Anwar-ul-Bayan - Al-Ankaboot : 34
وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ
وَلَوْ : اور اگر يُؤَاخِذُ : گرفت کرے اللّٰهُ : اللہ النَّاسَ : لوگ بِظُلْمِهِمْ : ان کے ظلم کے سبب مَّا تَرَكَ : نہ چھوڑے وہ عَلَيْهَا : اس (زمین) پر مِنْ : کوئی دَآبَّةٍ : چلنے والا وَّلٰكِنْ : اور لیکن يُّؤَخِّرُهُمْ : وہ ڈھیل دیتا ہے انہیں اِلٰٓى : تک اَجَلٍ مُّسَمًّى : ایک مدت مقررہ فَاِذَا : پھر جب جَآءَ : آگیا اَجَلُهُمْ : ان کا وقت لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ : نہ پیچھے ہٹیں گے سَاعَةً : ایک گھڑی وَّ : اور لَا يَسْتَقْدِمُوْنَ : نہ آگے بڑھیں گے
اور اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے لیکن ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔
آیت نمبر 61 تا 65 ترجمہ : اگر معاصی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ لوگوں کی گرفت کرتا تو زمین پر چلنے پر ایک بھی چلنے والا (جاندار) نہ چھوڑتا لیکن وہ ان کو ایک مقررہ وقت تک ڈھیل دیتا ہے، سو جب ان کا وقت (مقرر) آجاتا ہے تو وہ اس سے نہ گھڑی پیچھے ہٹتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں، اور اللہ کے لئے وہ چیز ثابت کرتے ہیں جسے وہ خود اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں، اور وہ چیزیں بیٹیاں اور ریاست میں شرکت اور اھانت رسول ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور وہ یہ کہ ان کے لئے اللہ کے نزدیک اچھا بدلہ ہے یعنی جنت جیسا کہ وہ کہتے ہیں اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا گیا تو یقیناً میرے لئے اس کے پاس اچھا بدلہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یقینی بات تو یہ ہے کہ ان کے لئے اگ ہے، اور ان کو آگ میں ڈال کر چھوڑ دیا جائیگا یا ان کو سب سے پہلے آگ (دوزخ) کی طرف بڑھایا جائیگا اور ایک قراءت میں راء کے کسرہ کے ساتھ ہے یعنی وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں، واللہ ہم نے آپ سے پہلے کی امتوں کی طرف رسول بھیجے مگر شیطان نے ان کے لئے ان کے برے اعمال کو آراستہ کرکے پیش کیا جسکی وجہ سے وہ اعمال کو اچھے (نیک) سمجھنے لگے تو انہوں نے رسولوں کو جھٹلادیا، وہ شیطان آج بھی (یعنی) دنیا میں ان کا رفیق یعنی ان کے امور کا کارساز بنا ہوا ہے اور ان کے لئے آخرت میں دردناک عذاب ہے کہا گیا ہے کہ الیوم سے آئندہ کی حالت کو بیان کے طور پر قیامت کا دن مراد ہے یعنی (روز قیامت) ان کا شیطان کے علاوہ کوئی رفیق نہ ہوگا حالانکہ وہ (شیطان) خود اپنی مدد سے بھی عاجز ہوگا، تو کیسے ان کی مدد کرے گا ؟ اور اے محمد ہم نے اس کتاب قرآن کو آپ پر اس لئے اتارا ہے کہ آپ لوگوں کے لئے امر دین کی ہر اس چیز کو کھول کھول کو بیان کردیں جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں اور وہ (قرآن) رہنما ہے اس کا لتبیِّنَ پر عطف ہے اور ان لوگوں کے لئے رحمت ہے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور اس پانی سے نباتات اگا کر زمین کو زندہ کردیا اس کے مردہ (یعنی) خشک ہونے کے یقیناً ان مذکورہ چیزوں میں ایسے لوگوں کے لئے جو غور وفکر کے ساتھ سنتے ہیں بعث بعد الموت پر دلالت کرنے والی نشانی ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : الارض . سوال : عَلَیْھا کی ضمیر کا مرجع الارض کو قرار دیا ہے حالانکہ ماقبل میں الارض مذکور نہیں ہے اس میں اضمار قبل الذکر لازم ہے۔ جواب : چونکہ ناس اور دابّۃ ارض پر دلالت کرتے ہیں لہٰذا الارض اگرچہ صراحۃ مذکور نہیں ہے مگر دلالۃ مذکور ہے لہٰذا اضمار قبل الذکر کا اعتراض وارد نہیں ہوگا۔ قولہ : نسمۃ، شخص، روح، (جمع) نَسَمٌ و نَسَماتٌ. قولہ : تقول، تصفُ کی تفسیر تقول سے کرنے کا مقصد اس سوال کا جواب ہے کہ تصف کا لفظ موصوف اور صفت کا تقاضا کرتا ہے حالانکہ یہاں نہ موصوف ہے اور نہ صفت۔ جواب : یہاں تصف بمعنی تقول ہے لہٰذا موصوف اور صفت کی حاجب نہ ہوگی۔ قولہ : ھو اس کی تقدیر میں اشارہ ہے کہ اَنَّ مع اپنے مدخول کے جملہ ہو کر ھو مبتداء محذوف کی خبر ہے، نہ کہ تصِفُ کا مفعول اسلئے کہ تصف کا مفعول الکذبَ موجود ہے۔ قولہ : مُقدَّمون آگے کئے ہوئے یہ افرطتہ فی طلب الماء سے ماخوذ ہے، ای قدَّمتُہ لہٗ میں نے اس کو پانی کے لئے آگے بھیجا۔ تفسیر وتشریح وَلَوْ ۔۔۔ الناس (الآیۃ) یہ اللہ کا حکم اور اس کی حکمت و مصلحت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی نافرمانی دیکھتا ہے لیکن پھر بھی وہ نعمتیں سلب نہیں کرتا، اور نہ فوری مواخذہ کرتا ہے، اگر وہ ارتکاب، معصیت پر گرفت کرنا شروع کردے تو ظلم و معصیت اور کفر و شرک اتنا عام ہوگیا ہے کہ روئے زمین پر کوئی ذی روح باقی نہ رہے، اس لئے کہ جب برائی عام ہوتی ہے تو اس کا عذاب بھی عام ہوتا ہے اس عذاب عام میں نیک لوگ بھی ہلاک کردیئے جاتے ہیں گو وہ آخرت میں سرخ رو رہیں گے۔ الیوم سے یا تو زمانۂ دنیا مراد ہے تب تو کسی کی ضرورت نہیں ہے اور اگر یوم سے مراد فریب و تزیین ہے تو اس وقت حکایت حال ماضیہ کی تاویل کرنی ہوگی اور اگر یوم سے یوم آخرت مراد ہے تو حکایت حال آتیہ کی تاویل کرنی ہوگی جیسا کہ مفسر علام نے اشارہ کیا ہے۔ وَمَا۔۔۔ الکتاب (الآیۃ) اس میں آپ ﷺ کا یہ منصب بیان کیا گیا ہے کہ عقائد و احکام شرعیہ کے سلسلہ میں یہود و نصاری کے درمیان اور اسی طرح مجوسیوں اور مشرکوں کے درمیان اور دیگر اہل ادیان کے درمیان جو باہم اختلافات ہیں اس کی اسطرح تفصیل بیان فرمائیں کہ حق اور باطل واضح ہوجائے تاکہ حق کو اختیار کریں اور باطل سے اجتناب کریں۔
Top