Fi-Zilal-al-Quran - Aal-i-Imraan : 38
هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ
ھُنَالِكَ : وہیں دَعَا : دعا کی زَكَرِيَّا : زکریا رَبَّهٗ : اپنا رب قَالَ : اس نے کہا رَبِّ : اے میرے رب ھَبْ لِيْ : عطا کر مجھے مِنْ : سے لَّدُنْكَ : اپنے پاس ذُرِّيَّةً : اولاد طَيِّبَةً : پاک اِنَّكَ : بیشک تو سَمِيْعُ : سننے والا الدُّعَآءِ : دعا
یہ حال دیکھ کر زکریا نے اپنے رب کو پکارا پروردگار ! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطاکر ‘ تو ہی دعا سننے والا ہے
یوں ہم اپنے آپ کو ایک غیر معمولی واقعہ کے سامنے پاتے ہیں ۔ یہ واقعہ اس بات کا اظہار ہے کہ اللہ کی مشیئت بےقید ہے ۔ اور وہ ان سلسلہ اسباب ومسببات کی قید وبند سے آزاد ہے ۔ جنہیں آگے پیچھے دیکھنے کا انسان عادی ہے ۔ اور جن کے بارے میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس سلسلے میں تخلف ممکن نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ جو واقعات وحادثات اس قانون کے حدود وقیود کے اندر نہیں ہوتے یہ انسان ان کے بارے میں شاکی رہتا ہے ۔ اور جب وہ اس بات سے عاجز ہوں کہ اس کی تکذیب کردیں جب ان کے لئے ایسے واقعات کو جھٹلاناممکن نہ رہے کیونکہ وہ واقعات ہوتے ہیں تو وہ ان واقعات کے اوپر قصے اور کہانیوں کے خول چڑھادیتے ہیں ۔ دیکھئے زکریا شیخ اور معمر آدمی ہیں اور ان کی بیوی ان کے معمر ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوانی میں بھی بانجھ رہی ہیں ۔ اس بوڑھے کے دل میں اولاد کی خواہش جوش میں آتی ہے ۔ جو ایک فطری خواہش ہے ۔ وہ مریم جیسی نیک اور خوبصورت بچی کو دیکھتے ہیں ‘ جسے وافر مقدار میں رزق دیا گیا ہے ۔ وہ اپنے رب کے ساتھ مناجات کرتے ہیں ۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ انہیں بھی ایسی ہی پاک اولاد عطا ہو۔ هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ ” یہ حال دیکھ کر زکریا نے اپنے رب کو پکارا ” پروردگار ! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر ‘ تو ہی دعا سننے والا ہے ۔ “…………اس پرسوز اور پرکیف دعا کا نتیجہ کیا ہوا ؟ یہ فوراً قبول ہوئی اور اب یہ اولاد اور یہ قبولیت زمان ومکان کی قید سے ماوراء تھی ۔ عام معتادطریقے سے نظام ہٹ گیا ۔ اس لئے کہ اصل سبب تو مشیئت الٰہی ہے ۔
Top