Maarif-ul-Quran - Ash-Shura : 23
ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ
ذٰلِكَ الَّذِيْ : یہ وہ چیز ہے يُبَشِّرُ اللّٰهُ : خوش خبری دیتا ہے اللہ عِبَادَهُ : اپنے ان بندوں کو الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : وہ جو ایمان لائے وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور انہوں نے عمل کیے اچھے ۭ قُلْ : کہہ دیجئے لَّآ اَسْئَلُكُمْ : نہیں میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ اَجْرًا : اس پر کوئی اجر اِلَّا الْمَوَدَّةَ : سوائے محبت کے فِي الْقُرْبٰى : قرابت داری میں وَمَنْ يَّقْتَرِفْ : اور جو کوئی کمائے گا حَسَنَةً : کوئی نیکی نَّزِدْ لَهٗ : ہم اضافہ کردیں گے اس کے لیے فِيْهَا حُسْنًا : اس میں خوبی اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ تعالیٰ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ : بخشش فرمانے والا ہے، قدردان ہے
یہ ہے جو خوشخبری دیتا ہے اللہ اپنے ایمان دار بندوں کو جو کرتے ہیں بھلے کام تو کہہ میں مانگتا نہیں تم سے اس پر کچھ بدلا مگر دوستی چاہئے قرابت میں اور جو کوئی کمائے گا نیکی ہم اس کو بڑھا دیں گے اس کی خوبی بیشک اللہ معاف کرنے والا حق ماننے والا ہے۔
معارف و مسائل
(آیت) قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى۔ اس آیت کی جو تفسیر مذکور الصدر خلاصہ میں آ چکی ہے۔ یہی جمہور مفسرین سے منقول و ماثور اور مختار ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ میرا اصل حق تم سب پر تو یہ ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تم اس کا اعتراف کرو اور اپنی صلاح و فلاح کے لئے میری اطاعت کرو۔ مگر میری نبوت و رسالت کو تم تسلیم نہیں کرتے تو نہ سہی مگر میرا ایک انسانی اور خاندانی حق بھی تو ہے جس کا تم انکار نہیں کرسکتے کہ تمہارے اکثر قبائل میں میری رشتہ داری اور قرابتیں ہیں۔ قرابت کے حقوق اور صلہ رحمی کی ضرورت سے تمہیں بھی انکار نہیں تو میں تم سے اپنی اس خدمت کا جو تمہاری تعلیم و تبلیغ اور اصلاح اعمال و احوال کے لئے کرتا ہوں، کوئی معاوضہ تم سے نہیں مانگتا، صرف اتنا چاہتا ہوں کہ رشتہ داری کے حقوق کا تو خیال کرو۔ بات کا ماننا یا نہ ماننا تمہارے اختیار میں ہے۔ مگر عداوت اور دشمنی سے تو کم از کم یہ نسب و قرابت کا تعلق مانع ہونا چاہئے۔
اب یہ بات ظاہر ہے کہ رشتہ داری کے حقوق کی رعایت یہ خود ان کا اپنا فرض تھا۔ اس کو کسی خدمت تعلیمی تبلیغی کا معاوضہ نہیں کہا جاسکتا۔ آیت مذکورہ میں جو اس کو بلفظ استثناء ذکر فرمایا ہے تو یہ تو اصطلاحی الفاظ میں استثناء منقطع ہے جس میں مستثنیٰ اس مجموعہ مستثنیٰ منہ کا جز نہیں ہوتا یا پھر اس کا مجازاً اور ادعاء معاوضہ قرار دیا گیا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ میں تم سے صرف اتنی بات چاہتا ہوں جو اگرچہ حقیقتاً کوئی معاوضہ نہیں، تم اس کو معاوضہ سمجھو تو یہ تمہاری اپنی غلطی ہے۔ اس کے نظائر عرب و عجم ہر زبان میں پائے جاتے ہیں۔ متنبی شاعر نے ایک قوم کی شجاعت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان میں کوئی عیب نہیں بجز اس کے کہ ان کی تلواروں میں کثرت حرب و ضرب کی وجہ سے دندانے پڑگئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ شجاع و بہادر کے لئے یہ کوئی عیب نہیں بلکہ ہنر ہے۔ اس کا عربی شعر یہ ہے
ولا عیب فیھم غیران سیوفھم۔
بھن فلول من تراع الکتائب
ایک اردو شاعر نے اسی طرح کا مضمون اس طرح لکھا ہے
مجھ میں ایک عیب بڑا ہے کہ وفار دار ہوں میں، اس نے وفاداری کو عیب کے لفظ سے تعبیر کر کے اپنی بےگناہی کو بہت اونچا کر کے دکھلایا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ حقوق قرابت کی رعایت جو فی الواقع کوئی معاوضہ نہیں میں تم سے اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔
آیت مذکورہ کی یہی تفسیر صحیحین میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے اور ائمہ تفسیر میں مجاہد، قتادہ اور بہت بڑی جماعت نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے۔ یہی تمام انبیاء (علیہم السلام) کی آواز ہر دور میں رہی ہے کہ اپنی قوم کو کھول کر بتادیا کہ ہم جو کچھ تمہاری بھلائی اور خیر خواہی کے لئے کوشش کرتے ہیں، تم سے اس کا کوئی معاوضہ ہم نہیں مانگتے۔ ہمارا معاوضہ صرف اللہ تعالیٰ دینے والا ہے۔ سید الانبیاء ﷺ کی شان تو ان سب میں اعلیٰ وارفع ہے وہ کیسے قوم سے کوئی معاوضہ طلب کرتے۔
امام حدیث سعید بن منصور اور ابن سعد اور عبد بن حمید اور حاکم اور بیہقی نے امام شعبی سے یہ واقعہ نقل کیا ہے اور حاکم نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ امام شعبی کہتے ہیں کہ لوگوں نے ہم سے اس آیت کی تفسیر کے متعلق سوالات کئے تو ہم نے حضرت ابن عباس کو خط لکھ کر اس کی صحیح تفسیر دریافت کی آپ نے جواب میں لکھا کہ
آنحضرت ﷺ قریش کے ایسے نسب سے تعلق رکھتے تھے کہ اس کے ہر ذیلی خاندان سے آپ کا رشتہ ولادت قائم تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ”آپ مشرکین سے یہ کہئے کہ اپنی دعوت پر میں تم سے کوئی معاوضہ بجز اس کے نہیں مانگتا کہ تم مجھ سے قرابت داری کی مروت و مودت کا معاملہ کر کے بغیر کسی تکلیف کے اپنے درمیان رہنے دو اور میری حفاظت کرو۔
اور ابن جریر وغیرہ نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں۔
اے قوم ! اگر تم میری اتباع سے انکار کرتے ہو تو تم سے جو میرا قرابت کا رشتہ ہے اس کی پاسداری تو کرو، اور ایسا نہ ہو کہ عرب کے دوسرے لوگ (جن کے ساتھ میری قرابت نہیں) میری حفاظت اور نصرت میں تم پر بازی لے جائیں۔
اور حضرت ابن عباس ہی سے سند ضعیف کے ساتھ ایک روایت یہ بھی منقول ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کچھ لوگوں نے آپ سے یہ سوال کیا کہ آپ کی قرابت میں کون لوگ ہیں تو آپ نے فرمایا کہ علی اور فاطمہ اور ان کی اولاد۔ اس روایت کی سند کو در منثور میں سیوطی نے اور تخریج احادیث کشاف میں حافظ ابن حجر نے ضعیف قرار دیا ہے اور چونکہ اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ میں اپنی خدمت کا اتنا معاوضہ مانگتا ہوں کہ میری اولاد کی تم رعایت کیا کرو، جو عام انبیاء (علیہم السلام) خصوصاً سید الانبیاء کی شان کے مناسب بھی نہیں۔ اس لئے راجح اور مختار تفسیر جمہور امت کے نزدیک وہی ہے جو اوپر لکھی گئی۔ روافض نے اس روایت کو نہ صرف اختیار کیا بلکہ اس پر بڑے قلعے تعمیر کر ڈالے، جن کی کوئی بنیاد نہیں۔
آل رسول ﷺ کی تعظیم و محبت کا مسئلہ
اوپر جو کچھ لکھا گیا ہے اس کا تعلق صرف اس بات سے ہے کہ آیت مذکورہ میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی خدمت کے معاوضہ میں قوم سے اپنی اولاد کی محبت و عظمت کے لئے کوئی درخواست نہیں کی۔ اس کے یہ معنی کسی کے نزدیک نہیں کہ اپنی جگہ آل رسول مقبول ﷺ کی محبت و عظمت کوئی اہمیت نہیں رکھتی، ایسا خیال کوئی بدبخت گمراہ ہی کرسکتا ہے۔ حقیقت مسئلہ کی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و محبت کا ساری کائنات سے زائد ہونا جزو ایمان بلکہ مدار ایمان ہے۔ اور اس کے لئے لازم ہے کہ جس کو جس قدر نسبت قریبہ رسول اللہ ﷺ سے ہے اس کی تعظیم و محبت بھی اسی پیمانے سے واجب و لازم ہونے میں کوئی شبہ نہیں، کہ انسان کی صلبی اولاد کو سب سے زیادہ نسبت قربت حاصل ہے اس لئے ان کی محبت بلاشبہ جزو ایمان ہے۔ مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ازواج مطہرات اور دوسرے صحابہ کرام جن کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ متعدد قسم کی نسبتیں قربت اور قرابت کی حاصل ہیں ان کو فراموش کردیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ حب اہل بیت وآل رسول ﷺ کا مسئلہ امت میں کبھی زیر اختلاف نہیں رہا، باجماع و اتفاق ان کی محبت و عظمت لازم ہے۔ اختلافات وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں دوسروں کی عظمتوں پر حملہ کیا جاتا ہے۔ ورنہ آل رسول ﷺ ہونے کی حیثیت سے عام سادات خواہ ان کا سلسلہ نسب کتنا ہی بعید بھی ہو، ان کی محبت و عظمت عین سعادت و اجر وثواب ہے اور چونکہ بہت سے لوگ اس میں کوتاہی برتنے لگے، اسی لئے حضرت امام شافعی نے چند اشعار میں اس کی سخت مذمت فرمائی۔ وہ اشعار یہ ہیں اور درحقیقت یہی جمہور امت کا مسلک و مذہب ہے۔
یا راکبا قف بالمحصب من منی، واھتف بساکن خیفھا والنا ھضن، سحرا اذا فاض الحجیح الی منی، فیضا کملتطم الفرات الفائض، ان کان رفضا حب آل محمد، فلیشھد الثقلان انی رافضی،
یعنی اے شہ سوار، منیٰ کی وادی محصب کے قریب رک جاؤ، اور جب صبح کے وقت عازمین حج کا سیلاب ایک ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کی طرح منیٰ کی طرف روانہ ہو تو اس علاقے کے ہر باشندے اور ہر راہ رو سے پکار کر یہ کہہ دو کہ اگر صرف آل محمد ﷺ کی محبت ہی کا نام رفض ہے تو اس کائنات کے تمام جنات و انسان گواہ رہیں کہ میں بھی رافضی ہوں۔
Top