Mazhar-ul-Quran - Ash-Shura : 23
ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ
ذٰلِكَ الَّذِيْ : یہ وہ چیز ہے يُبَشِّرُ اللّٰهُ : خوش خبری دیتا ہے اللہ عِبَادَهُ : اپنے ان بندوں کو الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : وہ جو ایمان لائے وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور انہوں نے عمل کیے اچھے ۭ قُلْ : کہہ دیجئے لَّآ اَسْئَلُكُمْ : نہیں میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ اَجْرًا : اس پر کوئی اجر اِلَّا الْمَوَدَّةَ : سوائے محبت کے فِي الْقُرْبٰى : قرابت داری میں وَمَنْ يَّقْتَرِفْ : اور جو کوئی کمائے گا حَسَنَةً : کوئی نیکی نَّزِدْ لَهٗ : ہم اضافہ کردیں گے اس کے لیے فِيْهَا حُسْنًا : اس میں خوبی اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ تعالیٰ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ : بخشش فرمانے والا ہے، قدردان ہے
یہ وہ ثواب ہے کہ جس کی اللہ اپنے ان بندوں کو خوشخبردی دیتا ہے جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے ، تم فرماؤ میں1 اس تبلیغ قرآن پر تم سے کچھ مزدوری طلب نہیں کرتا مگر (تم کو) قرابت والوں کی محبت کرنی چاہیے ار جو کوئی نیکی کرے ہم اس کے لیے اسمیں اور خوبی بڑھائیں گے، بیشک اللہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے۔
(ف 1) شان نزول : حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ طیبہ رونق افروز ہوئے اور انصار نے دیکھا کہ نبی ﷺ کے ذمہ مصارف ہیں اور مال میں کچھ بھی نہیں ہے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور حضور کے حقوق و احسانات یاد کرکے حضور کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے بہت سامال جمع کیا اور اس کو لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور کی بدولت ہمیں ہدایت ہوئی ہم نے گمراہی سے نجات پائی ہم یہ مال خدام آستانہ کی خدمت میں نذر کرنے کے لیے لائے قبول فرماکرہماری عزت افزائی کی جائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور حضور نے وہ اموال واپس فرمادیے۔
Top