Jawahir-ul-Quran - Ash-Shura : 50
اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ
اَوْ يُزَوِّجُهُمْ : یا ملا جلا کردیتا ہے ان کو ذُكْرَانًا : لڑکے وَّاِنَاثًا : اور لڑکیوں (کی شکل میں) وَيَجْعَلُ : ور بنا دیتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے عَقِيْمًا : بانجھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ : علم والا ہے، قدرت والا ہے
یا ان کو دیتا ہے جوڑے بیٹے اور بیٹیاں اور کردیتا ہے جس کو چاہے بانجھ وہ ہے سب کچھ جانتا کرسکتا40
40:۔ ” وما کان لبشر۔ الایۃ “ یہ آیت ” شرع لکم من الدین۔ الایۃ “ کی طرح دوسرے دعوے سے متعلق ہے اور دلیل نقلی کی طرف اشارہ ہے۔ انبیاء سابقین (علیہم السلام) اور خود حضرت خاتم النبیین ﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تین طریقوں سے کلام فرمایا ہے اور انہی تین طریقوں سے ان کی طرف احکام کی وحی فرمائی ہے۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ بیداری میں یا خواب میں کوئی بات دل میں ڈالدے دوسرے لفظوں میں اسے الہام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے ” ان روح القدس نفث فی روعی “ (قرطبی ج 16 ص 53) ۔ ” الا ویا “ الھا ما کما روی نفث فی روعی اور ؤیا فی المنام کقولہ (علیہ السلام) رؤیا الانبیاء وحی وھو کامر ابراہیم (علیہ السلام) بذبح الولد (مدارک ج 4 ص 85) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذبح اسمعیل کے بارے میں وحی اسی نوع کی تھی۔ دوم یہ کہ درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو اور اللہ کا کلام پردے کے ورے سے سنائی دے۔ جیسا کہ کوہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی ہوئی۔ سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ فرشتے کو انسان کی شکل میں بھیج کر اپنا پیغام دے جیسا کہ جبریل امین کی وساطت سے انبیاء (علیہم السلام) کی طرف انہی تین طریقوں سے مسئلہ توحید وحی فرماتا رہا ہے اور حکم دیتا رہا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کرو اور صرف مجھے ہی پکارو۔ جو باتیں اس وحی ربانی کے خلاف محرفین نے وضع کی ہیں جن میں غیر اللہ کو پکارنے کی اجازت دی ہے وہ باطل اور مردود ہیں۔ اس کی ذات نہایت بلند ہے اور اس کی بات محکم اور پختہ ہے۔
Top