Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 5
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ : قریب ہے آسمان يَتَفَطَّرْنَ : کہ پھٹ پڑیں مِنْ : سے فَوْقِهِنَّ : اپنے اوپر (سے) وَالْمَلٰٓئِكَةُ : اور فرشتے يُسَبِّحُوْنَ : وہ تسبیح کررہے ہیں بِحَمْدِ : ساتھ حمد کے رَبِّهِمْ : اپنے رب کی وَيَسْتَغْفِرُوْنَ : اور وہ بخشش مانگتے ہیں لِمَنْ فِي الْاَرْضِ : واسطے ان کے جو زمین میں ہیں اَلَآ : خبردار اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ تعالیٰ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ : وہ غفور رحیم ہے
قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیج کرتے رہتے ہیں اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں۔ سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
تکاد السموت یتفطرن من فوقھن کچھ بعید نہیں کہ آسمان اوپر سے (کہ ادھر ہی سے بوجھ پڑتا ہے) پھٹ پڑیں ‘ یعنی اللہ کی عظمت و بزرگی کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں ‘ کچھ بعید نہیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ مشرکین جو اللہ کو صاحب اولاد قرار دیتے اور کہتے ہیں : اتخذوا اللہ ولدًا ان کے اس قول سے اگر آسمان پھٹ پڑیں تو بعید نہیں ‘ سورة مریم کی آیت لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا اِدًّا تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ اسی مطلب پر دلالت کر رہی ہے۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ کثرت ملائکہ سے اگر آسمان پھٹ جائیں تو بعید نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آسمان چرچرایا اور چرچرانا اس کیلئے بےجا بھی نہیں ہے ‘ قسم نے اس کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے ! آسمان میں بالشت بھر جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدہ کرنے والے کسی فرشتہ کی پیشانی سجدہ میں نہ ہو جو اللہ کی تسبیح وتحمید میں مشغول رہتا ہے ‘ رواہ ابن مردویہ عن انس۔ بغوی کی روایت میں آیا ہے کہ آسمان میں ایک قدم رکھنے کی کوئی جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ قیام میں ‘ یا رکوع میں ‘ یا سجدہ میں نہ ہو۔ مِنْ فَوْقِھِنَّ اوپر کی جانب سے ‘ یعنی پھٹنے کی ابتداء اوپر ہی کی جہت سے ہوگی۔ اول مطلب پر فوق سے ہونے کی تخصیص اس وجہ سے ہوگی کہ یہ اللہ کی عظمت شان اور برتری کی سب سے بڑی نشانی ہے ‘ دوسرے مطلب پر فوقیت کا خصوصی ذکر اسلئے کیا کہ اس سے نیچے کی طرف پھٹنا بدرجۂ اولیٰ ثابت ہوجائے گا اور تیسرے مطلب پر خصوصیت فوق کی وجہ یہ ہوگی کہ اوپر ہی ملائکہ کی کثرت ہوگی (اور اوپر سے ہی بار پڑے گا) بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ ہنّ کی ضمیر ارض کی طرف سے راجع ہے کیونکہ ارض سے مراد جنس ہے (اور جنس کی طرف جمع کی ضمیر بھی راجع ہوسکتی ہے) یہ قول دوسرے تفسیری مطلب پر درست ہوگا۔ والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم اور فرشتے اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں۔ یعنی کافر جو اللہ کی طرف صاحب اولاد ہونے کی نسبت کرتے ہیں اور ایسی باتیں اس کی ذات میں مانتے ہیں جو کسی طرح اسکی شان کے مناسب نہیں ‘ ان سب سے فرشتے اللہ کے پاک ہونے کا اظہار کرتے ہیں ‘ خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ عظمت الٰہیہ کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اور بھی تسبیح وتحمید میں مشغول رہتے ہیں۔ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کیلئے حمد الٰہی کرتے ہیں۔ ویستغفرون لمن فی الارض الا ان ھو الغفور الرحیم اور زمین والوں کیلئے معافی طلب کرتے ہیں۔ خوب سن لو کہ اللہ ہی بڑا معاف کرنے والا ‘ مہربان ہے۔ وَیَسْتَغفِرُوْنَ یعنی مؤمنوں کیلئے معافی کے طلبگار ہوتے ہیں کیونکہ مؤمنوں کے ساتھ ان کو ایمان میں شرکت حاصل ہے اور اس شرکت ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ اہل ایمان کیلئے دعاء مغفرت کریں۔ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ یعنی اللہ اپنے دوستوں کو بخشنے والا ‘ مہربان ہے۔
Top