Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 10
وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ
وَمَا : اور جو بھی اخْتَلَفْتُمْ : اختلاف کیا تم نے فِيْهِ : اس میں مِنْ شَيْءٍ : کسی چیز میں سے فَحُكْمُهٗٓ : تو اس کا فیصلہ کرنا اِلَى اللّٰهِ : طرف اللہ کے ہے ذٰلِكُمُ اللّٰهُ : یہ ہے اللہ رَبِّيْ : رب میرا عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ : اسی پر میں نے بھروسہ کیا وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف اُنِيْبُ : میں رجوع کرتا ہوں
اور جس چیز میں تم اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے،11۔ یہی اللہ میرا مددگار ہے میں اسی پر توکل رکھتا ہوں، اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں،12۔
11۔ (دنیا میں دلیل صحیح سے اور آخرت میں فیصلہ کے عملی نفاذ سے) (آیت) ” فحکمہ الی اللہ “۔ حکم الی اللہ۔ کے تحت میں منصوص وحکم مستنبط دونوں آگئے اور حکم نص واستنباط دونوں پر حاوی ہے۔ اس حقیقت کے سمجھ لینے سے خوارج اور منکرین فقہ دونوں کے بہت سے مغالطوں کا جواب نکل آتا ہے۔ 12۔ (اور ظاہر ہے کہ جو دنیا وآخرت کے ہر امر میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرے گا اور اسی پر بھروسہ رکھے گا اسے کسی مخلوق سے خوف ہی کیا ہوسکتا ہے) قرآن نے بار بار زور اس حقیقت پر دیا ہے کہ اللہ کو ایک فلسفیانہ نظریہ کے ماتحت محض مسبب الاسباب یا خالق کل سمجھے رہنا ہرگز کافی نہیں۔ ضرورت اس کی ہے کہ اس کے ساتھ انسان تعلق اپنی ہر ضرورت کا جوڑے رہے، اور اسی کو مدبر عالم و کارساز کائنات سمجھتا رہے۔ مشرک قوموں کی اصل گمراہیاں اسی باب میں تھیں ، (آیت) ” ذلکم “۔ یعنی وہی جو میرے تمہارے درمیان حاکم ہے۔ اے ذالکم الحاکم بینکم ھو ربی (کبیر)
Top