Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 23
ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ
ذٰلِكَ الَّذِيْ : یہ وہ چیز ہے يُبَشِّرُ اللّٰهُ : خوش خبری دیتا ہے اللہ عِبَادَهُ : اپنے ان بندوں کو الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : وہ جو ایمان لائے وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور انہوں نے عمل کیے اچھے ۭ قُلْ : کہہ دیجئے لَّآ اَسْئَلُكُمْ : نہیں میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ اَجْرًا : اس پر کوئی اجر اِلَّا الْمَوَدَّةَ : سوائے محبت کے فِي الْقُرْبٰى : قرابت داری میں وَمَنْ يَّقْتَرِفْ : اور جو کوئی کمائے گا حَسَنَةً : کوئی نیکی نَّزِدْ لَهٗ : ہم اضافہ کردیں گے اس کے لیے فِيْهَا حُسْنًا : اس میں خوبی اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ تعالیٰ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ : بخشش فرمانے والا ہے، قدردان ہے
یہی وہ بشارت ہے جو اللہ اپنے بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا، ہاں رشتہ داری کی محبت ہو،28۔ اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کی نیکی میں اور خوبی زیادہ کردیں گے، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا ہے بڑا قدردان ہے،29۔
28۔ (اے اہل قریش) عزیزوں، قریبوں کی محبت اور ایک دوسرے کی خیر خواہی ضرب المثل کی حد تک شہرت رکھتی ہے۔ عرب میں حقوق قرابت کی پاسداری اور زیادہ بڑھی ہوئی تھی، یہ انہیں کے جذبات شرافت سے اپیل ہے۔ گویا رسول اللہ ﷺ ان سے یہ کہہ رہے ہیں۔ اور کچھ نہ سہی، تو عزیز داری ہی کا خیال کرکے میرے اوپر ظلم و زیادتی سے باز رہو۔ صحیح بخاری و، صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ایسے ہی معنی بیان ہوئے ہیں۔ قال ابن عباس ؓ و مجاھد وقتادۃ والضحاک والسدی معناہ الا ان لا تؤذونی لقرابتی منکم (جصاص) وبہ قال مجاھد وعکرمۃ وقتادۃ والسدی وابو مالک وعبد الرحمن بن زید بن اسلم وغیرھم (ابن کثیر) (آیت) ” فی القربی “۔ فی سببیہ ہے ل کے مرادف۔ اے لقرابتی منکم ففی للسببیۃ بمعنی اللام لتقارب السبب والعلۃ والی ھذا ذھب مجاھد وقتادۃ وجماعۃ (روح) امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ جب مودۃ بین المسلمین اور افراد امت کی ایک دوسرے کے ساتھ محبت، متعدد آیات و احادیث کی بنا پر واجب ہے تو پھر امت کے اشرف ترین کے ساتھ کیوں واجب نہ ہوگی۔ والایات والاخبار فی ھذا الباب کثیرۃ واذا کان حصول المودۃ بین جمھور المسلمین واجبافحصولھا فی حق اشرف المسلمین اکابرھم اولی (کبیر) آیت سے اصحاب رسول کے ساتھ بھی محبت کا حکم نکلتا ہے۔ فیہ منصب عظیم للصحابۃ لانہ تعالیٰ قالہ والسابقون السابقون اولئک المقربون فکان کل من اطاع اللہ کان مقربا عند اللہ تعالیٰ فدخل تحت قولہ الاالمودۃ فی القربی (کبیر) امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ آیت رسول کے آل واصحاب دونوں کی محبت کو جمع کرتی ہے اور یہی مسلک اہل سنت کا ہے۔ والحاصل ان ھذہ الایۃ تدل علی وجوب حب ال رسول اللہ ﷺ وحب اصحابہ وھذا المنصب لایسلم الاعلی قول اصحابنا اھل السنت والجماعۃ الذین جمعوا بین حب العترۃ والصحابۃ (کبیر) (آیت) ” القربی “۔ مراد اھل القربی ہے۔ المراد فی اھل القربی (کشاف) مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ مودۃ فی القربی کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے بعد ایمان ہی نہیں۔ بلکہ یہ تو ایمان ہی کا تدریج ولطافت کے ساتھ طریق موصل بتایا ہے۔ 29۔ (مطیعوں کے حق میں) چناچہ مسلم مطیع سے جب لغزش ہوجاتی ہے تو وہ رب غفور اسے معاف آسانی سے کردیتا ہے اور جب وہ نیکی کرتا ہے تو رب شکور اسے اجر بھی استحقاق سے کہیں زائد دے دیتا ہے۔ (آیت) ” نزد ..... حسنا “۔ یعنی جس قدراجر اس نیکی کا حق ہے، ہم اس سے کہیں زائد دے دیں گے)
Top