Madarik-ut-Tanzil - Ash-Shura : 51
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ
وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لیے اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ : کہ کلام کرے اس سے اللہ اِلَّا وَحْيًا : مگر وحی کے طور پر اَوْ مِنْ : یا، سے وَّرَآئِ حِجَابٍ : پردے کے پیچھے سے اَوْ يُرْسِلَ : یا وہ بھیجتے رَسُوْلًا : کوئی پہنچانے والا فَيُوْحِيَ : تو وہ وحی کرے بِاِذْنِهٖ : ساتھ اس کے اذن کے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہے اِنَّهٗ : یقینا وہ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ : بلند ہے، حکمت والا ہے
اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا اس سے بات کرے مگر الہام (کے ذریعے) سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے تو وہ خدا کے حکم سے جو خدا چاہے القا کرے بیشک وہ عالی رتبہ (اور) حکمت والا ہے
طرقِ وحی کی تفصیل : 1 5: وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ (اور کسی بشر کی یہ شان نہیں) کسی بھی انسان کیلئے یہ درست نہیں۔ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا (کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے) الہام کے طور پر جیسا کہ مروی ہے نفث فی روعی کہ دل میں یہ بات ڈالی گئی ] رواہ احمد : 3/50[ یا نیند میں خواب کے ذریعہ جیسا کہ نبی (علیہ السلام) کا قول ہے۔ رؤیا الانبیاء وحی۔] رواہ البخاری : 859[ وہ جیسے ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کے ذبح کا حکم خواب میں ملا۔ اَوْمِنْ وَّرَآ یِٔ حِجَابٍ (یا حجاب کے باہر سے) یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کلام براہ راست سنتا ہے جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے سنا بغیر اس کے کہ کوئی سامع کلام کرنے والے کو دیکھے اور اس حجاب سے مراد حجاب اللہ نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کیلئے وہ لفظ استعمال کرنے جائز نہیں جو اجسام کیلئے جائز ہیں۔ مثلاً حجاب وغیرہ۔ لیکن اس سے مراد یہ ہے سامع کو دنیا میں ْنظر آنے سے وہ محجوب ہے۔ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا (یا کسی رسول کو بھیجے) یعنی فرشتے کو بھیجے فَیُوْحِیَ (پس وہ پیغام پہنچا دیتا ہے) ۔ وہ فرشتہ اس کی طرف پیغام پہنچا دیتا ہے۔ ایک قول : یہ ہے۔ وحیاً جیسا کہ رسولوں پر ملائکہ کے واسطہ سے وحی کی گئی۔ اویرسل رسولاً یعنی نبی کو بھیجے جیسا کہ انبیاء (علیہم السلام) کی اقوام سے ان کی زبانوں کے مطابق کلام کیا گیا۔ وحیًا اور ان یرسل یہ دونوں مصدر ہیں اور یہ حال بن رہے ہیں۔ کیونکہ ان یرسل ارسالا کے معنی میں ہے اور من وارء حجابؔ یہ ظرف ہے جو حال کی جگہ آیا ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں وعلی جنوبھم ] آل عمران : 191[ تقدیر کلام اس طرح ہے اور صحیح نہیں کہ وہ کسی سے کلام کرے مگر یہ کہ وہ وحی کرنے والے ہوں یا مسمعًا من وارء حجاب پردے کے پیچھے سے سنانے والے ہوں۔ یا مرسل بھیج کر پہنچا نے والے ہوں۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ معنی اس طرح کرلیں کسی انسان کے لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام کریں مگر اس طرح کہ وحی کی جائے یا وہ پردے کے پیچھے سے سنتا ہے یا وہ کوئی قاصد بھیجتا ہے خلیل نحوی نے اس کو اختیار کیا ہے اور اویرسل رسولا فیوحِی رفع کے ساتھ نافع نے پڑھا تقدیر عبارت : اوھو یرسل رسولا فیوحی (وہ رسول بھیجتا ہے پس وہ ان کے ذریعہ وحی کرتا ہے) نافع اور علی نے مرفوع پڑھا ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے او ھو یرسل فیوحی (یا وہ کئی رسول بھیج کر پس وہ وحی کرے) ۔ بِاِذْنِہٖ (اللہ تعالیٰ کے حکم سے) مَا یَشَآ ئُ (جو وہ چاہے) وحی سے اِنَّہٗ عَلِیٌّ (بیشک وہ غالب ہے) اسے روکا نہیں جاسکتا۔ حَکِیْمٌ (وہ اپنے اقوال و افعال میں درستی والا ہے) پس اس کے افعال و اقوال میں معارضہ نہیں۔
Top