Tafseer-e-Majidi - Al-Muminoon : 19
فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ
فَاَنْشَاْنَا : پس ہم نے پیدا کیے لَكُمْ : تمہارے لیے بِهٖ : اس سے جَنّٰتٍ : باغات مِّنْ : سے۔ کے نَّخِيْلٍ : کھجور (جمع) وَّاَعْنَابٍ : اور انگور (جمع) لَكُمْ : تمہارے لیے فِيْهَا : اس میں فَوَاكِهُ : میوے كَثِيْرَةٌ : بہت وَّمِنْهَا : اور اس سے تَاْكُلُوْنَ : تم کھاتے ہو
پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے تمہارے لئے کھجوروں کے اور انگوروں کے باغ اگائے ان میں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو،16۔
16۔ (بعض کو خشک کرکے بطور غذا کے) (آیت) ” فواکہ کثیرۃ “۔ بہت سے پھل تروتازہ کھائے جاتے ہیں۔ یہاں یہ بتایا کہ یہ عمل تکوینی بھی تمامتر حق تعالیٰ ہی کا ہے۔ کھیت پات رزق کا دیوتا کوئی الگ نہیں۔ (آیت) ” نخیل واعناب “۔ کھجور کی اہمیت اور اس لیے اس کے ذکر کی تخصیص اہل عرب کے لئے بالکل ظاہر ہے۔ انگور بھی عرب کے بعض حصوں کا خاص میوہ ہے۔ ملاحظہ ہوبقرہ (پ 3) آیت 262 کا حاشیہ۔
Top