Siraj-ul-Bayan - Maryam : 39
فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ
فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا : پھر اگر وہ جواب نہ دے سکیں لَكُمْ : تمہارا فَاعْلَمُوْٓا : تو جان لو اَنَّمَآ : کہ یہ تو اُنْزِلَ : نازل کیا گیا ہے بِعِلْمِ اللّٰهِ : اللہ کے علم سے وَاَنْ : اور یہ کہ لَّآ اِلٰهَ : کوئی معبود نہیں اِلَّا هُوَ : اس کے سوا فَهَلْ : پس کیا اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ : تم اسلام لاتے ہو
اور تیرا رب جو چاہے (ف 2) پیدا کرے اور پسند کرے ان کا کچھ اختیار نہیں ہے ۔ اور اللہ پاک ہے اور ان کے شرک سے بلند
اللہ جس کو چاہے اپنی خدمات کے لئے مختص کرلے 2: یخلق مایشاء ومختار سے مقصود اصل میں ایک شبہ کارندہ ہے ۔ مکہ والوں کو ہمیشہ یہ بات کھٹکتی تھی کے خدا نے قریش کے بڑے بڑے لوگوں کو چھوڑ کر محمد ﷺ ایسے بےیارو مدد گا شخص کو نبوت اور رسالت کے لئے کیوں منتخب کیا ۔ وہ کہتے تھے کہ ہم روساء ہیں ۔ معززین ہیں ۔ پڑھے لکھے لوگ ہیں اور دنیا کے لحاظ سے وجیہہ ہیں عظیم الشان ہیں ۔ ان سب باتوں سے قطع نظر کرکے آخر اللہ نے یہ کیا سوچا کہ ایک یتیم بنیوا کو سرداری بخش دی ! کیا ہم میں کوئی اس قابل نہ تھا ۔ کہ اس کے سر پر نبوت کا تاج رکھا جاتا ! کیا ہم سب نالائق تھے ! ان کی رائے میں یہ سخت تکلیف دہ اور ناقابل برداشت فروگذاشت تھی ! عیسائی اور یہودی بھی تقریباً اس نوع کے اعتراضات کرتے ۔ وہ بھی یہ کہتے کہ نبوت کے اعزاز کے لئے اب تک بنی اسرائیل کو اہل سمجھا گیا ہے اور نبی اسمعیل کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ۔ اس لئے ضروری تھا کہ اگر عرب میں کسی پیغمبر کو بھیجنا منظور تھا تو وہ بنی اسرائیل میں سے ہوتا ۔ بنی اسمعیل میں سے نہ ہوتا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ تم لوگ ہماری مصلحتوں سے آگاہ نہیں ہو ۔ تمہاری نظریں بالکل سطحی ہیں ۔ تم یہ انہیں جان سکتے ۔ کہ کون شخص نبوت کے عہدہ جلیلہ کے لئے مناسب اور موزوں ہے ۔ تم صرف یہ دیکھتے ہو کہ تم میں کون زیادہ سرمایہ دار اور زیادہ اعمان وانصار رکھنے والا ہے ۔ اور ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کون قلب و دماغ کے لحاظ سے ان سب سے بلند ہے اور کون بےیارومددگار ہے ۔ کہ ہم اس کو منتخب کریں اور لاکھوں پر بھاری بنادیں غرض یہ ہے کہ تم کو اللہ کے معاملات میں دخل اندازی کا استحقاق نہیں ہے ۔ وہ جو چاہے کرے ۔ اور جس شخص کو چاہے برگزیدہ کرے حل لغات : ویختار ۔ اس کے بعد من یشاء محذوف ہے بمعنی جس کو چاہتا ہے دیا کی خدمت
Top