Tafseer-e-Baghwi - Al-Muminoon : 10
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ
يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ : اے نبی اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ : بیشک ہم نے آپ کو بھیجا شَاهِدًا : گواہی دینے والا وَّمُبَشِّرًا : اور خوشخبری دینے والا وَّنَذِيْرًا : اور ڈر سنانے والا
یہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں
10۔ اولئک۔ اس صفت والے ، ھم الوارثون، دوزخیوں کے جو درجات جنت میں تھے یہ اہل جنتی ان درجات کے وارث ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر ایک کے لیے دو گھر ہیں ایک گھر جنت میں دوسرا دوزخ میں ، جب کوئی مر کر دوزخ میں چلاجاتا ہے تو اہل جنت اس کے جنت والے گھر کے وارث ہوجاتے ہیں اللہ کے فرمان، اولئک ھم الوارثون، کا یہی مطلب ہے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ ہر ایک کے لیے منزل ہے۔ ایک منزل جنت میں ایک منزل آگ میں، مومن کے لیے جنت میں اس کی جگہ ہے اور اس کے لیے جو دوزخ میں مقام ہوتا ہے اس کو گرادیاجاتا ہے اور کافر کے لیے جو جگہ جنت میں متعین ہوتی ہے وہ گرا دی جاتی ہے اور دوزخ والی جگہ اس کے لیے مقرر کردی جاتی ہے۔ بعض علماء نے کہا کہ وارث ہونے کا یہ معنی ہے کہ مال کار ان کو جنت ملے گی جیسے وارث بالاخر میراث پاتا ہے۔
Top