Tafseer-e-Majidi - Hud : 44
وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ
وَلَمَّا : اور جب بَلَغَ اَشُدَّهٗ : وہ پہنچا اپنی جوانی وَاسْتَوٰٓى : اور پورا (توانا) ہوگیا اٰتَيْنٰهُ : ہم نے عطا کیا اسے حُكْمًا : حکمت وَّعِلْمًا : اور علم وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح نَجْزِي : ہم بدلہ دیا کرتے ہیں الْمُحْسِنِيْنَ : نیکی کرنے والے
پھر جب وہ اپنی پختگی کو پہنچ گئے اور درست ہوگئے ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا،16۔ اور ہم نیک کاروں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں،17۔
16۔ یعنی فہم سلیم وعقل مستقیم بطور مقدمہ نبوت کے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ابھی تک نبی نہ تھے، لیکن آثار نبوت سب بیدار ہوچکے تھے۔ (آیت) ” استوی “۔ یعنی قوائے جسمانی وعقلی پورے بلوغ کو پہنچ لیے۔ 17۔ یعنی عمل صالح سے فیضان علمی میں ترقی ہوتی رہتی ہے۔ (آیت) ” نجزی “ سے معلوم ہوتا ہے کہ حکم سے مراد یہاں نبوت نہیں۔ کیونکہ نبوت جزاء اعمال و احسان نہیں، محض خدائے رحمن کا فضل خاص ہے (کبیر)
Top