فِيْهَا حُسْنًا : اس میں خوبی اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ تعالیٰ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ : بخشش فرمانے والا ہے، قدردان ہے
یہ وہی ہے جس کی بشارت اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے، آپ فرما دیجئے کہ میں اس پر تم سے کسی عوض کا سوال نہیں کرتا بجز رشتہ داری کی محبت کے اور جو کوئی شخص کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں زیادہ خوبی کردیں گے اور بلاشبہ اللہ بخشنے والا ہے قدردان ہے
5:۔ سعید بن منصور وابن سعد بن عبد بن حمید (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے دلائل میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ اکثر لوگ ہمارے پاس اس آیت (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ کے بارے میں پوچھنے کیلئے آئے میں نے ابن عباس کو دیکھا کہ ہم آپ سے اس بارے میں پوچھتے ہیں تو ابن عباس ؓ نے لکھا کہ رسول اللہ ﷺ قریش میں نسب کے اعتبار سے درمیان میں تھے قریش کا کوئی خاندان ایسا نہیں تھا مگر اس کا آپ کی ذات سے والادت کا تعلق تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا “ آپ فرمادیجئے کہ میں تم سے اس پر کسی معاوضہ کا سوال نہیں کرتا ینی اس دعوت پر کہ جس کی طرف میں تم کو بلاتا ہوں (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “ (مگر رشتہ داری کی دوستی) یعنی تم سے محبت کرو میری قرابت کی وجہ سے اور تم اس کے ذریعہ میری حفاظت کرو۔ 6:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) نے علی کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “ سے مراد ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی رشتہ داری سارے قریش سے تھی، جب انہوں نے آپ کو جھٹلادیا اور آپ سے بیعت کرنے پر انکار کردیا تو فرمایا اے (میری) قوم جب تم نے مجھ سے بیعت کرنے پر انکار کردیا تو تم اپنے اندر میری رشتہ داری کی حفاظت کرو، اور تمہارے علاوہ عرب میں سے ایسا کوئی بھی نہیں جو تمہاری نسبت میری حفاظت اور میری مدد کا حق رکھتا ہوں۔ 7:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ضحاک کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی اور مشرکین رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی ” قل “ یعنی ان سے فرمادیجئے اے محمد ﷺ (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ “ یعنی میں تم سے سوال نہیں کرتا اس دعوت پر جس کی طرف میں تم کو بلاتا ہوں (آیت ) ” اجرا “ یعنی دنیا کے کسی عوض کا (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “ مگر یہ کہ مجھے تم سے رشتہ داری ہے اس کی تم حفاظت کرو، فرمایا موت یعنی دوسری یہ آپ کے رشتے داری میں آپ کے لئے خاص ہے جب آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اس بات کو آپ محبوب رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو انبیاء کے ساتھ ملادے۔ تو فرمایا (آیت ) ” لا اسئلکم علیہ اجرا (میں تم سے کسی معاوضہ کا سوال نہیں کرتا) وہ (سب کچھ) تمہارے لئے ہے (آیت ) ” ان اجری الا علی اللہ “ (میرا معاوضہ اللہ کے ذمہ ہے) میرا اجر یعنی آخرت کا ثواب اور کرامت اللہ کے ذمہ ہے۔ جیسے نوح (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت ) ” وما اسئلکم علیہ اجرا ان اجری الا علی رب العلمین (180) (سورۃ الشعراء) (میں تم سے کسی معاوضہ کا سوال نہیں کرتا میرا معاوضہ رب العالمین کے ذمہ ہے) اور جیسے کہا ھود نے صالح (علیہ السلام) اور شعیب (علیہ السلام) نے انہوں نے اجر کو استثنی نہیں کیا۔ جیسے نبی کریم ﷺ نے استثنی فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کو قبول نہ کیا تو وہ منسوخ ہیں۔ 8:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) وحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے مجاہد (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں یہ روایت نقل کی کہ (آیت ) ” قل لا اسئلکم “ سے مراد ہے (فرمادیجئے میں تم سے سوال نہیں کرتا) یعنی ان باتوں پر جو میں تمہارے پاس لاتا ہوں دلائل اور ہدایت میں سے (آیت ) ” اجرا “ (کسی معاوضے کا) مگر یہ کہ تم اللہ سے محبت کرو اور تم اس کی طرف تقرب حاصل کرو اس کی اطاعت کے ذریعہ۔ 9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ کے بارے میں فرمایا کہ (تم میری تابعداری کرو اور تم میری تصدیق کرو اور میرے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن مردویہ (رح) نے العوی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ محمد ﷺ نے قریش سے فرمایا میں تم سے تمہارے مالوں میں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرتا لیکن میں تم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ مجھ سے محبت کرو اس قرابت کی وجہ سے جو میرے اور تمہارے درمیان ہے کیونکہ تم میری قوم ہو اور میں زیادہ حقدار ہوں کہ تم میری اطاعت کرو اور میری دعوت قبول کرو۔ 11:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن المبارک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “ سے مراد ہے تم میری رشتہ داری کی حفاظت کرو۔ 12:۔ ابن مردویہ (رح) نے عکرمہ ؓ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ قریش میں کوئی خاندان ایسا نہیں جس میں رسول اللہ ﷺ نے کے خاندان کی ماں نہ ہو، یہاں تک کہ قبیلہ بنو ھذیل میں سے آپ کی ماں تھی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا “۔ (فرما دیجئے میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا) مگر یہ کہ تم میری حفاظت کرو میری رشتہ داری کی وجہ سے اگر تم مجھ کو نہ جھٹلاؤ تو مجھ کو تکلیف تو نہ دو ۔ 13:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے مقسم کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انصار نے کہا ہم نے یہ کیا ہم نے یہ کیا انہوں نے فخر کیا تو ابن عباس ؓ نے فرمایا ہمارے لئے تم پر فضیلت حاصل ہے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ ان کی مجالس میں تشریف لائے اور فرمایا اے انصار کی جماعت کیا تم ذلیل نہیں تھے تم کو اللہ نے عزت دی انہوں نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ ﷺ فرمایا تم مجھ کو جواب نہیں دوگے تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ آپ کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ آپ کی قوم نے آپ کو گھر سے نکالا تھا تو ہم نے آپ کو ٹھکانہ دیا کیا انہوں نے آپ کو نہیں جھٹلایا تھا ہم نے آپ کی تصدیق کی کیا انہوں نے آپ کو بےمددگار نہیں چھوڑا تھا ہم نے آپ کی مدد کی نبی کریم ﷺ لگاتار یہ باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ انصار گھٹنوں کے بل کھڑے ہوگئے اور عرض کیا ہمارے اموال اور جو کچھ ہمارے ہاتھوں میں ہے اللہ اور اس لے رسول کیلئے ہے تو یہ (آیت) نازل ہوئی ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ 14:۔ طبرانی (رح) نے الاوسط اور ابن مردویہ (رح) نے (ضعیف سند کے ساتھ) سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ انصار نے آپس میں کہا اگر ہم رسول اللہ ﷺ کے لئے مال جمع کردیتے تو ہاتھ کشادہ ہوجاتا۔ اور آپ اور آپ کے مال کے درمیان کوئی حائل نہ ہوتا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے ارادہ کیا کہ ہم آپ کے لئے اپنے مالوں میں جمع کردیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ (اس آیت کے نازل ہونے کے بعد وہ لوگ ایک دوسرے کے پیچھے نکلے، اور انہوں نے کہا کہ جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ آپ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا بعض نے کہا کہ آپ نے یہ فرمایا تاکہ ہم اہل بیت کی حفاظت کریں اور ہم ان کی مدد کریں تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی ” ام یقولون افتری علی اللہ کذبا “ (کیا وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں) سے لے کر (آیت) ” وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ “ تک (اور وہی ذات اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتی ہے) تو اللہ کے ساتھ توبہ کا حکم دیا اللہ تعالیٰ نے اس قول تک (آیت ) ” ویستجیب الذین امنوا وعملوا الصلحت ویزیدھم من فضلہ “ (اور اللہ تعالیٰ لوگوں کی عبادت یا دعا) قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ ثواب دیتا ہے اور وہ لوگ تھے جنہوں نے یہ کہا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کیطرف توبہ کریں اور اس سے استغفار کریں۔ 15:۔ ابو نعیم والدیلمی (رح) نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ (یعنی تم میری حفاظت کرو، میرے گھروالوں کے بارے میں اور ان سے میری وجہ سے محبت رکھو ، 16:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) بسند ضعیف نے سعید بن جبیر ؓ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کی قرابت کون سی ہے کہ جن سے محبت کرنا واجب ہے ؟: آپ نے فرمایا علی، فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے ؓ ۔ 17:۔ سعید بن منصور (رح) نے سعید ؓ بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “ میں قربی سے مراد رسول اللہ ﷺ کے قربی (رشتہ دار) 18:۔ ابن جریر (رح) نے ابوالدیلم (رح) سے روایت کیا کہ علی بن حسین ؓ کو قید کرکے لایا گیا اور دمشق کی سیڑھیوں پر کھڑا کیا گیا (پھر) اہل شام میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا ساری تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تم کو قتل کیا اور تم کو جڑ سے اکھاڑ دیا علی بن حسین ؓ نے اس سے فرمایا کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ پھر اس نے پوچھا تم وہی ہو فرمایا ہاں ! 19:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن یقترف حسنۃ “ (اور جو شخص کوئی نیکی کرے گا) یعنی محمد ﷺ کی آل سے محبت کرے گا۔ 20:۔ احمد و ترمذی (وصححہ) و نسائی اور حاکم نے مطلب بن ربیعہ (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عباس ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور عرض کیا ہم نکلتے ہیں ہیں تو ہم قریش کو باتیں کرتے ہوئے پاتے ہیں جب وہ ہم کو دیکھتے ہیں تو خاموش ہوجاتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ سخت غصہ ہوئے اور آپ کی آنکھوں کے درمیان پسینہ بہنے لگا پھر فرمایا اللہ کی قسم کہ کسی مسلمان کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ وہ تم سے محبت نہ کرے اللہ اور میرے رشتہ کی وجہ سے۔ 21:۔ مسلم و ترمذی و نسائی نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تم کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں۔ دوچیزوں کو مضبوطی سے تھامنے کی تاکید : 22:۔ ترمذی (وحسنہ) وابن الانباری نے المصاحف میں زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہارے اندر وہ چیز چھوڑنے والا ہوں اگر تم اس کو (مضبوطی کے ساتھ) پکڑو گے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے ان میں سے ایک بڑی ہے دوسری سے ایک اللہ کی کتاب ہے جو لمبی رسی ہے آسمان سے زمین تک اور میری اولاد اور میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں چیزیں ہرگز جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ دونوں میرے پاس مؤمن پر آئیں گے سودیکھو تم میرے بعد کس طرح ان کی نیابت کرتے ہو۔ 23:۔ ترمذی (وحسنہ) و طبرانی (رح) وحاکم (رح) اور بیہقی (رح) نے الشعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے محبت کرو جب وہ تم کو غذا دیتا ہے اپنی نعمتوں میں سے اور مجھ سے محبت کرو اللہ کی محبت کی وجہ سے اور میرے گھروالوں سے محبت کرو میری محبت کی وجہ سے۔ 24:۔ بخاری نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ محمد ﷺ کا خیال رکھو آپ کے اہل بیت کے بارے میں۔ 25:۔ ابن عدی نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو ہم سے اہل بیت کے بارے میں بغض رکھتا ہے تو وہ منافق ہے۔ 26:۔ طبرانی (رح) نے حسن بن علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی ہم سے بغض نہیں رکھتا اور کوئی ہم سے حسد نہیں کرتا مگر قیامت کے دن اس کے لئے آگ کے کوڑوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔ 27:۔ احمد، ابن حبان (رح) اور حاکم (رح) نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کوئی آدمی ہمارے اہل بیت سے بغض نہیں رکھتا مگر اللہ تعالیٰ اس کو جہنم میں داخل کردیں گے۔ 28:۔ طبرانی (رح) وخطیب (رح) نے ابوالضحی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عباس ؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا بلاشبہ آپ نے ہمارے لئے کینہ کو چھوڑ دیا ہے جب سے آپ نے یہ کام کیا ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ لوگ خیر کو یا ایمان کو نہیں پہنچیں گے یہاں تک کہ تم سے محبت کریں گے۔ 29:۔ خطیب (رح) نے ابوالضحی کے طریق سے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ کہ عباس بن عبد المطلب رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! البتہ ہم اپنی قوم کے لوگوں میں کینہ کے آثار پاتے ہیں ان واقعات کی وجہ سے جو ہماری طرف سے ان کے ساتھ ہوئے آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ! بلاشبہ وہ ہرگز خیر کو نہ پہنچیں گے یہاں تک کہ تم سے محبت نہ کریں میری رشتہ داری کی وجہ سے بنو سلیم تو میری شفاعت کی امید رکھتی اور بنو عبدالمطلب اس کی امید نہ رکھیں۔ 30:۔ ابن نجار نے اپنی تاریخ میں حسن بن علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر چیز کی بنیاد ہوتی ہے اور اسلام کی بنیاد رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کرام کی محبت اور آپ کے اہل بیت کی محبت ہے۔ 31:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ سے مراد ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ لائق نہیں ہے کہ وہ ان سے اس قرآن پر کسی معاوضے کا سوال کریں لیکن ان کو حکم فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں، اس کی اطاعت اور اس کی کتاب کی محبت کے ساتھ۔ 32:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں حسن بصری (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ ہر وہ آدمی جس نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرکے اللہ کا قرب حاصل کیا تو اس بندے کی محبت اللہ پر واجب ہوگئی۔ 33:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “ کے بارے میں روایت کیا اس سے مراد ہے کہ نیک عمل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا۔ 34:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اجداد میں سے دس عورتیں مشرکات میں سے تھیں، جب آپ ان کے پاس سے گزرتے تو وہ لوگ آپ کو تکلیف پہنچاتے (اس طرح پر) کہ ان کی خامیاں بیان کرتے اور ان کو برا بھلا کہتے تو فرمایا (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “ یعنی مجھ کو تکلیف نہ دو میرے رشتہ داروں کے معا ملہ میں۔ 35:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان اللہ غفور شکور “ میں غفور سے مراد ہے گناہوں کو بخشنے والا اور شکور سے مراد ہے نیکیوں کی قدر دانی کرنے والا کہ اس پر ان کی کئی گنا اجر عطا فرماتا ہے۔ 36:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فان یشا اللہ یختم علی قلبک “ (اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کے دل پر مہر لگا دیتے) یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو آپ کو بھلا دیتے جو کچھ آپ کو دیا ہے۔ (واللہ تعالیٰ اعلم ) ۔ 37:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ “ (اور وہ ذات ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے) کے بارے میں روایت کیا کہ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تم میں سے اپنے بندے کی توبہ سے اس آدمی سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنے گمشدہ سامان کو پالیتا ہے اس جگہ میں جس میں وہ خوف کرتا تھا کہ وہ اس سے مرجائے گا۔ 38:۔ مسلم والتزمذی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس آدمی سے زیادہ خوش ہوتے ہوتے ہیں جو اپنا گمشدہ سامان پالیتا ہے۔ 39:۔ بخاری ومسلم اور ترمذی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی بندے کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتے ہیں جب وہ بندہ کسی ہلاکت کی جگہ میں اتر جائے اور اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو جس پر اس کا کھانا اور پینا لدا ہوا ہو۔ اس نے اپنا سر رکھا اور سوگیا جب وہ جاگا تو اس کی سواری جاچکی تھی اس نے سواری کو تلاش کیا (وہ نہ ملی) یہ ان تک کہ جب اس پر گرمی اور پیاس سخت ہوئی اس نے کہا کہ میں اپنی جگہ پر لوٹ جاؤں جہاں میں پہلے تھا اور وہاں سوجاؤں گا یہاں تک کہ مرجاؤں وہ لوٹا اور سوگیا پھر اس نے سراٹھایا تو اچانک اس کی سواری اس کے پاس کھڑی تھی جس پر اس کا کھانا اور پینا بھی لدا ہوا تھا اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ خوش ہوتے ہیں مؤمن بندے کی توبہ سے جتنا یہ شخص اپنی سواری اور زاد راہ کے ملنے سے خوش ہوا۔ 40:۔ عبدالرزاق (رح) و سعید بن منصور (رح) وابن سعد عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اسے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو ایک عورت سے بدکاری کرتا ہے پھر اس سے نکاح کرلیتا ہے انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں پھر یہ (آیت) پڑھی ” وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ “ 41:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عتبہ بن الولید (رح) سے روایت کیا کہ مجھے بعض رہاویین نے بیان کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے رحمن کے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) سے سنا کہ وہ فرما رہے تھے یا کریم العفو جبرائیل (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آپ جانتے ہیں کریم العفو کیا ہے ؟ فرمایا : اے جبرئیل (علیہ السلام) انہیں جانتا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ برائی کو مٹادیتے ہیں اور اس کے بدلے میں ایک نیکی لکھ دیتے ہیں۔ 42:۔ سعید بن منصور و طبرانی (رح) نے أخنس (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو اس لفظ کی قرأت میں شک ہوا کہ ’ ویعلم ما تفعلون یایفعلون “ تو ہم ابن مسعود (رح) کے پاس آئے انہوں نے فرمایا (آیت) ” تفعلون “ ہے۔ 43:۔ عبد بن حمید (رح) نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ’ ’ حم عسق “ میں (آیت ) ” ویعلم ما تفعلون “ تاء کے ساتھ پڑھا۔ 44:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (رح) (وصححۃ) نے سلمہ بن سبرہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو معاذ ؓ نے خطبہ دیا اور فرمایا تم ایمان والے ہو اور تم جنت والے ہو اللہ کی قسم میں امید رکھتا ہوں کہ فارس اور روم میں سے جن لوگوں کو تم پاتے ہو وہ جنتی ہیں کیونکہ انمیں سے کوئی خیر کا کم کرتا ہے تو دوسرا کہتا ہے تو نے بہت اچھا کیا اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت دے، تو نے اچھا کیا اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” ویستجیب الذین امنوا وعملوا الصلحت ویزیدھم من فضلہ “ (اور ان لوگوں (عبادت یا دعا قبول کرنا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کئے اور انکو اپنے فضل سے اور زیادہ ثواب دیتا ہے) 45:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ کے طریق سے ابوابراہیم للخمی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویزیدھم من فضلہ “ سے مراد ہے کہ وہ سفارش کرتے ہیں اپنے بھائیوں کے بھائیوں کے بارے میں۔
Top