Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Tafseer-e-Jalalain - Al-Muminoon : 93
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ
قُلْ
: فرما دیں
رَّبِّ
: اے میرے رب
اِمَّا تُرِيَنِّيْ
: اگر تو مجھے دکھا دے
مَا يُوْعَدُوْنَ
: جو ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
(اے محمد ﷺ کہو کہ اے پروردگار جس عذاب کا ان (کفار) سے وعدہ ہوا ہے اگر تو میری زندگی میں ان پر نازل کر کے مجھے دیکھائے
آیت نمبر 93 تا 118 ترجمہ : آپ دعاء کیجئے کہ اے میرے پروردگار اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا اِنْ شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں ادغام کردیا جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھا دیں تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے کہ میں ان کے ساتھ ہلاک کردیا جاؤں اور وہ وعدہ (غزوہ) بدر میں قتل کے ذریعہ صادق آیا اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو وعدہ ان سے کر رہے ہیں آپ کو دکھلا دیں آپ ان کو بدی یعنی آپ کو ایذا رسانی کا دفعیہ ایسے طریقہ سے کردیا کیجئے کہ جو بہت ہی اچھا ہو یعنی ان سے عفو و درگذر کی خصلت کے ذریعہ اور یہ (عفو و درگذر) کا حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ کہا کرتے ہیں یعنی تکذیب کرتے ہیں اور باتیں بناتے ہیں ہم ان کو اس کی سزا دیں گے اور آپ یوں دعا کیا کیجئے کہ اے میرے رب میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں ان شیطانی خیالات سے کہ جن کے ذریعہ وہ وسوسہ ڈالتے ہیں اور اے میرے رب میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ شیاطین میرے پاس آئیں یعنی میرے کاموں میں دخل دیں اس لئے کہ وہ بدی ہی کے ساتھ آتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آنے لگتی ہے، حَتّٰی ابتدائیہ ہے اور وہ دوزخ کا اپنا ٹھکانا اور جنت کا اپنا ٹھکانا اگر ایمان لاتا دیکھ لیتا ہے تو (اس وقت) کہتا ہے اے میرے رب آپ مجھے واپس بھیج دیجئے اِرْجِعُوْنِ جمع کا صیغہ تعظیم کے لئے تاکہ جس (دنیا) کو میں چھوڑ آیا ہوں اس میں جا کر نیک عمل کروں یعنی لا الٰہ الا اللہ کی شہادت دوں تاکہ میری یہ شہادت مافات کی تلافی ہوجائے یعنی جو عمر میں نے ضائع کردی اس کا عوض ہوجائے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا یعنی رجعت نہیں ہوسکتی، بلاشبہ یہ یعنی ربِّ ارجعون ایک کلمہ ہے جس کو یہ بولے جا رہا ہے اور اس کلمہ کے بار بار کہنے میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اور ان لوگوں کے آگے ایک آڑ ہے جو ان کو رجوع سے مانع ہے قیامت کے دن تک اور اس کے بعد رجوع نہیں ہے پھر صور میں پھونکا جائے گا یعنی سینگ (جیسی کسی شئ) میں پہلا نفخہ یا ثانیہ تو اس روز ان کے درمیان رشتے ناتے جن پر یہ لوگ فخر کرتے تھے باقی نہیں رہیں اور نہ کوئی رشتے ناتوں کے متعلق پوچھے گا بخلاف دنیا میں ان کی حالت کے، اس لئے کہ ایک امر عظیم قیامت کے بعض مواقع میں ان کو اس (پوچھ گچھ) سے غافل کر دے گا، اور قیامت کے بعض مواقع میں ان کو افاقہ ہوگا اور ایک دوسری آیت میں ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کریں گے سو جس شخص کا نیکیوں کی وجہ سے پلڑا بھاری ہوگا تو ایسے لوگ کامیاب ہوں گے اور سیئات کی وجہ سے جس کا پلڑا ہلکا ہوگا سو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا سو وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور آگ ان کے چہروں کو جھلس دے گی یعنی جلا دے گی اور وہ وہاں بدشکل بنے ہوں گے اور ان کے اوپر کے ہونٹ اوپر کو سکڑے ہوئے ہوں گے اور ان کے نیچے کے ہونٹ دانتوں سے نیچے لٹکے ہوئے ہوں گے، ان سے ارشاد ہوگا کیا تم کو قرآن سے میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں یعنی ان آیات کے ذریعہ تم کو خوف نہیں دلایا جاتا تھا پھر بھی تم ان کی تکذیب کرتے تھے وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہماری بدنصیبی ہمارے اوپر غالب آگئی تھی اور ایک قرأت میں شقَاوَتْنَا ہے اول کے فتحہ اور الف کے ساتھ اور یہ دونوں مصدر ہیں دونوں کے ایک ہی معنی ہیں اور بیشک ہم ہدایت سے بھٹکے ہوئے تھے اے ہمارے پروردگار ہم کو جہنم سے نکال دیجئے پس اگر ہم پھر بھی مخالفت کریں تو بلاشبہ ہم قصور وار ہوں گے دنیا کی دوگنی مقدار کے بعد مالک کی زبانی ارشاد ہوگا ذلت کے ساتھ اسی میں پڑے رہو یعنی ذلت کے ساتھ جہنم میں پڑے رہو، اور مجھ سے اپنے رفع عذاب کے بارے میں کلام مت کرو چناچہ وہ لوگ مایوس ہوجائیں گے میرے بندوں میں ایک جماعت تھی جو عرض کیا کرتی تھی اور وہ مہاجرین کی جماعت تھی اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے ہیں ہم کو بخش دیجئے اور ہم پر رحمت فرمائیے آپ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والے ہیں لیکن تم انہیں مذاق میں اڑاتے رہے سخریا سین کے ضمہ اور اس کے کسرہ کے ساتھ بمعنی تمسخر، ان میں بلال ؓ اور صہیب ؓ اور عمار ؓ اور خباب ؓ تھے یہاں تک کہ ان لوگوں نے تم کو ہماری یاد بھلا دی سو تم نے ان کے استہزاء میں مشغول ہونے کی وجہ سے اس یاد کو ترک کردیا تو گویا کہ وہ لوگ بھلانے کا سبب ہوئے اسی وجہ سے بھلانے کی نسبت ان کی طرف کردی اور تم ان کی ہنسی ہی اڑاتے رہے، میں نے آج ان کو تمہارے استہزاء اور ایذا پر صبر کرنے کے عوض دائمی نعمتوں کا بدلہ دیدیا بلاشبہ یہی لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہیں اِنّھم کے کسرہ کے ساتھ (اس صورت میں) جملہ مستانفہ ہوگا اور ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ جَزَیتُھم کا مفعول ثانی ہوگا اللہ تعالیٰ مالک کی زبانی فرمائے گا اور ایک قرأت میں قُلْ ہے کہ تم دنیا میں اور اپنی قبروں میں سالوں کے حساب سے کتنی مدت رہے عَدَدَ سنین، کم کی تمیز ہے (تقدیر عبارت یہ ہے) لبثتم کم عدَدًا مِنَ السنین وہ جواب دیں گے کہ ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم رہے ہوں گے وہ اس مدت قیام میں شک کریں گے اور ابتلائے عذاب کے عظیم ہونے کی وجہ سے قیام دنیا کی مدت کو کم سمجھیں گے سو شمار کرنے والوں یعنی مخلوق کے اعمال کو شمار کرنے والے فرشتوں سے معلوم کرلیجئے اللہ تعالیٰ مالک کی زبانی فرمائیں گے اور ایک قرأت میں قُلْ ہے تم تھوڑی ہی مدت رہے ہو کیا اچھا ہوتا کہ تم اپنے طول قیام کی مدت کو جان لیتے جو بہت کم تھی تمہاری جہنم میں قیام کی نسبت سے کیا تم یہ گمان کئے ہوئے تھے کہ ہم نے تم کو بیکار بغیر کسی حکمت کے پیدا کردیا اور یہ کہ تم ہمارے پاس لوٹ کر نہ آؤ گے ترجعون معروف اور مجہول دونوں ہیں، نہیں بلکہ (ہم نے تم کو اس لئے پیدا کیا) کہ تم کو امر اور نہی کا مکلف بنائیں اور تم ہماری طرف لوٹائے جاؤ اور ہم اس تکلیف پر تم کو جزاء دیں، اور ہم نے جن وانس کو صرف عبادت کرنے کے لئے پیدا کیا ہے سو اللہ تعالیٰ عبث وغیرہ سے جو اس کی شان کے لائق نہیں ہے برتر ہے، جو کہ بادشاہ حقیقی ہے اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں عرش عظیم کا مالک ہے یعنی کرسی کا جو کہ بہترین تخت ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی بندگی کرے گا کہ جس کے معبود ہونے پر اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے آخر، اِلٰھًا کی صفت کاشفہ ہے اس کے مفہوم مخالف کا اعتبار نہیں، سو اس کا حساب یعنی اس کی جزاء اس کے رب کے یہاں ہوگا یقیناً کافروں کو فلاح نہ ہوگی یعنی سعاد تمند نہ ہوں گے اور آپ یوں دعا کیا کیجئے اے میرے رب معاف فرما اور مومنین پر رحم فرما رحمت میں مغفرت کے مقابلہ میں زیادتی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے یعنی رحمت کے اعتبار سے افضل ہے۔ تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد قولہ : تُرِیَنِّی تو مجھے دکھلائے اِراء ۃً سے مضارع واحد مذکر حاضر بانون تالکید ثقیلہ مبنی بر فتحہ متعدی بدو مفعول بواسطہ ہمزہ ی ضمیر متکلم مفعول اول ما موصولہ مفعول ثانی۔ قولہ : فَلَا تَجْعَلْنِیْ جواب شرط فی بمعنی مع لفظ رَبْ کا اعادہ تضرع اور عاجزی میں مبالغہ کرنے کیلئے کیا گیا ہے فَاَھْلَکُ بِھَلاَکِھِمْ جواب نہی ہے وَاِنَّا علیٰ اَنْ نُرِیَکَ مَا نَعِدُھُمْ لَقٰدِرُوْنَ اِنَّ حرف مشبہ بالفعل ناصب نا اس کا اسم علیٰ حرف جار نُرِیَ فعل بافاعل کَ مفعول اول مَا موصولہ نَعِدُھُمْ جملہ ہو کر صلہ موصول صلہ سے مل کر بتاویل مصدر ہو کر مفعول ثانی نُرِیَ اپنے فاعل اور دونوں مفعولوں سے مل کر مجرور ہو اعلیٰ جار کا جار مجرور سے مل کر متعلق مقدم ہوا قادِرُوْنَ کا، قادرون اپنے متعلق سے مل کر اِنَا کی خبر۔ قولہ : ای خَلَّۃ بمعنی خصلت مفسر علام نے خَلَّۃ کو مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ اَلَّتِیْ حَلَّۃ موصوف مقدر کی صفت ہے اور السَّیّئَۃُ اِدفع کا مفعول بہ ہے، تقدیر عبارت یہ ہے اِدْفَعْ السَّیِّئَۃ بالخصلۃ التیھی احسن۔ قولہ : من الصفح والاعراض عنھم میں من بیا نیہ ہے اور الصفح الخ خصلۃ کا بیان ہے۔ قولہ : اَذَاھُمْ ایاکَ ، السَّیۃَ کی تفسیر ہے۔ قولہ : ھَمَزَات ھمزٌ کی جمع ہے شیطانی وسوسے، نفسانی خطرات۔ قولہ : حتّٰی ابتدائیہ ہے یعنی ما بعد کلام ما قبل سے جدا ہے، اس کلام کا مقصد مرنے کے بعد کافروں کا حال بیان کرنا ہے۔ قولہ : الجمع للتعظیم مفسر علام اس عبارت سے ایک سوال مقدر کا جواب دینا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو کہ مخاطب ہے واحد ہے لہٰذا رَبِّ ارْجِعِیْ سے خطاب کرنا چاہیے، جواب یہ ہے کہ تعظیماً جمع کا صیغہ لایا گیا ہے، دوسرا جواب یہ ہے کہ اِرْجعونِ میں واؤ تکرار پر دلالت کرنے کے لئے لایا گیا ہے، ای اِرجِعْنِیْ اِرْجعنی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول ” الَقیا فی جھنم “ میں الف تکرار کے لئے ہے یعنی اَلْقِ اَلْقِ کی معنی میں ہے، تیسرا جواب یہ ہے کہ جمع کا صیغہ ملائکہ کے اعتبار سے ہے۔ قولہ : وَرَائِھِمْ ھم لِاَحَدھم کی طرف راجع ہے جمع کی ضمیر باعتبار معنی کے ہے اس لئے اَحَدھم معنی میں کلہم کے ہے ماقبل میں واحد کی ضمیریں باعتبار لفظ کی ہے۔ قولہ : فَلاَ انْسَابَ بینھُمْ انساب نسب کی جمع ہے بمعنی قرابت، رشتہ داری یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے درمیان نسب اور قرابت تو ثابت شدہ امر ہے اس کی نفی کس طرح صحیح ہے مفسر علام نے یَتَفَاخَرون کا اضافہ کرکے اس سوال کا جواب دیدیا کہ نسب کی نفی کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ اس کی صفت جو کہ محذوف ہے اس کی نفی مقصود ہے اور وہ یتفاخرون ہے، یعنی دنیا میں جس نسب اور قرابت پر فخر کیا کرتے تھے وہ سب ختم ہوجائیں گے، اس لئے کہ میدان محشر میں ہولناکی اور دہشت کی وجہ سے تراحم اور تعاطف سب ختم ہوجائیں گے، اسی ہولناکی کی منظر کشی کرتے ہوئے دوسری آیت میں فرمایا یَفِر المرأ مِنْ أخیہِ وأمِّہٖ واَبِیہِ وصَاحِبَتِہٖ وبینہٖ ۔ قولہ : لا یتساءلون عنھا ای الانساب خلافَ حَالھم فی الدنیا ای ذٰلک خِلَافَ حالھم۔ قولہ : لِمَا یَشْغُلُھُمْ یہ ولا یتساءلون کی علت ہے یعنی یہ عدم تساؤل ان کے اپنے حالات میں مشغول ہونے کی وجہ سے ہوگا۔ قولہ : فی بعض مواضع القیامۃ الخ مفسر علام نے اس عبارت سے ایک اعتراض کا جواب دیا ہے، اعتراض یہ ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے روز محشر میں آپس میں پوچھ گچھ نہیں ہوگی اور ایک آیت میں ہے وَاَقْبَلَ بَعضُھم عَلیٰ بَعْضٍ یَتَسَاءَلَون جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ روز محشر میں اوقات اور حالات مختلف ہوں گے، بعض حالات میں جب خوف و دہشت غالب ہوگا تو کسی کی مزاج پرسی کریں گے، مطلب یہ ہے کہ نفخہ اولیٰ کے وقت دہشت غالب ہوگی تو کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہوگا، اور نفخہ ثانیہ کے بعد جب یک گونہ سہولت ہوجائے گی تو آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے بھی اور مزاج پرسی بھی کریں گے۔ قولہ : موازین کو یا تو عظمت کی وجہ سے جمع لایا گیا ہے یا موزون کے مختلف النوع ہونے کی وجہ سے جمع لایا گیا ہے یعنی ہر قسم کے عمل کو وزن کرنے کیلئے الگ قسم کی ترازو ہوگی جیسا کہ دنیا میں مختلف اقسام کی اقسام کو تولنے کیلئے مختلف قسم کی ترازو (مقیاس) ہوتی ہیں، بالحسنات میں باسببیہ ہے یعنی حسنات کے ثقیل اور بوجھل ہونے کی وجہ سے۔ قولہ : فَھُمْ یہ اشارہ ہے کہ فی جھنم، ھُم مبتداء محذوف کی خبر ہے زمخشری نے کہا ہے کہ فی جھنم خالدون، الذین خسِرُوْا انفُسَھُمْ سے بدل ہے۔ قولہ : تَلْفَحُ جملہ مستانفہ ہے۔ قولہ : شمَّرت شَمَّر کے معنی آستین وغیرہ چڑھانا، سکڑنا، قولہ : والسفلیٰ عن اَسْنانھم سے پہلے فعل محذوف ہے ای اِسْتَرَخَتْ السفلیٰ ۔ قولہ : قال تعالیٰ لَھُمْ بلسان مالک، مفسر علام نے اس عبارت سے ایک سوال کا جواب دیا ہے، سوال یہ ہے اللہ تعالیٰ کا قال کَمْ لَبِثتم کے ذریعہ کفار سے خطاب کرنا یہ ان سے کلام کرنے کا متقاضی ہے، حالانکہ دوسری آیت میں فرمایا ہے ولایکلمھم اللہ یہ کلام نہ کرنے کا متقاضی ہے دونوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے، جواب یہ ہے کہ جس آیت سے کلام نہ کرنا معلوم ہوتا ہے اس کا مطلب ہے کہ براہ راست اور بلا واسطہ ان سے کلام نہ فرمائیں گے، اور جس آیت سے کفار سے کلام کرنا مفہوم ہوتا ہے وہاں بواسطہ مالک کلام کرنا مقصود ہے،۔ قولہ : لَوْ أنّکم کنتم تعلمون مقدار لُبثِکُمْ ، لَو امتناعیہ ہے اور تعلمون کا مفعول محذوف ہے مفسر علام نے مقدار لبثکم مقدر مان کر حذف مفعول کی طرف اشارہ کردیا، جواب لَوْ بھی محذوف ہے جس کی طرف مفسر علام نے کان قلیلاً کہہ کر حذف جواب کی طرف اشارہ کردیا ای کان قلیلاً فی علمکم۔ قولہ : اَفَحَسِبْتُمْ میں ہمزہ محذوف پر داخل ہے اور فا عاطفہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے کہ أجَھِلْتُم فحسبتُّمْ استفہام تو بیخ کے لئے ہے۔ قولہ : عَبَثًا یا تو مصدر بمعنی اسم فاعل موقع حال میں واقع ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای عابثین یا پھر خلقنا کا مفعول لہ ہے۔ قولہ : لا لحکمۃ یہ عبث کی تفسیر ہے۔ قولہ : أنّکُمْ اِلَیْنَا لا تُرجعون کا عطف انما خَلَقْنَاکم پر ہے۔ قولہ : لابل یہ جواب استفہام کے طور پر مقدر مانا ہے۔ قولہ : ھو سریر الحسن بعض نسخوں میں یہ عبارت نہیں ہے۔ قولہ : صفۃ کاشفۃ لا مفھوم لھا مفسر علام کا مقصد اس عبارت سے ایک اعتراض کو دفع کرنا ہے، اعتراض کا خلاصہ یہ ہے کہ وَمَنْ یَدْعُ مَعَ اللہِ الٰھًا آخر لا بُرْھَانَ لَہٗ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ کے ساتھ عبادت میں غیر اللہ کو شریک کرے تو وہ بےبرہان اور بےسند ہے، اس سے مفہوم مخالف کے طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جو صرف غیر اللہ کی عبادت کرے تو اسکے پاس برہان اور سند ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ آخر الٰھًا کی صفت کاشفہ ہے جو کہ محض وضاحت کیلئے ہوتی ہے اس کے مفہوم مخالف کا اعتبار نہیں ہوتا، البتہ صفت مخصصہ کے مفہوم مخالف کا اعتبار ہوتا ہے، صفت کاشفہ تو محض تاکید کے لئے ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول طَائِرً یَطِیرُ بِجَنَاحَیْہِ یَطِیْرُ بجناحَیْہِ طائرً کی صفت کاشفہ ہے جو کہ محض تاکید کے لئے ہے اس لئے کہ ہر پرندہ پروں ہی سے اڑتا ہے، پھر یہ کہنا کہ وہ پرندہ جو پروں سے اڑتا ہے کیا معنی ؟ لہٰذا وَمَنْ یَدْعُوْ مَعَ اللہِ اِلٰھًا آخر لاَ بُرْھَانَ لَہٗ بِہٖ سے مفہوم مخالف کے طور پر یہ استدلال کرنا کہ اگر کوئی شخص غیر اللہ کی بندگی اشتراکاً کرے تو وہ بےسند اور بےبرہان ہو اور اگر ! فراداً غیر اللہ کی بندگی کرے تو وہ باسند اور بابرہان ہو صحیح نہیں ہے۔ (روح البیان) فَاِنَّمَا حِسَابہ عند ربہ یہ جواب شرط ہے۔ قولہ : اِنَّہٗ لایفلحُ الکافرون جمہور کے نزدیک ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ جملہ مستانفہ ہے اور اس میں علت کے معنی ہیں۔ تفسیر و تشریح قل رب۔۔۔۔۔ الظالمین۔ ان دونوں آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں مشرکین و کفار پر عذاب کی وعید مذکور ہے جو عام ہے قیامت میں تو اس کا وقوع قطعی اور یقینی ہے دنیا میں بھی واقع ہونے کا احتمال ہے، پھر یہ عذاب اگر دنیا میں ان پر واقع ہو تو اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے بعد آئے اور یہ بھی احتمال ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں آپ ہی کے سامنے ان پر اللہ کا عذاب آجائے، اور دنیا میں جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو بعض اوقات اس عذاب کا اثر صرف ظالموں ہی پر نہیں رہتا بلکہ نیک لوگ بھی اس سے دنیاوی تکلیف سے متاثر ہوجاتے ہیں گو آخرت میں ان کو کوئی عذاب نہ ہو بلکہ اس دنیا کی تکلیف پر جو ان کو پہنچتی ہے اجر بھی ملے، قرآن کریم کا ارشاد ہے اِتَّقُوْا فِتْنَۃً لاتصیبنّ الذین ظلموا منکم خاصَّۃً یعنی ایسے عذاب سے ڈرو جو اگر آگیا تو صرف ظالموں ہی تک نہیں رہے گا دوسرے لوگ بھی اس کی لپیٹ میں آئیں گے۔ ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا تلقین فرمائی گئی ہے کہ یا اللہ اگر ان لوگوں پر آپ کا عذاب میرے سامنے اور میرے دیکھتے ہوئے ہی آنا ہے تو مجھے ان ظالموں کے ساتھ نہ رکھئے، رسول اللہ ﷺ کا معصوم اور عذاب الٰہی سے محفوظ ہونا اگرچہ آپ کیلئے یقینی تھا مگر پھر بھی اس دعا کی تلقین اس لئے فرمائی گئی کہ ہرحال میں اپنے رب کو یاد رکھیں اس سے فریاد کرتے رہیں تاکہ آپ کا اجر بڑھے۔ (قرطبی بحوالہ معارف) وانا۔۔۔۔ لقدرون (الآیہ) یعنی ہم کو قدرت ہے کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے دنیا ہی میں ان کو سزا دیں لیکن آپ کے مقام بلند اور اعلیٰ اخلاق کا مقتضی یہ ہے کہ ان کی برائی کو بھلائی سے دفع کریں جہاں تک اس طرح دفع ہوسکتی ہو اور ان کی بیہودہ بکواس سے مشتعل نہ ہوں ان کو ہم خوب جانتے ہیں، وقت پر کافی سزا دی جائے گی آپ کی چشم پوشی اور نرم برتاؤ کا یہ اثر ہوگا کہ بہت سے لوگ گرویدہ ہو کر آپ کی طرف مائل ہوں گے اور دعوت و اصلاح کا مقصود حاصل ہوگا، اس آیت میں آپ ﷺ کا مکارم اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے جو ہر مسلمان کو باہم معاملات میں ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے، البتہ کفار و مشرکین سے ان کے مظالم کے مقابلہ میں عفو درگذر ہی کرتے رہنا، ان پر ہاتھ نہ اٹھانا یہ حکم آیات جہاد سے منسوخ ہوگیا مگر عین حالت جہاد میں بھی اس حسن خلق کے بہت سے مظاہر باقی رکھے گئے کہ عورت کو قتل نہ کیا جائے بچہ کو قتل نہ کیا جائے، جو مذہبی لوگ مسلمانوں کے مقابلہ میں جنگ میں شریک نہ ہوں ان کو قتل نہ کیا جائے، اور جس کو بھی قتل کریں اس کو مثلہ (مسخ) نہ کریں کہ ناک کان وغیرہ کاٹ لیں، اس لئے بعد کی آیت میں آنحضرت ﷺ کو شیطان اور اس کے وساوس سے پناہ مانگنے کی دعا کی تلقین کی گئی کہ عین میدان قتال میں بھی آپ کی طرف سے عدل و انصاف اور مکارم اخلاق کے خلاف کوئی کام شیطان کے غصہ دلانے سے صادر نہ ہو، شیطان کے شر اور اس کے وسوسوں سے بچنا انسان کے بس کی بات نہیں جب تک خدا کی مدد شامل حال نہ ہو اس لئے اس کا علاج صرف استعاذہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجانا تاکہ وہ قادر مطلق شیطان کی چھیڑ خانی اور شر سے محفوظ رکھے، حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ شیطان کی چھیڑ یہ ہے کہ دین کے سوال و جواب میں بےموقع غصہ چڑھے اور لڑائی ہو پڑے، اسی پر فرمایا برے کا جواب دے اس سے بہتر اور کسی حال میں بھی شیطان کو میرے پاس نہ آنے دیجئے کہ مجھ پر وہ اپنا وار کرسکے۔ مجرب عمل : حضرت خالد بن ولید ؓ کو رات کو نیند نہ آتی تھی رسول اللہ ﷺ نے ان کو یہ کلمات دعا تلقین فرمائے کہ یہ پڑھ لیا کریں چناچہ حضرت خالد ؓ نے پڑھنا شروع کیا تو یہ شکایت جاتی رہی وہ دعا یہ ہے اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ التَّامَّۃِ مِنْ غَضَبِ اللہِ وَعِقَابِہٖ وَمِنْ شرِّ عِبَادِہٖ وَمِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیْطٰنِ وَاَنْ یَحْضُرُوْنَ (معارف) رَبِّ ارْجَعُوْنِ یعنی موت کے وقت کافر پر جب آخرت کا عذاب سامنے آنے لگتا ہے تو وہ تمنا کرتا ہے کہ کاش میں پھر دنیا میں لوٹ جاؤں اور نیک عمل کرکے اس عذاب سے نجات حاصل کروں۔ ابن جریر نے بروایت ابن جریج نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ موت کے وقت مومن جب رحمت کے فرشتے اور رحمت کا سامان سامنے دیکھتا ہے تو فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا تم چاہتے ہو کہ پھر تمہیں دنیا میں واپس کردیا جائے تو وہ کہتا ہے کہ میں اس غموں اور تکلیفوں کے عالم میں جا کر کیا کروں گا مجھے تو آپ اللہ کے پاس لے جائے اور جب کافر سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتا ہے ” ربِّ ارْجِعُوْنِ “ یعنی مجھے دنیا میں لوٹا دو ۔ کلا انھا۔۔۔ قائلھا (الآیہ) برزخ کے لفظی معنی حاجز اور فاصل کے ہیں اس لئے موت کے بعد قیامت اور حشر تک کے زمانہ کو برزخ کہا جاتا ہے کہ یہ دنیوی حیات اور اخروی حیات کے درمیان حد فاصل ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب مرنے والا کافر فرشتوں سے دوبارہ دنیا میں بھیجنے کیلئے کہتا ہے تو وہ اپنی زبان سے بار بار ” رب ارجعون “ کا کلمہ دہراتا ہے مگر اس کلمہ کا کوئی فائدہ اب اس لئے نہیں کہ اب وہ برزخ میں پہنچ چکا ہے جس کا قانون یہ ہے کہ برزخ سے لوٹ کر کوئی دنیا میں نہیں آتا اور بعث و نشر سے پہلے دوسری زندگی نہیں ملتی۔ (واللہ اعلم) فاذا۔۔۔ الصور قیامت کے روز صور دو مرتبہ پھونکا جائے گا نفخہ اولیٰ اس کا اثر یہ ہوگا کا سارا عالم زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے فنا ہوجائے گا، اور نفخہ ثانیہ سے تمام مردے زندہ ہوجائیں گے، قرآن کریم کی آیت ” ثمَّ نُفِخَ فِیہ اخریٰ فاِذَا ھُمْ قیام منظرون “ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ محشر میں مومنین اور کفار کے حالات میں فرق : فلا انساب بینھم یعنی میدان حشر میں نسبی رشتے اور قرابتیں کام نہ آئیں گی اسی مضمون کو قرآن کریم کی ان آیات میں بیان فرمایا گیا ہے ” یومَ یَفِرُّ المرأ مِن اخیہ وأمہٖ وابیہ وصاحبتہٖ وبینہٖ “ مگر یہ حال کافروں کا ذکر کیا گیا ہے، مومنین کا یہ حال نہ ہوگا کیونکہ مومنین کا حال خود قرآن کریم نے یہ ذکر کیا ہے ” اَلْحقنا بھم ذریتھم “ یعنی مومنین و صالحین کی اولاد کو بھی اللہ تعالیٰ (بشرط ایمان) اپنے آباء صالحین کے ساتھ لگا دیں گے، بعض احادیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سارے رشتے ناتے اور دامادی کے تعلقات ختم ہوجائیں گے (یعنی کام نہ آئیں گے) اِلا نسبی وصھری بجز میرے نسب اور صہر کے معلوم ہوا کہ آپ کے تعلقات عموم سے مستثنیٰ ہیں، اسی حدیث کو سن کر حضرت عمر ؓ نے ام کلثوم بنت علی سے نکاح کیا اور چالیس ہزار درہم مہر ادا کیا، ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے روز جس وقت سب لوگ پیاس کی وجہ سے بیقرار ہوں گے تو مسلمان بچے جو نابالغی کی حالت میں مرگئے تھے وہ جنت کا پانی لئے ہوئے نکلیں گے لوگ ان سے پانی مانگیں گے تو وہ کہیں گے کہ ہم تو اپنے ماں باپ کو تلاش کر رہے ہیں یہ پانی ان کے لئے ہے (رواہ ابن ابی الدنیا عن عبداللہ بن عمر و عن ابی ذر ؓ ، مظہری) ۔ بقیہ آیات کی تفسیر تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان گذر چکی ہے۔
Top