Al-Qurtubi - At-Tawba : 28
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ
يٰٓاَيُّھَا : اے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا : جو لوگ ایمان لائے (مومن) اِنَّمَا : اس کے سوا نہیں الْمُشْرِكُوْنَ : مشرک (جمع) نَجَسٌ : پلید فَلَا يَقْرَبُوا : لہٰذا وہ قریب نہ جائیں الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ : مسجد حرام بَعْدَ : بعد عَامِهِمْ : سال هٰذَا : اس وَاِنْ : اور اگر خِفْتُمْ : تمہیں ڈر ہو عَيْلَةً : محتاجی فَسَوْفَ : تو جلد يُغْنِيْكُمُ : تمہیں غنی کردے گا اللّٰهُ : اللہ مِنْ : سے فَضْلِهٖٓ : اپنا فضل اِنْ : بیشک شَآءَ : اللہ اِنَّ : بیشک اللّٰهَ : اللہ عَلِيْمٌ : جاننے والا حَكِيْمٌ : حکمت والا
مومنو ! مشرک تو نجس ہیں تو اس برس کے بعد وہ خانہ کعبہ کے پاس نہ جانے پائیں اور اگر تم کو مفلسی کا خوف ہو تو خدا چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کردے گا۔ بیشک خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے۔
اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : یایھا الذین امنو انما المشرکون نجس یہ مبتد اور خبر ہے۔ مشرک کے نجس ( ناپاک ہونے) کے ساتھ متصف ہونے کے معنی میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔ پس حضرت قتادہ اور معمر بن راشد وغیرہ ہما نے کہا ہے : کیونکہ وہ جنبی ہوتا ہے (اس لیے ناپاک ہے) کیونکہ جب وہ غسل جنابت کرے تو وہ غسل نہیں ہوتا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا ہے : بلک شرک ہی وہ شے ہے جس نے اسے نجس اور ناپاک بنادیا ہے۔ امام حسن بصری ؓ نے فرمایا : جس نے مشرک کے ساتھ مصافحہ کیا تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔ اور تمام مذاہب اس پر متفق ہیں کہ کافر جب اسلام قبول کرے تو اس پر غسل کرنا واجب ہوتا ہے، سوائے ابن عبدالحکم کے کیونکہ اس نے کہا ہے : یہ واجب نہیں ہے (1) ۔ کیونکہ اسلام سابقہ سارے گناہ مٹا دیتا ہے۔ اور اس پر غسل کے واجب ہونے کا قول ابو ثور ر اور احمد نے کیا ہے۔ اور امام شافعی (رح) نے اسے ساقط کردیا ہے اور کہا ہے : میرے نزدیک پسندیدہ یہ ہے کہ وہ غسل کرے اور اسی طرح ابن قاسم نے بیان کیا ہے۔ اور امام مالک (رح) کا ایک قول یہ ہے کہ وہ غسل کو نہیں پہچانتے۔ اسے ان سے ابن وہب اور ابن ابی اویس نے روایت کیا ہے اور حضرت ثمامہ اور قیس بن عاصم کی حدیث ان اقوال کا رد کرتی ہے ان دونوں کو ابو حاتم البستی نے اپنی صحیح مسند میں روایت کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ ایک دن ثمامہ کے پاس سے گزرے اور وہ اسلام لا چکا تھا، تو آپ ﷺ نے اسے حضرت ابو طلحہ ؓ کے باغ کی طرف بھیجا اور اسے غسل کرنے کا حکم دیا۔ پس اس نے غسل کیا اور دو رکعتیں نماز پڑھی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تحقیق تمہارے ساتھی کا اسلام حسین اور اچھا ہوگیا ہے “۔ اس معنی میں اسے مسلم (رح) نے روایت کیا ہے اور اس میں ہے ثمامہ پر جب حضور کریم ﷺ نے احسان فرمایا تو وہ مسجد کے قریب ایک نخلستان کی طرف چلا گیا اور غسل کیا۔ اور قیس بن عامر نے حکم دیا ہے کہ وہ پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل کرے۔ پھر اگر وہ بالغ ہونے سے پہلے اسلام لائے تو اس کا غسل کرنا محتسب ہے اور جب وہ اپنے بالغ ہونے کے بعد اسلام لائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے غسل جنابت کی نیت کرے۔ یہ ہمارے علماء کا قول ہے اور یہی مذہب کا ماحصل ہے۔ ابن قاسم نے کافر کے لیے جائز قرار دیا ہے کہ وہ اپن زبان سے اسلام کی شہادت کا اظہار کرنے سے پہلے غسل کرلے، بشر طی کہ اپنے دل کے ساتھ اسلام کا اعتقاد رکھتا ہو۔ یہ نظر و فکر کے اعتبار سے ضعیف قول ہے اور اثر کے مخالف ہے۔ اور وہ اس لیے کہ کوئی بھی قول کے بغیر صرف نیت کے ساتھ مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اہل السنت وقا الجماعت کا ایمان کے بارے میں یہ قول ہے : بیشک یہ زبان کے ساتھ اقرار کرنے اور دل کے ساتھ تصدیق کرنے کا نام ہے اور عمل کے ساتھ یہ نمونہ پاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : الیہ یصعد الکلم اطیب والعمل الصا لح یرفعہ (فاطر : 10) (اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام اور نیک عمل پاکیزہ کلام کو بلند کرتا ہے) 1 مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : فلا یقربوا المسجد الحرام، فلا یقر بوا یہ نہی ہے۔ اسی وجہ سے اس سے نون حذف کردی گئی ہے۔ المسجد الحرام اس لفظ کا اطلاق پورے حرم پر کیا جاتا ہے، یہی حضرت عطا کا مذہب ہے۔ تب پورے حرم میں کسی مشرک کو داخل ہونے کی قدرت دینا حرام ہوگا پس جب کوئی ان کی طرف سے ہمارے پاس قاصد آئے امام مقام حل کی طرف نکلے تاکہ وہ (پیغام) سن سکے جو وہ کہتا ہے اور اگر کوئی مشرک چھپ کر حرم پاک میں داخل ہوا اور وہ مرگیا تو اس کی قبر اکھیڑ کر اس کی ہڈیاں نکال لی جائیں گی، نتیجہ اس کے لیے اس کے اندر داخل ہونا جائز نہیں اور نہ اس سے گزرنا جائز ہے۔ اور باجزیرۃ العرب اور کہ مکہ مکرمہ، مدینہ، یمامہ، یمن اور اس کی بستوں پر مشتمل ہے، پس امام مالک رحمتہ اللہ نے کہا ہے : جو بھی دینااسللام پر نہیں وہ ان مقامات سے نکل جائے اور اس کے بارے مترود مسافروں کو نہیں روکا جائے گا اسی طرح امام شافعی (رح) نے کہا ہے، مگر آپ نے اس سے یمن کو مستشنیٰ قرار دیا ہے۔ ان کے لیے تین دنوں کی مدت مقرر کی جائے گی جیسا کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے ان کے لیے اتنی مدت مقرر کی جس وقت آپ نے انہیں جلاد وطن کیا۔ انہیں نہ تو اس میں دفن کیا جائے گا۔ اور نہ انہیں حل کی طرف پناہ دی جائے گی۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ علماء کا کفار کے مساجد حرام میں داخل ہونے کے بارے میں اختلاف ہے اور اس کے بارے پانچ قول ہیں : پس اہل مدینہ نے کہا : یہ آیت تمام مشرکین اور تمام مساجد کے بارے میں عام ہے اور اسی وجہ سے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عمال کی طرف لکھا اور اپنے خط میں اس آیت کی طرف استدلال کیا۔ اور اس کی تائید یہ ارشاد گرامی بھی کرتا ہے : فی بیوت اذن اللہ ان تر فع و یذ کر فیھا اسمہ (النور : 36) (ان گھروں میں جن کے متعلق حکم دیا ہے اللہ نے کہ بلند کیے جائیں اور لیا جائے ان میں اللہ تعالیٰ کا نام) اور کفار ان میں داخل ہونا ان رفعت شان کے خلاف ہے۔ اور صحیح مسلم وغیرہ میں ہے : ” بیشک یہ مساج بول و قذر میں سے کسی شی کی صلاحیت رکھتیں “ (1) الحدیث (یعنی غلاظت سے انہیں پاک اور محفوظ رکھنا چاہیے) اور کافر ان سے خالی نہیں ہوتا۔ اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں مسجد کو کسی حائضہ عورت اور جنبی کے لیے حلال نہیں کروں گا “۔ اور کافر جنبی ہے۔ اور ارشاد باری تعالیٰ : انما المشرکون نجس میں تو اللہ تعالیٰ نے اسے نجس کا نام دیا ہے۔ پس یہ اس سے خالی نہیں کہ یہ نجس العین ہوگا یا پھر بطریق حکم اسے دور رکھا ہوگا۔ اور جو صورتت بھی ہوا سے مسجد سے رکنا واجب ہے، کیونکہ ان میں علت جو کہ نجاست ہے وہ موجود ہے اور مسجد میں حرمت موجود ہے۔ کہا ہے جاتا ہے : رجل نجس، امراءۃ نجس، رجلان نجس، ء امراتان نجس، رجال نجس، اور رجال نجس و نساء نجس چونکہ یہ مصدر ہے اس لیے نہ اس کا تثنیہ بنایا جائے گا اور نہ ہی جمع بنائی جائے گی۔ اور النجس ( نون کے کسرہ اور جیم کی جزم کے ساتھ) تو یہ نہیں کہا جائے گا مگر تب جب اس کے ساتھ گندگی اور پلیدی رجس بھی ہو۔ پس جب مفرو ہو تو نجس نو کے فتحہ اور جیم کے کسرہ کے ساتھ اور نجس (جیم کے ضمہ کے ساتھ) کہا جائے گا۔ اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : یہ آیت تمام مشرکین کے بارے میں عام ہے اور مسجد حرام کے بارے میں خاص ہے، لہذا کسی اور مسجد داخل ہونے سے انہیں نہیں روکا جائے گا۔ انہوں نے یہودیوں اور عیسائیوں کے تمام مساجد میں داخل ہونے کو مباح قرار دیا ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : یہ ان کی طرف سے ظاہر پر جمود ہے، کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ : انما المشرکون نجس یہ شرک اور نجاست کے ساتھ علت پر تنبیہ ہے۔ پس اگر کہا جائے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے ثمامہ کو مسجد میں باندھا اور مشرک تھا۔ تو اسے یہ کہا جائے گا : ہمارے علماء نے اس حدیث کے کئی جوابات دیئے ہیں اگر یہ صحیح ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ واقعہ نزول آیت سے پہلے تھا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ کو اس کے اسلام لانے کے بارے میں علم تھا اس لیے آپ نے اسے وہاں باندھا۔ اور تیسرا جواب یہ ایک معین فرد کا قضیہ ہے لہذا یہ مناسب نہیں کہ اس کے ساتھ ان اولہ کا دفاع کیا جائے جو ہم نے ذکر کی ہیں، کیونکہ وہ قاعدہ کلیہ کے حکم مقید کرتی ہیں اور یہ کہا جانا ممکن ہے کہ آپ ﷺ نے اسے مسجد میں باندھا ہو تاکہ وہ مسلمانوں کی نماز کے حسن اور ان کے اجتماع کو اور مسجد میں ان کے بیٹھنے کے آداب کے حسن و جمال کو دیکھتے، تو وہ اس سے مانوس ہوجائے اور اسلام قبول کرلے۔ اور اسی طرح ہوا۔ اور یہ کہا جانا بھی ممکن ہے کہ ان کے پاس مسجد کے سوا اور کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں وہ اسے باندھ سکتے۔ واللہ اعلم امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اور آپ کے اصحاب نے کہا ہے : یہود نصاریٰ کو مسجد حرام یا کسی اور مسجد میں داخل ہونے سے نہیں روکا جائیگا اور مشرکوں اور بت پرستوں کے سوا کسی کو مسجد حرام یا کسی اور مسجد داخل ہونے سے نہیں روکا جائے گا اور مشرکوں اور بت پرستوں کے سوا کسی کو مسجد میں داخل ہونے سے نہیں روکا جائے گا۔ اور یہ ایسا قول ہے جسے آیت وغیرہ میں سے جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ سب رد کرتا ہے۔ ال کیا طبری (رح) نے کہا ہے : امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ذمی کے لیے بغیر حاجت کے تمام مساجد میں داخل ہونا جائز ہے۔ اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : حاجت کا اعتبار کیا جائے گا اور حاجت کے ساتھ بھی مسجد حرام میں داخل ہونا جائز نہیں۔ اور حضرت عطابن ابی رباح (رح) نے کہا ہے : حرم پاک سارے کا سارا قلبہ اور مسجد ہے، پس چاہیے کہ انہیں حرم پاک میں داخل ہونے سے منع کیا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : سبحن الذی اسری بعدہ لیلا من المسجد الحرام (الا سراء :1) (ہرعیب سے) پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو رات کے قلیل حصہ میں مسجد حرام سے) اور بلا شبہ آپ ﷺ کو ام بانی کے گھر سے اٹھایا گیا۔ اور حضرت قتاوہ ؓ نے کہا ہے : کوئی مشرک مسجد حرام کے قریب نہ جائے، سوائے اس کے جو صاحب جزیہ (جزیہ دینے والا) ہو یا کسی مسلمان کا کاف غلام ہو۔ اسماعیل بن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ یحییٰ بن عبدالحمید نے ہمیں بیان کیا اس نے کہا ہمیں شریک نے اشعت سے انہوں نے حسن سے انہوں نے حضرت جابر ؓ سے انہوں نے نبی حضور نبی رحمت ﷺ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” کوئی مشرک مسجد کے قریب نہ جائے سوائے اس کے وہ کسی کا غلام یا کنیز ہو پس وہ کسی حاجت اور ضرورت کے لیے اس میں داخل ہو سکتا ہے “۔ (1) اور اسی طرح حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے کہا ہے، کیونکہ انہوں نے کہا ہے : عموم مشرک کو مسجد حرام کے قریب جانے سے روکتا ہے اور اسے غلام اور لونڈی کے حق میں خاص کردیا گیا ہے (2) ۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ قولہ تعالیٰ : بعد عامھم ھذا اس بارے میں دو قول ہیں : ایک قول ہے کہ اس سال سے مراد 9 ہجری کا سال ہے جس میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حج ادا کیا۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ مراد 10 ہجری ہے۔ یہ قتاوہ (رح) نے کہا ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) عنہ نے کہا ہے : اور یہی وہ سال ہے جس میں یہ اعلان کیا گیا (کہ آئندہ کوئی مشرک حرم پاک میں داخل نہیں ہوسکتا) اگر کسی آدمی کا غلام کسی دن اس کے گھر میں داخل ہوا اور اس کا آقا اسے یہ کہے : لاتد خل ھذہ الدار بعد یومک ( تو آج کے بعد اس گھر میت داخل ہو) تو اس سے مراد نہیں ہوسکتا جس میں وہ داخل ہوا ہے۔ (3) ۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ قولہ تعالیٰ : و ان خفتم عیلۃ عمرو بن فائد نے کہا ہے : اس کا معنی ہے واذ خفتم (اور جب تمہیں خوف ہو) اور یہ عجمہ ہے اور اس کا معنی عمدہ اور حسین ہے ان کے ساتھ۔ مسلمانوں نے جب مشرکوں کو حج سے روک دیا حالانکہ وہ اناج اور دیگر سامان تجارت لے کر آتے تھے، تو شیطان نے ان کے دلوں میں فقروافلاس کا خوف ڈال دیا اور کہنے لگے : ہم زندگی کہاں سے گزاریں گے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا کہ وہ اپنے فضل سے انہیں غنی فرمادے گا۔ حضرت ضحاک رحمتہ اللہ نے کہا ہے : پس اللہ تعالیٰ نے ان پر اہل ذمہ کی جانب سے جزیہ کا دروازہ کھول دیا اپنے اس ارشاد گرامی کہ ساتھ : قاتلوا الذین لا یومنون باللہ الا بالیوم الاخر (التوبہ :29) (جنگ کرو ان لوگوں سے جو نہیں ایمان لاتے اللہ پر اور روز قیامت پر) اور حضرت عکرمہ (رح) نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں موسلا دھار بارش، نباتات اور زمین کی سر سبز و شادابی کے ساتھ غنی فرمادیا۔ پس یمن کے شہر اور نواحی بستیاں بھی سر و سبز شاداب ہوگئیں اور اناج، گوشت کی چربی اور تیل اور دیگر کثیر نفع بخش چیزیں مکہ مکرمہ لے آئے۔ اور عب اسلام لے آئے مراد نجد، صنعاء اور دوسرے علاقے کے لوگ ہیں۔ پس ان کا حج اور ان کی تجارت انتہاء تک پہنچ گئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جہاد اور دیگر امتوں پر غلبے کے سبب انہیں غنی کردیا۔ عیلہ کا معنی فقرہ و افلاس ہے۔ کہا جاتا ہے : عال الرجال یعیل جب کوئی آدمی محتاج اور فقیر ہوجائے (1) ( تو یہ جملہ کہا جاتا ہے) جیسا کہ شاعر کا قول ہے : وما یدری الفقیر متی غناہ وما یدری الٖغنی متی یعیل فقیر نہیں جانتا کہ کب (اللہ تعالیٰ ) اسے غنی کردے اور غنی (دولت مند) نہیں جانتا کہ وہ کب محتاج ہوجائے ؟ حضرت ابن مسعود ؓ کے اصحاب میں سے علقمہ وغیرہ نے اسے عائلۃ پڑھا ہے اور یہ مصدر ہے، جسیا کہ قال یتیل سے قائلق ہے۔ اسی طرح عافیۃ بھی ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ مخذوف موصوف کی نعت ہو اور تقدیر عبارت ہو : حالا عائلۃ اور اس کا معنی ہو مشکل اور تکلف دہ خصلت۔ اسی سے کہا جاتا ہے : عالنی الاء مریعو لنی یعنی معاملہ مجھ پر شاق اور سخت ہوگیا اور علامہ طبری نے بیان کیا ہے کہ کہا جاتا ہے : عال یعول جب کوئی محتاج اور فقیر ہوجائے (2) ۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ اس آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ رزق کے بارے میں دل کا تعلق اسباب کے ساتھ قائم کرنا جائز ہے اور یہ توکل کے منافی نہیں ہے، اگرچہ رزق مقدر ہے، اللہ تعالیٰ کا امر ہے اور اس نے اسے تقسیم کیا ہوا ہے، لیکن اس نے اسے حکمت کے تحت اسباب کے ساتھ معلق کردیا ہے تاکہ ان دلوں کو جان لے جو اسباب کے ساتھ متعلق ہیں ان دلوں میں سے جو رب الارباب پر توکل رکھتے ہیں اور یہ پہلے گزر چکا ہے کہ سبب توکل کی نفی نہیں کرتا۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اگر تم نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا جیسے اس کے توکل کا حق ہے تو وہ تمہیں اس طرح رزق عطا فرمائے گا جیسے پرندوں کو رزق دیتا ہے وہ صبح بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں “۔ اسے بخاری رحمتہ اللہ نے روایت کیا ہے پس اس میں خبر دی ہے کہ رزق کی تلاش میں صبح و شام آنا جانا توکل حقیقی کے خلاف نہیں ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : لیکن مشائخ صوفیہ نے کہا ہے : بلا شبہ یہ صبح و شام آنا جانا توکل حقیقی کے خلاف نہیں ہے۔ اور یہی وہ سبب ہے جو رزق کو کھینچ لاتا ہے۔ انہوں نے کا ہ ہے : اس پر دلیل دو امر ہیں : ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : و امر اھلک بالصلوٰۃ واصطئر علیھا لانسئلک رزقاً (طہ :132) (اور حکم دیجئے اپنے گھر والوں کو نماز کا اور خود بھی پابند رہیے اس پر، نہیں سوال کرتے ہم آپ سے روزی کا بلکہ ہم ہی روزی دیتے ہیں آپ کو) اور دوسرا قول باری تعالیٰ ہے : الیہ یصعد الکلم الطیب واعمل الصالح یر فعہ (فاطر : 10) پس وہ اپنے محل جو کہ آسمان ہے۔۔۔ سے رزق نازل نہیں کرتا مگر وہی جو اس کی طرف بلند ہوتا ہے اور پاکیزہ ذکر اور عمل صالح ہے اور وہ زمین میں سعی اور دوڑ دھوپ کرنا نہیں ہے، کیونکہ اس میں رزق نہیں ہے۔ اور صحیح وہ ہے جسے فقہاء ظاہر کے نزدیک سنت نے ثابت اور مستحکم کردیا ہے اور اسباب دنیوی کے ساتھ کام کرنا ہے، مثلاً زمین میں ہل چلانا (کاشتکاری کرنا) بازاروں میں تجارت کرنا، اموال (کاروبار) کے لیے تعمیرات کرنا اور باغات لگانا وغیرہ۔ تحقیق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس طرح عمل کرتے تھے اور حضور نبی مکرم ﷺ ان کے درمیان موجود تھے۔ ابو الحسن بن بطال نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس پاکیزہ مال میں خرچ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے جو انہوں نے کمایا، علاوہ ازیں دیگر آیات بھی ہیں۔ اور فرمایا : فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فلا اثم علیہ (البقرہ : 173) ( لیکن جو مجبور ہوجائے در آ نحا لی کہ وہ نہ سر کش ہوا اور نہ حد سے برھنے والاہو تو اس پر (بقدر ضرورت کھالینے میں) کوئی گناہ نہیں) پس اللہ تعالیٰ نے مضطر اور مجبور آدمی کے لیے وہ کھانا حلال قرار دیا ہے جو اس پر حرام ہے جب جب اس کے پاس کھانے کے لیے وہ موجود نہ ہو جسے کمانے اور غذا بنانے کا اس نے حکم دے رکھا ہے اور اس نے اسے آسمان سے کھانا نازل ہونے کے انتظار کا حکم نہیں دیا اور اگر وہ شے جسے عذاب بنایا جاسکتا ہے اسے چھوڑ کر اس نے سعی اور کوشش ترک کردی تو وہ اپنی جان کا قاتل ہوگا۔ اور رسول اللہ ﷺ بھوک سے بل کھاتے رہتے تھے جو آپ پاتے تھے وہ کھالیتے تھے اور آپ ﷺ پر آسمان سے کھانہ نازل نہیں ہوا اور آپ ﷺ نے اپنے اہل خانہ کے لیے سال کی خوراک جمع کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتو حات عطا فرمائیں۔ اور حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان کیا ہے کہ ایک آدمی حضور نبی مکرم ﷺ کی بارگاہ میں اونٹ کے ساتھ حاضر ہوا اور عرض کی : یا رسو اللہ ! ﷺ کیا میں اسے ڈھنگا ڈال دوں اور توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ دوں اور توکل کروں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تو اسے رسی ڈال اور پھر توکل “۔ (1) میں (مفسر) کہتا ہوں : ان کے لیے اہل صفہ میں کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے، کیونکہ وہ فقراء تھے مسجد میں بیٹھتے تھے نہ وہ ہل چلاتے تھے اور نہ تجارت کرتے تھے، ان کے لیے نہ کمائی تھی اور نہ کوئی مال، بلاشبہ وہ شہروں کی تنگی کے وقت اسلام کے مہمان تھے اور اس کے باوجود وہ دن کے وقت لکڑیاں چنتے تھے اور رسول اللہ ْ ﷺ کے پاس جب کوئی ہدیہ آتا تو آپ اسے ان کے ساتھ مل کر کھاتے تھے۔ اور اگر صدقہ آتا تو ہو انہیں کو عطا فرمادیتے تھے، پس جب فتو حات کثیر ہوگئیں اور اسلام پھیل گیا تو وہ بھی نکل گئے اور حکم کی تعمیل میں لگ گئے، جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ وغیرہ اور وہ بیٹھے نہ رہے۔ پھر کہا گیا ہے کہ وہ اسباب جن سے رزق حاصل کیا جاتا ہے ان کی چھ قسمیں ہیں : (1) ان میں سے سب سے اعلیٰ ہمارے نبی مکرم ﷺ کی کمائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھا ہوا ہے اور حقارت کو اس پر ڈال دیا ہے ہے جس نے میرے حکم کے خلاف۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی مکرم ﷺ کا رزق اپنے فضل سے ان کی کمائی اور کسب میں رکھا ہے اور اسے کسب کی اضضل ترین نوع کے ساتھ خاص کردیا ہے۔ اور وہ آپ ﷺ کا پنے شرف عظمت کے سبب دشمن پر غلبہ حاصل کرتا ہے۔ (2) آدمی کا اپنے ہاتھ کے عمل سے کھانا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بیشک آدمی جو کچھ کھاتا ہے اس میں سے اطیب اور پاکیزہ وہ ہے جو اس کے ہاتھ کی کمائی سے ہو اور بیشک اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت دائود (علیہ السلام) اپنے ہاتھوں کے عمل اسے کھاتے تھے “۔ اسے امام بخاری رحمتہ اللہ نے نقل کیا ہے۔ اور قرآن کرم میں ہے وعلمنہ صنعۃ لبوس لکم (الانبیاء : 80) ( اور ہم نے سکھا دیا انہیں زرہ بنانے کا ہنر تمہارے فائدے کے لیے) اور روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی ماں کے ( سوت) کاتنے کی کمائی کھاتے تھے۔ (1) (3) تیسری قسم تجارت ہے اور یہ بزرگ اور اجل صحابہ کرام ؓ کا عمل تھا بالخصوص مہاجرین صحابہ کرام کا اور قرآن کریم نے کئی مقامات پر اس کی رہنمائی کی ہے۔ (4) کاشتکاری کرنا اور باغات اور درخت لگانا۔ تحقیق ہم اسے سورة بقرہ میں بیان کرچکے ہیں۔ (5) قرآن کریم پڑھنا اور اس کی تعلیم دینا اور دم کرنا وغیرہ، اس کا ابیان سورة فاتحہ میں گزر چکا ہے۔ (6) کسی سے اس ارادہ اور نیت کے ساتھ لینا کہ پھر اسے ادا کر دے گا بشر طی کہ وہ محتاج اور ضرورت مندہو۔ حضور علیہ الصلوٰۃ السلام نے ارشاد فرمایا : ” جس نے لوگوں کے اموال اس ارادہ پر لیے کہ وہ انہیں ادا کردے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادا فرمادے گا اور جس نے انہیں ضائع کرنے کے ارادہ پر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے ضائع کردے گا “۔ اسے امام بخاری (رح) نے نقل کیا ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 7 ۔ قولہ تعالیٰ : ان شاء اس پر دلیل ہے کہ رزق اجتہاد اور کوشش کے ساتھ نہیں، بلکہ بلا شبہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل میں سے ہے وہی اسے اپنے بندوں کے درمیان تقسیم کرنے کا والی ہے۔ اور اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے : نحن قسمنا بینھم معیستھم فی الحیوۃ الدنیا الآ یہ (الز خرف :32) (ہم نے خود تقسیم کیا ہے ان کے درمیان سامان زیست کو اس دنیوی زندگی میں)
Top