Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 19
فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ
فَاَنْشَاْنَا : پس ہم نے پیدا کیے لَكُمْ : تمہارے لیے بِهٖ : اس سے جَنّٰتٍ : باغات مِّنْ : سے۔ کے نَّخِيْلٍ : کھجور (جمع) وَّاَعْنَابٍ : اور انگور (جمع) لَكُمْ : تمہارے لیے فِيْهَا : اس میں فَوَاكِهُ : میوے كَثِيْرَةٌ : بہت وَّمِنْهَا : اور اس سے تَاْكُلُوْنَ : تم کھاتے ہو
پھر ہم نے اس سے تمہارے لئے کھجوروں کے باغ بنائے ان میں تمہارے لئے بہت سے میوے پیدا ہوتے ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو
(23:19) بہ۔ میں ضمیر واحد مذکر حاضر کا مرجع ماء ہے۔ فواکہ۔ میوہ ۔ پھل ۔ واحد فاکھۃ۔ بعض نے کہا ہے کہ فاکھا کا لفظ ہر قسم کے میوہ جات پر بولا جاتا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک انگور اور انار کے علاوہ باقی میوہ جات کو فاکھۃ کہتے ہیں۔ انہوں نے ان دونوں کو اس لئے مستثنیٰ کیا ہے کہ قرآن مجید میں ان دونوں کو فاکھہ پر عطف کے ساتھ ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فاکھہ کے غیر ہیں۔ بوجہ غیر منصرف ہونے کے (تانیث جمع) اس پر تنوین نہیں آتی۔ منھا۔ میں اگر ھا ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع جنت ہے تو یہ ابتدائیہ ہے بمعنی ” سے “ جیسے من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی (17:1) اور اگر اس ضمیر کا مرجع فواکہ ہے تو من تبعیضیہ ہے، بمعنی ان میں سے بعض کو کھاتے ہو۔
Top