Ruh-ul-Quran - Al-Mulk : 18
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ
اَوَلَمْ يَرَوْا : کیا بھلا انہوں نے دیکھا نہیں اِلَى الطَّيْرِ : پرندوں کی طرف فَوْقَهُمْ : ان کے اوپر صٰٓفّٰتٍ : صف بستہ وَّيَقْبِضْنَ : اور سمیٹ لیتے ہیں مَا يُمْسِكُهُنَّ : نہیں تھامتا ان کو اِلَّا الرَّحْمٰنُ : مگر رحمن اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍۢ : ہر چیز کو بَصِيْرٌ : دیکھنے والا ہے
کیا انھوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا وہ پروں کو پھیلائے اڑتے ہیں اور ان کو سمیٹ بھی لیتے ہیں، رحمن کے سوا کوئی نہیں جو انھیں تھامے ہوئے ہو، بیشک وہی ہر چیز کا نگہبان ہے
اَوَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِفَوْقَھُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّیَقْبِضْنَ م ط مَا یُمْسِکُھُنَّ اِلاَّ الرَّحْمٰنُ ط اِنَّـہٗ بِکُلِّ شَیْ ئٍ م بَصِیْرٌ۔ (الملک : 19) (کیا انھوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا وہ پروں کو پھیلائے اڑتے ہیں اور ان کو سمیٹ بھی لیتے ہیں، رحمن کے سوا کوئی نہیں جو انھیں تھامے ہوئے ہو، بیشک وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔ ) مخلوق کی بےبسی اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے استشہاد اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قدرت اور اس کے سامنے ہر مخلوق کی بےبسی ایک مثال کے ذریعے واضح فرمائی جارہی ہے۔ قرآن کریم اپنے پڑھنے اور سننے والوں سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے کہ کیا لوگ اپنے اوپر پرندوں کو ہوا میں اڑتا ہوا نہیں دیکھتے کہ وہ نہایت اطمینان سے فضاء میں کبھی ادھر، کبھی ادھر اٹھکیلیاں کرتے پھرتے ہیں حالانکہ ان کا جسم ہوا سے بھاری ہے۔ اپنے وزن کی وجہ سے انھیں زمین پر گِر جانا چاہیے۔ زمین کی کشش ثقل ہر چیز کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور یہ چھوٹے بڑے جانور اس قانونِ کشش سے آزاد نہیں ہیں اور کوئی اور قوت فضاء میں ان کو تھامنے والی نہیں ہے۔ باایں ہمہ جب تک ایسی تیز ہوا نہ چلے جو پرندے کی قوت مدافعت پر غالب آجائے یا پرندہ بیمار نہ ہوجائے یا ژالہ باری پرندوں کو زخمی نہ کردے، اس وقت تک پرندہ اپنی مرضی کیخلاف زمین پر گرنے نہیں پاتا۔ سوال یہ ہے کہ فضاء میں اسے کس نے تھام رکھا ہے، وہ کون ذات ہے جس نے پرندے کو وہ ساخت عطا فرمائی ہے جس سے وہ اڑنے کے قابل ہوا، وہ کون ہے جس نے ہر پرندے کو اڑنے کا طریقہ سکھایا اور پھر وہ کون ذات ہے جس سے ہوا کو ان قوانین کا پابند کیا جس کی بدولت ہوا سے زیادہ بھاری جسم رکھنے والی چیزوں کو اس میں اڑنا ممکن ہوا ؟ ان سب باتوں کا جواب ایک ہی ہے کہ وہ ذات، اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس نے صرف پرندوں کو ہی نہیں بلکہ ہمارے سروں کے اوپر تنی ہوئی ہر چیز کو تھام رکھا ہے۔ آسمان بغیر ستون کے کھڑا ہے، وہ ہمارے سروں پر گِر کیوں نہیں جاتا ؟ صرف اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت نے تھام رکھا ہے۔ فضائے لامتناہی کے کواکب و نجوم اور اس کے ثوابت اور سیارے اللہ تعالیٰ کے سوا کس نے تھام رکھے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی اگر گِر جائے تو پورے کُرّہ ارض کو تہہ وبالا کر کے رکھ دے۔ یہ صورتحال ہمیں یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ انسان سمیت تمام مخلوقات کتنی بےبس ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات کس قدر عظیم قدرتوں کی مالک ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ پرندوں کی مثال سے کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ صرف پر ندوں کو فضاء میں سنبھالے ہوئے ہے اور باقی مخلوقات اپنے بل بوتے پر اپنے فرائض ادا کررہی ہیں۔ فرمایا، ایسا نہیں۔ اس خدائے رحمن کی یہ رحمت ہے کہ وہ ہر چیز کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ درختوں کے پتوں سے لے کر آسمان کے کواکب و نجوم تک ہر چیز اسی کے سہارے اپنی جگہ پر قائم ہے۔ اگر کسی چیز کا کوئی ایک پیچ بھی ذرا سا ڈھیلا پڑجائے تو نہ جانے تباہی کہاں کہاں تک پھیل جائے۔
Top