Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 19
فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ
فَاَنْشَاْنَا : پس ہم نے پیدا کیے لَكُمْ : تمہارے لیے بِهٖ : اس سے جَنّٰتٍ : باغات مِّنْ : سے۔ کے نَّخِيْلٍ : کھجور (جمع) وَّاَعْنَابٍ : اور انگور (جمع) لَكُمْ : تمہارے لیے فِيْهَا : اس میں فَوَاكِهُ : میوے كَثِيْرَةٌ : بہت وَّمِنْهَا : اور اس سے تَاْكُلُوْنَ : تم کھاتے ہو
پھر اس پانی کی آبیاری سے تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغوں کو نشو ونما دے دی ، ان باغوں میں تمہارے لیے بہت سے پھل پیدا ہوتے ہیں بعض تمہارے کھانے میں کام آتے ہیں
تمہارے باغات کا پیدا کرنے والا اور ان پر پھل لگانے والا بھی وہی ہے : 19۔ اچھا بتاؤ کہ اس پانی کو کس نے بنایا اور پھر کس نے اس کو بادلوں سے نازل کیا ؟ اب تو تم کو معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے تو اب اچھی طرح سمجھ لو کہ اس پانی سے اللہ تعالیٰ ہی نے تمہارے لئے کھجوروں اور دوسرے سارے پھل دار درختوں ‘ انگوروں اور ساری پھل دار بیلوں کو پیدا کیا ہے اور انہی پھلوں میں سے ایسے پھل بھی ہیں جو تم کچے توڑ کر بطور سالن پکا کر کھاتے ہو اور ایسے بھی ہیں جو بغیر پکائے کچے ہی کھا جاتے ہو اور پھر ایسے بھی ہیں جو درختوں پہ تیار ہوجانے کے بعد تم اتارتے ہو اور طرح طرح کے ان پھلوں کو کھا کر مزے لیتے ہو اور اس پانی سے اس نے تمہارے لئے طرح طرح کی اجناس پیدا کردیں جو تم بطور غذا استعمال کرتے ہو ۔ کبھی تم نے تیار شدہ کیلے کو استعمال کیا ہوگا کہ یہ کیسا ہے اور کیا ہے ؟ کتنا میٹھا کہ حلوا بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ذرا اس کا چھلکا اتارو اور حلوا استعمال کرلو لیکن اس کو کھا کر اپنے پیسے کی طرف تمہارا خیال جاتا ہے جو تم نے خرچ کیا ہے کیا اس ذات کا بھی کبھی تم کو خیال ہے جس نے اس کو تمہاری خاطر بنا کر تمہیں پیش کردیا یا کیا انسان صرف روٹی کھاکر نہیں جی سکتا تھا ؟ کیوں نہیں لیکن اس نے تمہاری ضیافت کے لئے ان گنت اور مختلف مزے کے پھل تیار کردیئے تاکہ تم ان کو کھا کر محظوظ ہو اور اس کی حمد وثنا کے گیت گاؤ لیکن تم ہو کہ جس کا کھاتے ہو اس کی مخالفت میں دن رات کمربستہ ہو اور بجائے شکر گزاری کے ناقدری اور ناشکری پر تلے ہوئے ہو ۔ زیر نظر آیت میں صرف ان پھلوں کا نام لیا گیا ہے جو عربوں کے ہاں اس وقت عام تھے اور ان کے ضمن میں وہ دنیا جہان کے سارے پھل آجاتے ہیں کیونکہ ان سب کا پیدا کرنے والا وہی اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے اور قریب الجنس درختوں کو ایک دوسرے کے ساتھ پیوند کاری کے طریقے بھی اس کی عطا کردہ عقل و دانش سے لگائے جاتے ہیں جس سے مزید اجناس کے پھل پیدا ہو رہے ہیں یہ پیوند کرنے والے ان پھلوں کے خالق نہیں کہلوا سکتے اس لئے ضروری ہے کہ انکو کھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور اس کی حمد وثنا کے گیت گاؤ ۔
Top