Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 23
ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ
ذٰلِكَ الَّذِيْ : یہ وہ چیز ہے يُبَشِّرُ اللّٰهُ : خوش خبری دیتا ہے اللہ عِبَادَهُ : اپنے ان بندوں کو الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : وہ جو ایمان لائے وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور انہوں نے عمل کیے اچھے ۭ قُلْ : کہہ دیجئے لَّآ اَسْئَلُكُمْ : نہیں میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ اَجْرًا : اس پر کوئی اجر اِلَّا الْمَوَدَّةَ : سوائے محبت کے فِي الْقُرْبٰى : قرابت داری میں وَمَنْ يَّقْتَرِفْ : اور جو کوئی کمائے گا حَسَنَةً : کوئی نیکی نَّزِدْ لَهٗ : ہم اضافہ کردیں گے اس کے لیے فِيْهَا حُسْنًا : اس میں خوبی اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ تعالیٰ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ : بخشش فرمانے والا ہے، قدردان ہے
یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔ کہہ دے میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیں مانگتا مگر رشتہ داری کی وجہ سے دوستی۔ اور جو کوئی نیکی کمائے گا ہم اس کے لیے اس میں خوبی کا اضافہ کریں گے۔ یقینا اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت قدردان ہے۔
(1) ذلک الذی یبشر اللہ عبادہ …: یہ پانچویں وجہ ہے۔”ذلک“ اسم اشارہ بعید اس ثواب کی عظمت کے بیان کے لئے ہے۔ جنتوں کے باغوں اور ان کی نعمتوں کی طرف اشارہ کر کے ان کی طرف دوبارہ توجہ دلانے سے مقصود ان کی عظمت کا اظہار ہے اور ساتھ ہی ایمان اور عمل صالح کا ذکر اس لئے ہے کہ اتنی بڑی نعمتوں کے حصول کے لئے ایمان اور عمل صالح ضروری ہے۔ (2) قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی :”قرب یقرب قربا و قربانا و قرباناً“ (س ، ک) قریب ہونا۔ ”قربی“ اور ”قرابۃ“ بھی مصدر ہیں، جیسے ”بشری“ اور ”رجعی“ ہیں۔ ان کا معنی رشتہ داری اور قرابت ہے۔ رشتہ دار اور قرابت دار کے لئے ”ذوالقربی“ (قرابت والا) کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(وات ذالقربی حقہ) (بنی اسرائیل : 26)”اور رشتہ دار کو اس کا حق دے۔“ ”فی القربی“ میں ”فی“ تعلیل کے لئے ہے : ای من اجل القربی یعنی رشتہ داری کی وجہ سے ، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(عذبت امراۃ فی ھرۃ حبس تھا حتی مانت جوعا ، قدخلت فیھا النار) (بخاری، المساقاۃ، باب فضل سقی المائ، 2365)”ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔ اس نے اسے باندھ کر رکھا، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مرگئی، تو اس کی وجہ سے وہ آگ میں داخل ہوگئی۔“ یعنی آپ کہہ دیں کہ میں اس تبلیغ دین پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا، سوائے رشتہ داری کی وجہ سے دوستی کے کچھ نہ سہی، کم از کم میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت اور رشتہ داری ہے اس کی وجہ سے میرا حق ہے کہ مجھ سے دوستی رکھو، اس حق کا ماطلبہ میں تم سے ضرور کرتا ہوں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ تم میری بات مان لیتے، اگر نہیں مانتے تو سارے عرب میں سب سے بڑھ کر دشمین تو نہ کرو۔ کم از کم اس قرابت کا تو خیال رکھو جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔ جیسا کہ ابو طالب اگرچہ ایمان نہیں لایا مگر وہ قرابت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی حمایت اور آپ ﷺ کا دفاع کرتا رہا۔ آیت کا یہی مطلب ترجمان القرآن ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا ہے۔ چناچہ طاؤس فرماتے ہیں کہ ان بع اس ؓ سے ”الا المودۃ فی القربی“ کے متعلق سوال کیا گیا تو سعید بن جبیر کہنے لگے کہ اس سے مراد ”قربی آل محمد ﷺ“ (آل محمد ﷺ کی قرابت) ہے، تو ابن عباس ؓ نے فرمایا :(عجلت ، ان النبی ﷺ لم یکن یطن من قریش الا کان لہ فیھم قرابۃ فقال الا ان تصلوا مابینی وبینکم من القرابۃ) (بخاری التفسیر، باب قولہ (الا المودۃ فی القربی):7818)”تم نے جلدی کی، قریش کا کوئی خاندان ایسا نہ تھا جس میں نبی ﷺ کی قربات اور رشتہ داری نہ ہ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :”(میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا) مگر یہ کہ تم اس رشتہ داری کو ملاؤ جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔ ‘ (3) بعض لوگ خصوصاً شیعہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ آپ کہہ دیں کہ میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا مگر قرابت والوں سے دوستی کا ، یعنی میں تم سے اس پر اس کے سوا کچھ نہیں مانگتا کہ تم میرے قربات داروں سے دوستی رکھو۔ نبی کریم ﷺ کے مومن قرابت داروں سے دوسی اپنی جگہ مسلمہ ہے، جو دوسرے دلائل سے ثابت ہے، مگر اس آیت کا وہ مطلب ہرگز نہیں جو ان لوگوں نے بیان کیا ہے، کیونکہ ”القربیٰ“ کا معنی رشتہ داری ہے، رشتہ دار نہیں۔ رشتہ داروں کے لئے ذوی القربی“ کا لفظ آتا ہے۔ اگر ”القربی“ کا معنی رشتہ دار ہو بھی تو آیت کے الفاظ یہ ہونے چاہئیں :”الا مودۃ القربی“ ”مگر رشتہ داروں کی دوستی کا۔“ جب کہ الفاظ ہیں :(الا المودۃ فی القربی) ان الفاظ کا وہ معنی ہو ہی نہیں سکتا جو یہ حضرات بیان کرتے ہیں۔ پھر دیکھیں کہ آپ ﷺ یہ سوال کن لوگوں سے کر رہے ہیں، ظاہر ہے کفار سے کر رہے ہیں جو آپ کے شدید مخالف تھے، جو آپ سے بھی دوستی کے روا دار نہیں تھے، آیا ممکن بھی ہے کہ آپ ان سے کہیں کہ میرے رشتہ داروں سے دوستی کرو۔ اگر مان بھی لیں کہ آپ ان سے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ دوستی کا سوال کر رہے ہیں تو وہ رشتے ہر کون سے ہیں ؟ کیا آپ ﷺ اپنے پورے قبیلہ قریش کے ساتھ دوستی کا سوال کر رہے ہیں یا اپنے قریب ترین خاندان بنو عبدالمطلب کے ساتھ ؟ دونوں میں مخلص مسلمانوں کے علاوہ ابوجہل اور ابولہب جیسے آپ کے بدترین دشمن بھی موجود تھے جن کے ساتھ دوستی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر اس سے مراد علی و فاطمہ اور حسن و حسین ؓ ہیں، جیسا کہ شیعہ حضرات کہتے ہیں، تو یہ سورت مکی ہے اور مکہ میں فاطمہ اور علی ؓ کا نکاح تک نہیں ہوا تھا اور نہ ہی حسن و حسین ؓ پیدا ہوئے تھے۔ لہٰذا اس سے یہ لوگ مراد ہو ہی نہیں سکتے۔ (4) بعض مفسرین نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ کہنا کہ میں تم سے صرف رشتہ داری کی وجہ سے دوسی کا سوال کرتا ہوں، یہ دین کی تبلیغ کی اجرت یا مزدوری نہیں جو آپ ان سے مانگ رہے ہیں، بلکہ آپ اپنے اس حق کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو تمام دنیا کے ہاں مسلم ہے، خواہ آپ تبلیغ کریں یا نہ کریں۔ غرض اس آیت میں بھی وہی بات بیان ہوئی ہے جو تمام انبیاء نے اپنی اپنی قوم سے کہی کہ میں تم سے اس تبلیغ دین پر کسی قسم کی مزدوری کا سوال نہیں کرتا، کیونکہ میری مزدوری صرف اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ جیسا کہ سورة شعراء میں ہے :(وما اسلم علیہ من اجر، ان اجری الا علی رب العلمین) (الشعرائ : 109) ”اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔“ (قواعد نحو میں یہ بات ان الفاظ میں بیان کی جائے گی کہ یہاں استثناء متصل نہیں منقطع ہے، یعنی صلہ رحمی کے سوال کا تبلیغ دین پر اجرت سے کوئی تعلق نہیں۔ کتنی معمولی ہو، ہم اس کے لئے اس کے حسن وخ وبی میں اضافہ کردیں گے۔ یہ اضافہ کئی طرح سے ہے، ایک تو وہ جتنی نیکی بھی ملیں گے جس سے اس کی نیکی میں اضافہ ہ گا۔ تیسرا اللہ تعالیٰ ہر نیکی کو دس گنا سے سات سو گنا بلکہ شمار سے زیادہ تک بڑھا دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(وان تک حسنۃ یضعفھا ویوت من لدنہ اجراً عظیماً) (النسائ : 30)”اگر ایک نیکی ہوگی تو وہ اسے کئی گنا کر دے گا اور اپنے پاس سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔“ چوتھا یہ کہ نیکیوں کے ساتھ گناہ معاف ہوتے ہیں، فرمایا :(ان الحسنت یذھبن السیات) (ھود : 113)”بیشک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔“ (6) ان اللہ غفور شکور :”ان“ تعلیل کے لئے آتا ہے، یعنی نیکی کرنے والا کی نیکی میں ہم اضافہ اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ گناہوں پر بہت پردہ ڈالنے والا اور نیک عمل کی بےحد قدر کرنے والا ہے۔
Top