Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Mualim-ul-Irfan - Al-Muminoon : 31
ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ
ثُمَّ
: پھر
اَنْشَاْنَا
: ہم نے پیدا کیا
مِنْۢ بَعْدِهِمْ
: ان کے بعد
قَرْنًا
: گروہ
اٰخَرِيْنَ
: دوسرا
پھر اٹھائیں ہم نے ان کے بعد دوسری قومیں
ربط آیت : گزشتہ دروس میں پہلے توحید باری تعالیٰ کے عقلی دلائل پیش کیے گئے اور پھر نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا۔ انہوں نے بھی لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دی اور فرمایا یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ ، اے میری قوم کے لوگو ! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ کافروں نے نوح (علیہ السلام) پر یہ اعتراض کیا کہ یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے ، بھلا ہم اس کو اللہ کا رسول کیسے تسلیم کرلیں انہوں نے آپ کی بات سننے کی بجائے آپ کو ہر طرح سے تنگ کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے طویل عرصہ تک تبلیغی جدوجہد کے بعد اللہ تعالیٰ سے نجات کی درخواست کی تو اللہ نے کشتی بنانے اور اس میں ہر جاندار کا جوڑا جوڑا نیز اپنے اطاعت گزار گھر والوں کو سوار کرنے کا حکم دیا۔ آپ نے ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ نے ایسا طوفان بھیجا کہ ساری قوم غرق ہوگئی جن میں نوح (علیہ السلام) کی بیوی اور بیٹا بھی شامل تھا ، اور صرف وہی چند لوگ بچے جو آپ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ قوم عاد یا ثمود کا تذکرہ : اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے قوم عاد یا قوم ثمود کا ذکر کیا ہے قوم عاد کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو اللہ نے مبعوث فرمایا اور قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو مامور کیا گیا۔ ان دونوں اقوام کا مفصل تذکرہ سورة اعراف ، سورة ہود ، سورة الشعرآء وغیرہ میں موجود ہے تاہم ان آیات میں نہ تو کسی قوم کو نامزد کیا گیا ہے اور نہ ان کی طرف مبعوث ہونے والے نبی کا اسم گرامی ذکر کیا ہے۔ نفس مضمون وہی ہے جو گزشتہ درس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے متعلق بیان ہوچکا ہے البتہ اس درس کی آخری آیت میں لفظ الصحیۃ سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ قوم ثمود کا ذکر ہے جن کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا۔ اور جب یہ قوم حد سے بڑھ گئی تو اللہ نے نیچے سے زلزلہ اور اوپر سے ایک خوفناک چیخ بھیج کر سب کو ختم کردیا۔ تاہم اس سے مطلق عذاب بھی مراد لیا جاسکتا ہے ، جیسے سورة یٰس میں ہے ان کانت…………خامدون (آیت 29) ارشاد ہوتا ہے ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین ، یعنی قوم نوح (علیہ السلام) کی ہلاکت کے بعد ہم نے اور بھی قومیں اٹھائیں۔ قرن کا اطلاق ایک صدی پر ہوتا ہے ، تاہم اس سے چالیس سال ، اسی سال اور ایک سو بیس سال کا عرصہ بھی مراد لیا جاتا ہے۔ یہ لفظ ایک عمر یا سنگت کے دور پر بھی بولا جاتا ہے۔ تو پھر ہم نے اور قوموں کو اٹھایا فارسلنا فیھم رسولا منھم اور ان کی طرف انہی میں سے ایک رسول بھیجا۔ اس سے مراد حضرت ہود (علیہ السلام) یا صالح (علیہ السلام) ہیں جو کہ اپنی اپنی قوم کے ہی فرد تھے ، اور دونوں نے ایک ہی پیغام پہنچایا جو کہ توحید کا پیغام تھا۔ مگر ان کی قوموں نے ان کو دعوت قبول کرنے کی بجائے ان کے ساتھ سخت بدسلوکی کی ہے اور ان کو تکلیفیں پہنچائیں۔ قوم نوح کے بعد قوم عاد یعنی حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم کو عروج نصیب ہوا ، اور پھر اس کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود برسراقتدار آئی۔ اگرچہ دونوں قوموں کے زمانے مختلف ہیں مگر دونوں قومیں ایک جیسے حالات سے گزریں اور انہوں نے اپنے نبیوں کے ساتھ بھی تقریباً ایک جیسا سلوک کیا۔ یہ دونوں متمدن قومیں تھیں جو جسمانی اور مالی لحاظ سے بڑی مضبوط تھیں ، اسی لئے انہوں نے اللہ کے نبیوں کی تکذیب کی۔ دعوت توحید اور قوم کا جواب : فرمایا ، ہم نے اس قوم کی طرف جو نبی بھیجا اس نے قوم سے کہا ان اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ ، لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے افلا تتقون کیا تم ڈرتے نہیں ؟ خدا کی وحدانیت کو تسلیم کرنے کی بجائے اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو کیا تمہیں خدا تعالیٰ کی گرفت کا خوف نہیں ہے۔ اس کے جواب میں وقال الملا من قومہ الذین کفروا اور کہا آپ کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا وکذبوا بلقاء الاخرۃ اور آخرت کی ملاقات کو بھی جھٹلایا۔ مطلب یہ کہ قوم ہود یا قوم ثمود کے ان سربر اور دہ لوگوں نے نبی کی دعوت کا جواب دیا جنہوں نے ایک تو کفر کا ارتکاب کیا یعنی توحید خداوندی کو نہ مانا اور دوسرے قیامت اور جزائے عمل کا انکار کیا۔ یہ ایسے لوگ تھے واترفنھم فی الحیوۃ الدنیا جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ حال بنایا تھا۔ یہ بڑے خوشحال لوگ تھے جنہیں دنیا کی تمام آسائشیں حاصل تھیں ۔ کہنے لگے ماھذا الا بشر مثلکم نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا ایک ا انسان۔ صاحب ثروت لوگوں نے عام لوگوں کو نبی سے بدظن کرنے کے لئے یہ پٹی پڑھائی کہ یہ کیسے نبی ہوسکتا ہے ، یہ تو تمہارے جیسا عام انسان ہے۔ یا کل مما تاکلون منہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ شخص بھی وہی کچھ کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو ویشرب مما تشربون اور وہ چیز پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔ اگر یہ اللہ کا رسول ہوتا تو اس کا کھانا پینا ، بیٹھنا اٹھنا ، سونا جاگنا اور دیگر معمولات تم سے مختلف ہوتے بھلا ایک انسان کے دعویٰ نبوت کو ہم کیسے تسلیم کرلیں۔ کہنے لگے اس کی بات ہرگز نہ ماننا۔ ولئن اطعتم بشرا مثلکم اگر تم نے اپنے جیسے انسان ہی کی اطاعت اختیار کرلی انکم اذا لخسرون تو ضرور نقصان اٹھانے والے بن جائو گے۔ غرضیکہ قوم کے لوگوں نے اس نبی کی اطاعت کا انکار کردیا جو کمال اخلاق ، کمال دیانت اور کمال امانت کا مالک ہوتا ہے۔ اس کا کردار اس قدر شفاف ہوتا ہے کہ کوئی اس کی طرف انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ اور اس نبی کی تعلیم ہمیشہ یہ ہوتی ہے فاتقوا اللہ واطیعون (الشعرا 126) لوگو ! اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اس طرح نبی کی اطاعت فرض ہوتی ہے مگر ان لوگوں نے کہا کہ اگر اس کی اطاعت کرو گے تو خسارے میں پڑجائو گے۔ اتراف کے نقصانات : ان آیات میں آمدہ الفاظ ملا اور اترفنھم قابل غور ہیں ملا سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کے مخالفین اکثر بڑے لوگ ہی ہوتے ہیں جو یا تو قوم یا قبیلے کے سردا ہوتے ہیں یا پھر حکومت میں صاحب اقتدار ہوتے ہیں۔ گمراہی کا دوسرا سبب اتراف یعنی آسودہ حالی ہے۔ مالدار لوگ بھی اپنے عیش و عشرت میں ہی لگے رہتے ہیں اور انہیں زندگی میں کسی قسم کا انقلاب منظور نہیں ہوتا کیونکہ انقلاب کے ذریعے ان کے آرام و آسائش میں فرق آنے کا خطرہ ہوتا ہے امام شاہ ولی اللہ (رح) اس کو رفاہیت بالغہ میں مبتلا تھے اور یہی چیز مہلک ہے غلط نظام کی یہی قباحت ہے کہ حکومتیں اپنی عیاشی کے لئے زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگاتی ہیں اور مالدار لوگ اپنے مال کے بل بوتے پر سامان تعیش حاصل کرتے ہیں۔ پھر متوسط طبقہ امراء کی اقتداء میں ہر جائز اور ناجائز طریقے سے وہی سہولتیں حاصل کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ادنی طبقہ ظلم کی چکی میں پستا رہتا ہے۔ ان سے جانوروں کی طرح کا تو لیا جاتا ہے مگر معاوضہ پورا نہیں دیا جاتا۔ ان بیچاروں کو اتنی بھی فرصت نہیں ملتی کہ آخرت کے بارے میں بھی کچھ غوروفکر کسرکیں۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ جس طرح رفاہیت بالغہ غلط ہے اسی طرح تقشف بھی غلط ہے۔ منشائے خدا کے خلاف جوگیانہ یا راہبانہ زندگی بسر کرنا اتراف کا الٹ ہے۔ نہ تو بہت زیادہ عیش و آرام کی زندگی ہونی چاہیے اور نہ بالکل تارک دنیا ہی ہوجائے ۔ بلکہ درمیانہ راستہ ہی بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے قیصروکسریٰ کا اترافی نظام نبی آخرالزمان (علیہ السلام) کے ذریعے ختم کردیا مترف لوگ اپنی روش کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور حق کی مخالفت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ حضور ﷺ نے حضرت معاذ ب جبل ؓ کو یمن کا حاکم مقرر کرکے رخصت کرتے وقت جو نصائح فرمائی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی ایاک والتنعم فان عباد اللہ لیسوا بالمتنعمین عیش و عشرت سے بچو کیونکہ اللہ کے بندے عیش و عشرت میں نہیں پڑتے۔ شاہ ولی اللہ (رح) یہ بھی فرماتے ہیں ، کہ جس شہر کی آبادی دس ہزار نفوس تک بڑھ جائے وہاں اختیار کیے جانے والے پیشوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے اور ضروری ہے کہ حکومت ان میں توازن پیدا کرے۔ اچھے پیشوں کو اختیار کرنے کے لئے سہولتیں فراہم کی جائیں۔ اور برے پیشوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اگر اس طرف سے غفلت برتی گئی تو لوگوں میں اتراف پیدا ہوجائے گا۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ ادنیا میں ترقی کا معیار عیش و عشرت ہی رہ گیا ہے۔ اسی مقصد کے حصول کے لئے بڑے بڑے منصوبے بنائے جاتے ہیں اور پھر مشورے بھی ان ممالک سے لئے جاتے ہیں جو نام نہاد ترقی یافتہ ہیں اور جنہوں نے اتراف کو ترقی کا معیار بنارکھا ہے ۔ یعلمون……………………غفلون (روم 7) وہ دنیا کی ظاہری ٹیپ ٹاپ کو تو خوب جانتے ہیں ، ان کے نفع نقصان سے بھی بخوبی واقف ہیں مگر آخرت سے یکسر غافل ہیں۔ ان کا جغرافیہ اسی مادی حیات پر ختم ہوجاتا ہے جو کہ اتراف کا لازمی نتیجہ ہے۔ مشرق کے ترقی پذیر ممالک میں عام لوگ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ انہیں معیاری خوراک ، پانی اور رہائش تک میسر نہیں غرباء کو پلاٹ دینے کا وعدہ محض پراپیگنڈا ہے۔ سرمایہ دار اور صاحبان اقتدار تو کاروں اور کوٹھیوں کی زندگی بسر کرتے ہیں جب کہ ایک عام آدمی کم از کم ضروری تعلیم بھی حاصل نہیں کرپاتا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہمارے ملک کو صرف تیس فیصد آبادی تعلیم یافتہ ہے جب کہ ستر فیصد بالکل جاہل ہیں۔ کیا ان کے حقوق کی ادائیگی حکومت وقت کا فرض نہیں ؟ پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرون ملک بھیجا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تعلیم حاصل کرنے والا انہی کے رنگ میں رنگا جاتا ہے اور جو تھوڑا بہت دین لے کرجاتا ہے ، وہ بھی وہیں چھوڑ آتا ہے فنی تعلیم کے لئے بیرون ملک بھیجنے کی بجائے باہر سے ماہرین تعلیم منگوائے جاسکتے ہیں تاکہ ہماری نوجوان نسل کا ماحول تو تبدیل نہ ہو بہرحال یہ سب اتراف کے ذرائع اور معاشرے کی خرابی کے ذمہ دار ہیں۔ بعث بعدالموت کا انکار : بات انکار رسالت کی چل رہی تھی کہ قوم عاد یا ثمود نے اپنے نبی کی نبوت کا اس لئے انکار کردیا کہ یہ ہمارے جیسا انسان ہے اور ہماری طرح کھاتا پیتا ہے اور دوسری بات یہ کہ ایعدکم انکم اذا متم وکنتم ترابا وغطاما انکم مخرجون ، جو شخص یہ وعدہ بھی کرتا ہے کہ جب تم مر کر مٹی اور ہڈیاں بن جائو گے تو پھر تمہیں دوبارہ زندہ کرکے نکالا جائیگا۔ قوم کے سردار کہنے لگے کہ دیکھو ایسی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ سورة الم سجدہ میں منکرین بعث کا بیان یوں نقل کیا گیا ہے۔ ء اذا ضللنا…………جدید (آیت 10) کیا جب ہم مٹی میں رل مل جائیں گے تو ہم نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے۔ سورة النزعت میں ہےء اذا……………نخرۃ (آیت 11) کیا جب ہم بھربھری ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر بھی جی اٹھیں گے ؟ غرضیکہ انہوں نے حیات بعدالممات کا انکار کیا اور کہنے لگے ھیھات ھیھات لما توعدون ، جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے یعنی مرکر دوبارہ جی اٹھو گے ، یہ بات بالکل بعید ہے ، ایسا ہرگز ممکن نہیں ۔ ساتھ یہ بھی کہا ان ھی الا حیاتنا الدنیا ، ہماری تو صرف اسی زندگی ہے ، ہم اس سے پرے کسی زندگی کو نہیں مانتے نموت ونحیا ، ہم اسی دنیا میں مرتے ہیں اور اسی میں جیتے ہیں وما نحن بمبعوثین اور دوبارہ بالکل نہیں اٹھائے جائیں گے۔ یہ سب اس شخص کی خود ساختہ باتیں ہیں۔ نہ کوئی برزخ ہے ، نہ آخرت ، نہ حشر ونشر ہے اور نہ کوئی دوزخ جنت۔ اسی دنیا میں انسان پیدا ہوتے ہیں اور پھر طبعی عمر پوری کرکے ختم ہوجاتے ہیں۔ آگے کچھ نہیں ہے۔ نبی پر الزام تراشی : توحید خداوندی اور معاد کے نکرین اور اتراف کرنے والے لوگ نبی کی نبوت کا تو پہلے ہی انکار کرچکے تھے کہ ایک انسان نبی کیسے ہوسکتا ہے اب اس پر الزام تراشی بھی شروع کردی۔ کہتے انھو الا رجل ن افتریٰ علی اللہ کذبا یہ ایک ایسا شخص ہے جس نے اللہ پر افتراء باندھا ہے جھوٹ کہتا ہے کہ خدا نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے اور کہ خدا تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کردے گا ، یہ بالکل جھوٹ ہے (نعوذ باللہ) جو خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے وما نحن لہ بمومنین ، ہم اس شخص کی بات پر یقین کرنے والے نہیں ہیں۔ دوسرے مقام پر اللہ نے بشریت رسول کے منکرین کو مدلل جواب دیا ہے۔ کہ جو شخص سے کوئی دوسرا شخص فائدہ اٹھاتا ہے ان دونوں کے درمیان مناسبت ہونا ضروری ہے ورنہ وہ ایک دوسرے سے مستفید نہیں ہوسکیں گے۔ انسانوں کو وحی الٰہی کا علم اور اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین نبی سے سیکھنے سے معلوم ہوتے ہیں اگر نبی انسان نہیں ہوگا تو دوسرے انسان اس سے فائدہ کیسے اٹھاسکیں گے۔ ایسی صورت میں تو غیر جنس کا اسوہ حسنہ بھی اختیار نہیں کیا جاسکے گا تو پھر کامیابی کیسے حاصل ہوگی ؟ منکرین کا مطالبہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی فرشتے کو نبی بنا کر بھیجتا۔ ظاہر ہے کہ اگر اللہ کسی فرشتے کو بھیجتا تو انسانی شکل میں ہی بھیجتا کیونکہ عام انسانوں میں یہ تاب ہی نہیں کہ وہ فرشتے کو اصل شکل میں دیکھ سکیں ۔ اور جب وہ انسان کی صورت میں آتا تو مسئلہ پھر وہی پیدا ہوجاتا۔ کہ یہ تو انسان ہے ، ہم اس کا اتباع کیوں کریں ، لہٰذا انسانوں کی راہنمائی کے لئے نبی کا انسان ہونا ہی ضروری ہے جس میں تمام لوازمات بشری پائے جائیں تاکہ لوگ اس کا نمونہ اختیار کرسکیں۔ نبی کی دعا اور عذاب الٰہی : جب نبی اور امت کے درمیان خلیج اس حد تک وسیع ہوگئی کہ اس کا پاٹنا ناممکن نظر آنے لگا تو نبی نے دعا کی قال رب انصرنی بما کذبون ، اے میرے پروردگار ! میری مدد فرما اس وجہ سے کہ ان لوگوں نے مجھے جھٹلادیا ہے۔ یہ مجھے تکلیفیں پہنچا رہے ہیں۔ نہ خود مانتے ہیں اور نہ دوسروں کو قریب آنے دیتے ہیں۔ اللہ نے ارشاد فرمایا قال عما قلیل لیصبحن ندمین ، صبر کرو ، تھوڑے عرصہ کے بعد یہ خود ہی پشیمان ہوجائیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ کی گرفت آئے گی اور ان کے حواس درست ہوجائیں گے اور پھر ایسا ہی ہوا فلخذتھم الصیحۃ بالحق ، پس پکڑا ان کو ایک چیخ نے حق کے ساتھ۔ جب خدا نے گرفت کی تو پھر نیچے سے زلزلہ آیا۔ اور اوپر سے ایک خوفناک چیخ سنائی دی جس سے مکذبین کے جگر پھٹ گئے فجعلنھم غثاء پھر ہم نے ان کو پیس کر کوڑا کچرا بناڈالا جس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ بڑے مغرور تھے ، مال و دولت کی فراوانی تھی ، اسراف وتبذیمہ کا شکار تھے اپنے زعم میں بڑے باعزت اور نامور تھے مگر اللہ نے انہیں کوڑا کچرا بنا کر رکھ دیا۔ فرمایا فبعدا للقوم الظلمین پس تباہی اور برباد ہے ظلم قوم کے لئے۔ کفر شرک دنیا میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ اللہ نے فرمایا والکفرون………الظلمون (البقرہ 254) کافر ہی ظالم ہیں۔ نیز فرمایا ان الشرک لظلم عظیم (لقمان 13) شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ گویا خدا کی وحدانیت سے انکار شدید ترین ظلم ہے۔ بہرحال اللہ نے ان آیات میں نبی کا نام لیے بغیر اس کی قوم کا سلوک بیان کردیا ہے ، پروگرام اس نبی کا بھی وہی تھا جو دوسرے نبیوں کا تھا کہ لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اس مضمون کو نبی آخرالزمان (علیہ السلام) نے بھی پیش کیا۔ آگے اسی سلسلہ میں مزید انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر آرہا ہے۔
Top