Kashf-ur-Rahman - Al-Mulk : 18
وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق كَذَّبَ : جھٹلایا الَّذِيْنَ : ان لوگوں نے مِنْ قَبْلِهِمْ : جو ان سے پہلے تھے فَكَيْفَ : تو کس طرح كَانَ نَكِيْرِ : تھی پکڑ میری
اور جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں وہ بھی پیغمبروں کی تکذیب کرچکے ہیں پھر میرے انکار کا انجام ان کے حق میں کیسا ہوا۔
(18) اور بلا شبہ جو لوگ ان سے پہلے ہوگزرے ہیں وہ بھی پیغمبروں کی تکذیب کرچکے ہیں پھر دیکھ لو میرے انکار کا انجام ان کے حق میں کیسا ہوا۔ یعنی ان پہلے لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور میں ان کی حرکات ناشائستہ پر انکار کیا پھر اس انکار کا انجام جو کچھ ہوا وہ تاریخی اعتبار سے تمہارے سامنے ہے۔ اوپر کی آیتوں میں اپنے انعامات اور احسانات کی جانب توجہ دلائی تھی ان آیتوں میں تنبیہہ فرمائی اور اپنی گرفت اور عذاب سے ڈرا۔ اب آگے پھر دلائل قدرت پر توجہ دلاتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے بعض نے نکیر کا ترجمہ عذاب بھی کیا ہے عام مفسرین نے انکاری علیہم سے تفسیر کی ہے لیکن اپنے اکابر میں سے بعض حضرات نے انکار ہم علی سے تفسیر فرمائی ہے حضرت حق جل مجدہ کا انکار یہی کہ اس کے اوامر کی مخالفت پر اس کی ناراضگی اور بندوں کا انکار یہ کہ اس کے احکام کی تعمیل سے روگردانی کریں۔ بہرحال ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں دونوں باتوں کی رعایت رکھی ہے۔ فتامل
Top