Tafseer-Ibne-Abbas - Ash-Shura : 23
ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ
ذٰلِكَ الَّذِيْ : یہ وہ چیز ہے يُبَشِّرُ اللّٰهُ : خوش خبری دیتا ہے اللہ عِبَادَهُ : اپنے ان بندوں کو الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : وہ جو ایمان لائے وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور انہوں نے عمل کیے اچھے ۭ قُلْ : کہہ دیجئے لَّآ اَسْئَلُكُمْ : نہیں میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ اَجْرًا : اس پر کوئی اجر اِلَّا الْمَوَدَّةَ : سوائے محبت کے فِي الْقُرْبٰى : قرابت داری میں وَمَنْ يَّقْتَرِفْ : اور جو کوئی کمائے گا حَسَنَةً : کوئی نیکی نَّزِدْ لَهٗ : ہم اضافہ کردیں گے اس کے لیے فِيْهَا حُسْنًا : اس میں خوبی اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ تعالیٰ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ : بخشش فرمانے والا ہے، قدردان ہے
یہی وہ (انعام ہے) جس کی خدا اپنے ان بندوں کو جو ایمان لاتے اور عمل نیک کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت کی محبت (تو چاہیے) اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں ثواب بڑھائیں گے بیشک خدا بخشنے والا قدردان ہے
یہی فضیلت ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے ان بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے۔ اے محمد آپ اپنے اصحاب یا مکہ والوں سے یوں کہیے کہ میں توحید و قرآن پر تم سے اور کوئی مطلب نہیں چاہتا سوائے اس بات کے کہ میرے بعد رشتہ داری کا پاس رکھو اور حسن بصری نے یہ تفسیر فرمائی کہ سوائے اس کے کہ تم بذریعہ توحید اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو اور فراء نے فرمایا یہ مطلب ہے کہ سوائے اس کے کہ تم بذریعہ مورت اللہ کا قرب حاصل کرو اور جو شخص ایک نیکی کرے گا تو ہم اس میں نو نیکیوں کا اضافہ کردیں گے اللہ تعالیٰ تائب کی مغفرت فرمانے والا اور بڑا قدردان ہے کہ معمولی چیز کو قبول فرماتا اور اس پر اجر عظیم عطا کرتا ہے۔
Top