Kashf-ur-Rahman - Al-Anbiyaa : 41
بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ
بَلْ : بلکہ مَتَّعْنَا : ہم نے سازوسامان دیا هٰٓؤُلَآءِ : ان کو وَاٰبَآءَهُمْ : اور ان کے باپ دادا حَتّٰى : یہانتک کہ طَالَ : دراز ہوگئی عَلَيْهِمُ : ان پر۔ کی الْعُمُرُ : عمر اَفَلَا يَرَوْنَ : کیا پس وہ نہیں دیکھتے اَنَّا نَاْتِي : کہ ہم آرہے ہیں الْاَرْضَ : زمین نَنْقُصُهَا : اس کو گھٹاتے ہوئے مِنْ : سے اَطْرَافِهَا : اس کے کنارے (جمع) اَفَهُمُ : کیا پھر وہ الْغٰلِبُوْنَ : غالب آنے والے
اور بیشک آپ سے پہلے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا ہے پھر ان مذاق اڑانے والوں کو اس عذاب نے آگھیرا جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
-41 اور بیشک آپ سے پہلے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا ہے اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ہے پھر ان مذاق کرنے والوں کو اسی عذاب نے آگھیرا جس عذاب کا یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ یعنی جس عذاب کے آنے کا مذاق اڑاتے تھے وہی عذاب گلے کا ہار بن گیا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جس چیز سے ٹھٹھا کرتے تھے اس چیز کی جزا نے انہیں گھیر لیا۔ 12
Top