Ruh-ul-Quran - Al-Mulk : 18
وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق كَذَّبَ : جھٹلایا الَّذِيْنَ : ان لوگوں نے مِنْ قَبْلِهِمْ : جو ان سے پہلے تھے فَكَيْفَ : تو کس طرح كَانَ نَكِيْرِ : تھی پکڑ میری
اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے گزرے، پھر کیسا ہوا میرا انکار
وَلَقَدْ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَکَیْفَ کَانَ نَـکِیْرِ ۔ (الملک : 18) (اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے گزرے، پھر کیسا ہوا میرا انکار۔ ) تاریخ کے حوالے سے قریش کو تہدید آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت کی صداقت پر سب سے بڑی دلیل تو آنحضرت ﷺ کا بلند کردار تھا اور قریش کی بےپناہ تکلیفوں کے مقابلے میں آپ ﷺ کی ناقابلِ شکست استقامت تھی۔ لیکن جب کفار قریش نے اتنے محکم دلائل کی موجودگی میں ان حقائق کو قبول کرنے سے انکار کردیا جو آنحضرت ﷺ ان کے سامنے پیش فرماتے تھے تو اب ان کے سامنے تاریخ کی مسلمہ حقیقت پیش کی جارہی ہے جس سے انکار کرنا شاید قریش کے لیے ممکن نہ ہو کہ تمہیں اس بات کا یقین نہیں آرہا کہ تمہاری تکذیب کے نتیجے میں تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی آسکتا ہے تو پھر تاریخ کے آئینے میں جھانک کر دیکھو، کہ تم سے پہلے جو قومیں عذاب کا شکار ہوئی ہیں اور اپنے تجارتی اسفار میں تم ان کے کھنڈرات کے قریب سے گزرتے بھی ہو، تاریخ سے پوچھو کہ یہ قومیں عذاب کا نشانہ کیوں بنیں۔ ان کے تباہ شدہ کھنڈرات کا ایک ایک ذرہ گواہی دے رہا ہے کہ تکذیب کرنے والی قومیں عذاب کا شکار ہوتی رہی ہیں اور ان کا ایک ایک پتھر ان کی بدنصیبی کی داستان بیان کرتا ہے۔ تم نے اگر اپنا رویہ نہ بدلا تو کل کو یہ آبادیاں تمہاری تاریخ کا ایک باب بن جائیں گی جو دوسروں کے لیے عبرت کا سامان ہوگا۔ اس لیے تاریخ سے سبق سیکھو، یہ کوئی عقلمندی نہیں کہ جب تک آدمی خود کسی افتاد میں مبتلا نہ ہو، اس وقت تک وہ سبق سیکھنے سے انکار کرتا رہے۔ نکیر کا معنی جس طرح انکار ہے اسی طرح گرفت اور پھٹکار بھی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ انکار اس کا لفظی معنی ہے اور گرفت اور پھٹکار اس کا نتیجہ ہے۔ کہنا یہ ہے کہ ان معذب قوموں کی تاریخ دیکھو اور ان کے کھنڈرات کا جائزہ لو تو تب تمہیں اندازہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی تکذیب، اللہ تعالیٰ کے عذاب کا انکار کس نتیجے کا حامل ہوتا ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے تو اس کی گرفت کتنی شدید ہوتی ہے۔
Top