Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 18
وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق كَذَّبَ : جھٹلایا الَّذِيْنَ : ان لوگوں نے مِنْ قَبْلِهِمْ : جو ان سے پہلے تھے فَكَيْفَ : تو کس طرح كَانَ نَكِيْرِ : تھی پکڑ میری
اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو کہ) میرا کیسا عذاب ہوا
ولقد کذب الذین من قبلھم فکیف کان نکیر . یہ قسم محذوف کا جواب ہے نکیر بمعنی انکار کسی چیز کو برا جاننا یعنی ان کے خلاف میری ناگواری جو بصورت نزول عذاب ہوگی (ان کو معلوم ہوجائے گی) اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور کافروں کے لیے تہدید عذاب ہے۔ استفہام تعجب کے لیے بھی ہے اور تاکید مدعا کے لیے بھی اور جملہ سوالیہ (اگرچہ انشایہ ہے لیکن) خبریہ کی تاویل میں ہو کر کَذَّب پر معطوف ہے یعنی گزشتہ کافروں نے تکذیب کی اور ان کے خلاف میری ناگواری بہت زیادہ ہوگئی (پہلا کلام خطابی ہے اور یہ کلام بصورت غائب ہے ‘ پس) کلام کا رخ خطاب سے غائب کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔
Top