Al-Qurtubi - An-Nahl : 63
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق زَيَّنَّا : زینت دی ہم نے۔ خوب صورت بنایا ہم نے السَّمَآءَ الدُّنْيَا : آسمان دنیا کو بِمَصَابِيْحَ : چراغوں کے ساتھ وَجَعَلْنٰهَا : اور بنایا ہم نے ان کو رُجُوْمًا : مارنے کی چیز لِّلشَّيٰطِيْنِ : شیطانوں کے لیے وَاَعْتَدْنَا : اور تیار کیا ہم نے لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابَ السَّعِيْرِ : جلنے کا عذاب
اور بلاشبہ ہم ہی نے مزین (اور آراستہ و پیراستہ) کیا (اپنی قدرت کا ملہ اور حکمت بالغہ سے تمہارے) قریب کے اس آسمان کو (ستاروں کے) عظیم الشان چراغوں سے اور ہم ہی نے ان کو بنایا شیطانوں کے مار بھگانے کا ذریعہ اور ہم نے تیار کر رکھا ہے ان کے لئے عذاب بھڑکتی آگ کا
10 زینت آسمانی اور اس میں سامان غور و فکر کا ذکر وبیان : سو آسمان دنیا کی تزئین قدرت کی رحمت و عنایت اور اس کی قدرت و حکمت کا ایک اور عظیم الشان شاہکار ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم ہی نے مزین کیا قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے۔ اور ایسے عظیم الشان چراغوں سے کہ ان کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں ہوسکتی ‘ اور ظاہر ہے کہ ان بےحد و حساب ‘ روشن و چمکدار ‘ تاروں کو پیدا کرنا اور ان کو اس پر حکمت طریقے سے اس نیلگوں آسمان میں اس طرح نصب کردینا ‘ اس قادر مطلق کی قدرت بےپایاں کے سوا اور کس کا کام ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ سو آسمان دنیا (قریب کے آسمان) کے ان عجائب کا مشاہدہ نسبتاً زیادہ آسانی سے کیا جاسکتا ہے ‘ پس تم ذرا دیکھو کہ اس کو ہم نے کس قدر عظیم الشان قمقموں سے روشن کیا ہے اور اس کا تقاضا کیا ہے ؟ سو آسمان دنیا کی یہ عظیم الشان اور بےمثال تزئین و آرائش حضرت خالق جل مجدہ کی قدرت بےپایاں اور حکمت بےنہایت کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ وہ رب رحمن نہایت رحمت و کرم والا اور انتہائی فیاض و کریم بھی ہے جس نے اپنے بندوں کیلئے آسمان کی اس عظیم الشان چھت کو ستاروں اور سیاروں کے ان عظیم الشان و بےمثال قمقموں سے اس محکم و مضبوط اور اس پر حکمت و حیرت انگیز طریقے سے مزین اور آراستہ و پیراستہ فرمایا ہے۔ سو یہ چمکتے دمکتے ستارے و سیارے اپنی زبان حال سے انسان کو دعوت غور و فکر دے رہے ہیں۔ تاکہ اس طرح انسان اپنے خالق ومالک کی قدرت اور اس کی حکمت و رحمت کے نمونے دیکھ سکے ‘ اور دل و جان سے اس کے آگے جھک جائے۔ 11 رجم شیاطین مقصد کا ذکر وبیان : سو اس سے ستارو کے دوسرے مقصد یعنی رجم شیاطین کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ چناچہ سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم ہی نے ان کو شیطانوں کے مار بھگانے کا ذریعہ بنایا۔ تاکہ وہ عالم بالا کی باتیں نہ سن سکیں ‘ جیسا کہ ان کا طریقہ تھا کہ وہ اس طرح کوئی ایک آدھ بات سن گن لیتے اور پھر اس کے ساتھ سو جھوٹ اور ملا کر وہ اس کو اپنے چیلوں چانٹوں میں رواج دیتے ‘ جس سے ان کا کاروبار کذب و زور خوب چلتا اور چمکتا ‘ جیسا کہ دوسری مختلف نصوص و روایات میں اس کی تصریح موجود ہے ‘ بہرکیف یہ ستارو کا دوسرا بڑا اور اہم فائدہ اور مقصد ہے کہ ان سے شیطانوں کو مار بھگایا جاتا ہے تاکہ وہ آسمانوں تک رسائی نہ حاصل کرسکیں اور وہاں کی باتیں نہ سن سکیں ‘ جب کہ ان کا تیسرا بڑا فائدہ اور مقصد یہ ہے کہ ان کے ذریعے انسان کو بحر و بر میں راہنمائی ملتی ہے ‘ اور وہ اپنے سفر کے راستے معلوم کرتا ہے ‘ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے۔ " وعلمت وبالنجم ھم یھتدون " (النحل :16) ۔ سو تاروں کے یہ تین مقصد ہوئے۔ چناچہ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ ستارو کو اللہ تعالیٰ نے تین مقاصد کیلئے پیدا فرمایا ہے کہ ایک تو یہ کہ یہ آسمان کیلئے زیب وزینت ہیں اور دوسرے یہ کہ ان سے شیطانوں کو مار بھگایا جاتا ہے ‘ اور تیسرے یہ کہ ان سے انسان کو بحر و بر میں رہنمائی ملتی ہے (روح ‘ ابن کثیر ‘ المدارک ‘ القرطبی ‘ المراغی وغیرہ) بہرکیف ستارے بحر و بر میں انسان کی راہنمائی کرتے ‘ اور اسے منزل مقصود تک پہنچنے کی راہ دکھاتے ہیں ‘ جیسا کہ ابھی اوپر گزرا۔ سبحان اللہ کتنے عظیم الشان فوائد ہیں جو ان عظیم الشان نورانی قمقموں (ستاروں) سے وابستہ ہیں ‘ جن سے یہ انسان فائدہ اٹھاتا ہے مگر یہ کبھی سوچتا تک نہیں کہ یہ سب کچھ کیا کس نے ؟ کس لئے کیا ‘ وہ کتنا بڑا خالق و حکیم اور وہاب و کریم اور بےپایاں قدرت والا ہے ‘ اس کا مجھ پر اور پوری بنی نوع انسآن پر کیا حق ہے ؟ اور اس کے ان حقوق کی ادائیگی کس طرح ممکن ہوسکتی ہے ؟ سو غافل انسان اس طرف کوئی توجہ نہیں کرتا ‘ بلکہ وہ الٹا یہ کرتا ہے کہ ان کے ذریعے خدائے پاک کی یاد تازہ کرنے اور اس کے حضور دل و جان سے جھکنے کی بجائے الٹا انہی کے ذریعے کفر و شرک کا ارتکاب کرکے اپنی جان پر اور ظلم ڈھاتا ہے ‘ اور پھر اس کریم مطلق اکرم الاکرمین کا کرم بھی دیکھو کہ اس سب کے باوجود وہ اس انسان کو ڈھیل پر ڈھیل دیئے جا رہا ہے ‘ تاکہ انسان سنبھل جائے اور اپنے ہولناک انجام سے بچ جائے۔ فالحمدللہ رب العلمین۔ سو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو اس شان و اہتمام کے ساتھ پیدا فرمانے کے بعد یونہی نہیں چھوڑ دیا کہ شیطان اس کو اپنی آماجگاہ بنالیں ‘ بلکہ اس نے اس کی نگرانی بھی کی ہے ‘ سو جب وہ حدود سے تجاوز کرتے ہیں تو ان کی سرکوبی بھی ہوتی ہے ‘ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خلق بےراعی کا گلہ نہیں ‘ بلکہ جس خالق حکیم نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے اس کو وجود بخشا ہے ‘ وہ پوری بیداری کے ساتھ اس کی نگرانی بھی فرما رہا ہے ‘ اور ایک دن ایسے تمام جن و انس اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر رہیں گے ‘ جو اس میں دھاندلی مچائیں گے ان کیلئے اس نے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 12 شیطانوں کیلئے عذاب دوزخ تیار والعیاذ باللہ جل و علاء الکبیر : سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم نے ان کیلئے تیار کر رکھا ہے دوزخ کا عذاب۔ یعنی ان شیاطین کیلئے رجم و آتش باری کے اسی دنیاوی عذاب پر ہی بس نہیں ‘ بلکہ اس کے بعد آخرت کا عذاب بھی ہم نے ان کیلئے تیار کر رکھا ہے ‘ جو کہ دائمی ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " ولھم عذاب واصب " (الصافات :9) بہرکیف ایسے شیاطین کیلئے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کا عذاب تیار ہے ‘ (المراغٔ‘ الفتح ‘ الصفوۃ وغیرہ) سعیر کے معنی اشد الحریق یعنی نہایت سخت آگ کے کیے گئے ہیں۔ سو شیاطین کا چونکہ جرم بہت سخت اور نہایت سنگین ہے کہ ان کا کام لوگوں کو بھٹکانا اور راہ حق و ہدایت سے پھیرنا ہے اس لئے ان کا عذاب بھی سب سے زیادہ اور نہایت سنگین ہوگا اور دوسری بات یہاں سے یہ بھی واضح ہوجاتی ہے کہ باغیوں اور سرکشوں کو جو عذاب دنیا میں ملتا ہے وہ ان کا اصل اور حقیقی عذاب نہیں ہوتا بلکہ وقتی نوعیت کا اور خاص حد تک ہی ہوتا ہے۔ اصل اور پورا عذاب آخرت ہی میں ہوگا کہ دنیا دارالجزاء نہیں دارالعمل ہے دارالجزاء آخرت ہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Top