Urwatul-Wusqaa - Al-Mulk : 18
وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق كَذَّبَ : جھٹلایا الَّذِيْنَ : ان لوگوں نے مِنْ قَبْلِهِمْ : جو ان سے پہلے تھے فَكَيْفَ : تو کس طرح كَانَ نَكِيْرِ : تھی پکڑ میری
اور جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ جھٹلا چکے ہیں پھر (غور کرو کہ) ان پر میرا عذاب کیسے ہوا ؟
پہلے لوگوں نے جو جھٹلایا تھا تو ان کے جھٹلانے ہی کو نگاہ میں رکھو تو بات واضح ہو جائے 18 ؎ انبیاء و رسل (علیہم السلام) کی مخالفت شروع سے ہوتی چلی آرہی ہے اور ان کے مخالفین بھی دو ہی طرح کے رہے ہیں ایک وہ جو منکرین و معاندین تھے اور دوسرے وہ جنہوں نے بظاہر ان کو مانا اور تسلیم کیا لیکن اندر سے مخالفت کرتے رہے۔ آپ کے وقت میں بھی دونوں طرح کے مخالف موجود تھے خصوصاً مدنی زندگی میں بعض ایسے بھی تھے جو دعویٰ ایمان تو کرتے تھے لیکن آپ ﷺ کی مخالفت اور مسلمانوں کی مخالفت کا کوئی موقع بھی انہوں نے خالی نہ جانے دیا۔ یہی بات زیر نظر آیت میں کیر جا رہی ہے کہ تم لوگ پہلے نہیں جنہوں نے ہمارے رسول کی مخالفت کی ہو بلکہ تم سے پہلے بہت سی قوموں نے ہمارے رسولوں اور نبیوں کی مخالفت کی ہے اور جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ ہمارے نبی و رسول ہیں اس طرح وہ بھی تھے پھر اس سے اندازہ لگایا کہ جب ہم نے ہر نبی و رسول کی مخالفت کرنے والوں کا رگڑا کیا ہے اور ان کو تہس نہس کرتے رہے ہیں تو اگر تم نے مخالفت اسی طرح جاری رکھی تو تمہارے لئے کوئی نیا قانون نہیں بنائیں گے بلکہ اسی طرح تمہارے دفتر کو بھی لپیٹ دیا جائے گا جس طرح ان کے دفتروں کو لپیٹا گیا تھا۔ تم تو دور دراز کے سفر کرتے رہتے ہو کیونکہ تاجر پیشہ لوگ ہو اب اگر کہیں تمہارا گزر لوط کی بستیوں پر سے ہو تو سای بحر لوط جس کو تم لوگ بحرمیت بھی کہتے ہو ذرا پوچھ دیکھنا کہ تیری تاریخ کیا ہے اور اسی طرح بابل اور نینویٰ کے کھنڈرات سے پوچھ لینا کہ تمہارے بسنے والوں پر کیا بیتی تھی اور آج اگر تم اتنی دور نہیں جاسکتے کہ راستے تم نے خود ہی مسدود کر لئے ہیں تو چلو اہل پاکستان ذرا موہنجوداڑو اور ہڑپہ سے برآمد ہونے والی شکستہ دیواروں ہی سے پوچھ دیکھو کہ تم پر کیا بیتی اور تم پر کیا افتاد پڑی کہ اتنی عظیم ثقافت اور اتنے اعلیٰ تمدن کے باوجود تم کو لوح ہستی سے حرف غلط کی طرح کیوں مٹا دیا گیا۔ اگر تم نے کان لگا کر سنا اور اس طرح سننے کی صلاحیت تم میں موجود ہوتی تو وہ تم کو بتائیں گے کہ ہمارے بسانے والوں نے اپنے خالق حقیقی سے کیونکر منہ موڑ لیا تھا اور ان کو سمجھانے والے جب سمجھاتے تھے تو وہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے اور جو کچھ وہ بتائیں تم وہی یاد رکھو اور بہتر ہے کہ ان شرارتوں سے تم باز آ جائو جو تم کر رہے ہو اگر باز نہ آئے تو سنت اللہ یہی ہے کہ اس نے آج تک ایسے غافلوں کو کبھی نہیں چھوڑا اور وہ تم کو بھی نہیں چھوڑے گی۔ اللہ تعالیٰ کے غضب کے بہت سے نشانات کو اب بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے اور مزید قریب رہ کر قدرت خداوندی کا نظارہ کرنا چاہتے ہو تو یہ تمہارے نزدیک شاہی قلعہ پڑتا ہے اس کا نظارہ کر دیکھو اگر تمہارے پاس بینا آنکھ اور دل میں غور کی ذرا بھی کرن موجود ہے تو وہ اپنی ساری داستان سنا دے گا کہ میرے مکینوں نے مجھے کس طرح آباد کیا تھا اور خدائی ہاتھ نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ اگر اندازہ کرسکتے ہو تو میرے ان کھنڈرات ہی سے کرلو جو تم کو بتا رہے ہیں کہ ؎ کھنڈرات بتا رہے ہیں کہ عمارت عجیب تھی
Top