Tafseer-e-Haqqani - Al-Muminoon : 93
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ
قُلْ : فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اِمَّا تُرِيَنِّيْ : اگر تو مجھے دکھا دے مَا يُوْعَدُوْنَ : جو ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
(اے نبی یہ) دعا کیا 1 ؎ کرو کہ اے رب جس عذاب کا ان (منکروں) سے وعدہ کیا جا رہا ہے
1 ؎ یعنی اگر دنیا میں ان کفار پر عذاب موعود آجائے تو خدایا مجھے ان میں شامل نہ کرلینا کیونکہ قہر کی آگ میں سوکھے گیلے ساتھ جلنے لگتے ہیں ہرچند وہ ایسا نہیں کرتا مگر شان کبریائی سے ڈرنا مقتضائے عبودیت ہے اس لیے دعا کرتے رہنا چاہیے۔ 12 منہ ترکیب : :۔ مایوعدون جملہ مفعول ہے ترینی کا اما اصل میں ان ماتھا ما تاکیدمان شرطیہ کے لیے آتا ہے فلا تجعلنی اس کا جواب لفظ رب اہتمام شان کے لیے مقدم ہوا علی متعلق ہے لقادرون سے بالتی میں ب الصاق کے لیے اور السیئۃ مفعول ہے ادفع کا ارجعون اصل میں رب ارجعنی تھا اور جمع کا لفظ فائدہ نکریہ کے لیے آیا گویا یوں کہا ارجعنی بعض کہتے ہیں رب کی تعظیم کے لیے صیغہ جمع کا لایا۔ اور بعض کہتے ہیں ملائکہ سے کہہ رہا ہے ارجعونی کہ تم مجھے دنیا میں پھرجانے دو ، ہمزات جمع ہمزۃ وھوالدفع والتحریک الشدید و المرادوسواسہ۔ تفسیر : :۔ کفار کی سرکشی پر جو عذاب آنے کے وعدے ہوتے تھے تو سن کر ہنسا کرتے تھے اور بیہودہ باتیں کہتے تھے اور سخت کلامی اور ایذا سے پیش آتے تھے اس لیے ان آیات میں اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو اپنے وعدہ کے وثوق پر یہ حکم ارشاد فرمایا ہے (1) قل رب ان ترینی الخ کہ اے رب اگر تو دنیا میں مجھے ان کا وہ عذاب دکھادے کہ جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تو اس عذاب میں مجھے شامل نہ کرنا۔ کیونکہ جب بدکاروں کی شرارت سے دنیا پر قہر الٰہی آتا ہے تو اس عام بلا میں نیک بھی کبھی آجاتے ہیں جیسا کہ قحط اور وباء یا دشمن کا غلبہ پھر فرماتا ہے وانا علی ان نریک کہ منکر ہماری اس بات کو غلط نہ سمجھیں اے نبی ! اس عذاب کو ہم تمہیں دکھا بھی سکتے ہیں۔ چناچہ وہ عذاب آپ کو دکھا دیا ایسا سخت قحط کئی سال کا پڑا کہ جس میں کتوں اور مردار کے کھانے کی نوبت آئی اور سب چلا اٹھے اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آکر گریہ وزاری دعا کے خواستگار ہوئے۔ حضرت ﷺ کی دعا سے وہ بلا دفع ہوئی۔ حجت میں مغلوب ہو کر وہ لوگ حضرت ﷺ سے سخت کلامی کرنے لگتے تھے اور ایذائیں میں بھی طرح طرح سے دیتے تھے اس لیے آنحضرت کو بالخصوص اور تبعاً حضرت ﷺ کے پیرو وں کو بھی جو ہدایت و ارشاد کی گدی پر بیٹھے ہیں یہ حکم دیتا ہے (2) ادفع بالتیھی احسن السیئۃ کہ تم ان کی اس بدکلامی کے عوض بدکلامی نہ کرو۔ ان کی ایذاء کے مقابلہ میں ایذا نہ دو بلکہ برائی کے مقابلہ میں بھلائی کرو بدکلامی کے جواب میں نرم بات کہو ان کی تکلیفیں اٹھا کر دعا کرو۔ حدیث میں آیا ہے صل من قطعک اعط من منعک کہ جو تجھ سے توڑے تو اس سے بھی محبت کا رشتہ جوڑ اور جو تجھے نہ دے تو اس کو بھی دے۔ کفار کی سخت تکلیفیں اٹھا کر یہی آنحضرت ﷺ یہی دعا کرتے تھے کہ اللھم اھد قومی انہم لایعلمون کہ الٰہی میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ نادان ہیں۔ کہاں ہیں وہ معترض جو اسلام کی اس معاشرت پر خونخواری ‘ سفاکی ‘ بیرحمی کا الزام لگاتے ہیں۔ اسلام نے وہ رحمدلی ‘ عفو ‘ حلم ‘ صلہ رحمی تعلیم کی ہے کہ ایسی کسی مذہب میں نہیں ملتی۔ جمہور محققین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت آیت سیف سے منسوخ نہیں بلکہ محکم ہے۔ وہ اور محل پر ہے یہ اور محل پر۔ پھر فرماتا ہے : (3) وقل رب اعوذبک کہ شیطان وسواس دلایا کرتا ہے مباداوسوسہ شیطانی سے انسان ان بدکرداروں کے ساتھ تو تو میں میں کرنے پر آمادہ ہوجاوے۔ اس لیے چاہیے کہ اللہ سے پناہ مانگے نہ کہ اس کے وسواس دل میں آویں۔ نہ شیاطین پاس آویں جس طرح کسی پر جن بھوت چڑھ کر اس کی بولی بولنے لگتا ہے اسی طرح شیطان جو بدی کا بھوت اور جن ہے آدمی پر کبھی مسلط ہو کر برے خیالات دل میں ڈال دیتا ہے لہذا پناہ مانگنا ضروری بات ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ تم شیاطین کے پاس آنے سے پناہ مانگا کرو کیونکہ شیاطین کفار کے پاس موت تک موجود رہتے ہیں پھر جب موت آتی ہے اور اس عالم کا پردہ ان سے اٹھ جاتا ہے۔ اور ملائکہ عذاب اور برے اعمال کی سزائیں سامنے دکھائی دیتی ہیں تو کہنے لگتے ہیں رب ارجعون اے رب مجھے پھر دنیا میں بھیج کہ جا کے اچھے کام کروں اس وقت اس خواب غفلت سے بیدار اور مے لذات و شہوات سے ہوشیار ہوگا اور حسرتوں کا اردگرد ہجوم ہوگا بار بار یہ التجا کرے گا۔ وہاں سے جواب ہوگا کلا ہرگز نہیں۔ یہ ایک بےفائدہ بات ہے جس کو وہ عبث منہ سے نکال رہا ہے ان کے درمیان موت کا حجاب یا پردہ پڑا ہے قیامت تک دنیا میں واپس نہ آئیں گے۔
Top