Tafseer-e-Saadi - Ash-Shura : 18
یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ
يَسْتَعْجِلُ : جلدی مانگتے ہیں بِهَا الَّذِيْنَ : اس کو وہ لوگ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا : جو ایمان نہیں لاتے اس پر وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اور وہ لوگ جو ایمان لائے مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا : ڈرنے والے ہیں اس سے وَيَعْلَمُوْنَ : اور وہ علم رکھتے ہیں اَنَّهَا : کہ بیشک وہ الْحَقُّ : حق ہے اَلَآ : خبردار اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يُمَارُوْنَ : جو بحثین کرتے ہیں۔ جھگڑتے ہیں فِي السَّاعَةِ : قیامت کے بارے میں لَفِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ : البتہ کھلی گمراہی میں ہیں
جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے دیکھو جو لوگ قیامت میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں
(آیت 18) یہ واضح کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کے دلائل واضح اور روشن ہیں، کیونکہ ہر وہ شخص ان کو قبول کرتا ہے جس میں کچھ بھی بھلائی ہے، ان دلائل کا قاعدہ اور اصول بیان کیا بلکہ تمام دلائل کا جو اس نے بندوں کو عطا کئے ہیں، لہٰذا فرمایا : (آیت) ” اللہ ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور میزان “ کتاب سے مراد قرآن عظیم ہے جو حق کے ساتھ نازل ہوا اور یہ حق، صدق اور یقین پر مشتمل ہے۔ تمام مطالب الٰہیہ اور قعئاد دینیہ کے بارے میں وہ روشن نشانیوں اور واضح دلائل پر مشتمل ہے یہ کتاب عظیم بہترین مسائل اور واضح ترین دلائل لے کر آئی ہے۔ میزان سے مراد قیاس صحیح اور عقل راجح کے ذریعے سے عدل و تعبیر ہے۔ چناچہ تمام عقلی دلائل، یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیاں، شرعی تعبیرات، مناسبات، علتیں، احکام اور حکمتیں، میزان میں داخل ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرما کر بندوں کے سامنے پیش کیا ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے ان امور کا وزن کریں جن کا اللہ تعالیٰ نے اثبات کیا ہے یا جن کی اس نے نفی کی ہے اور ان امور کو پہچانیں جن کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے خبر دی ہے اور ان امور کو پہنچانیں جو کتاب اور میزان پر پورے نہیں اترتے اور جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ حجت، برہان یا دلیل یا اس قسم کی کوئی تعبیر ہیں کیونکہ یہ سب باطل اور متناقض ہیں ان کے اصول فاسد اور ان یک بنیاد اور ان کے فروع منہدم ہوگئے۔ اس میزان کے ذریعے سے مسئال کی خبر اور اس کی ماخذ کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے دلائل راجحہ اور دلائل مرجوحہ کے درمیان امتیاز اور اس کے ذریعے سے دلائل اور شبہات کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔ رہا وہ شخص جو آرساتہ عبادرات، ملمع شدہ خوبصورت الفاظ کے فریب میں مبتلا ہو کر معنی مراد میں بصیرت حاصل نہیں کرتا تو وہ اس شان کے لوگوں میں شامل ہے نہ اس میدان کا شہسوار ہے، پس اس کی موافقت اور مخالفت برابر ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے لئے جلدی مچانے والوں اور اس کا انکار کرنے والوں کو ڈراتے ہوئے فرمایا : (وما یدریک لعل الساعۃ قریب) ” اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو۔ “ یعنی اس کے دور ہونے کا علم ہے نہ یہ معلوم ہے کہ وہ کب قائم ہوگی ؟ پس اس کا وقوع ہر وقت متوقع ہے اور اس کے واقع ہونے کی آواز بہت خوفناک ہوگی۔ (یستعجل بھا الذین لایومنون بھا) ’ د اس کی جلدی انہیں پڑی ہے جو اسے نہیں مانتے۔ “ یعنی منکرین حق عناد اور تکذیب کے طور پر اور اپنے رب کو قیامت قائم کرنے سے عاجز سمجھتے ہوئے قیامت کے لئے جلدی مچاتے ہیں۔ (والذین امنوا مشفقون منھا) ” اور اہل ایمان اس سے ڈرتے ہیں۔ “ یعنی ان کے ڈرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ قیامت کے روز اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی اور وہ اپنے رب کی معرفت کی بنا پر ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اعمال نجات کے حصول میں مدد نہ کرسکیں، بنا بریں فرمایا : (ویعلمون انھا الحق) ” اور وہ جانتے ہیں کہ بلاشبہ یہ حق ہے۔ “ جس میں کوئی جھگڑا ہے نہ شک۔ (آیت) ” آگاہ رہو۔ ! بلاشبہ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ “ یعنی قیامت میں شک کرنے کے علاوہ، قیامت کے بارے میں انبیاء اور ان کے پیروکاروں سے جھگڑا کرتے ہیں، پس وہ دور کی مخالفت میں ہیں، یعنی صواب و درستی کے قریب نہیں ہیں بلکہ حق سے انتہائی دور معاندانہ اور مخاصمانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ اس شخص سے بڑھ کر حق سے کون دور ہوسکتا ہے جس نے آخرت کے گھر کو جھٹلایا جو حقیقی گھر ہے جو دائمی طور پر باقی رہنے اور خلود سرمدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور وہ دارلجزا ہے جہاں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و عدل کو ظاہر کرے گا۔ دنیا کے گھر کی اس دائمی گھر سے بس اتنی سی نسبت ہے جیسے کوئی مسافر درخت کے سائے تلے آرام کرے پھر اس سایہ دار درخت کو چھوڑ کر کوچ کر جائے، یہ تو عبوری گھر اور گزر گاہ ہے ہمیشہ رہنے کا ٹھکانہ نہیں۔ چونکہ انہوں نے اس دار فانی کو دیکھا اور اس کا مشاہدہ کیا ہے اس لئے انہوں نے اس کی تصدیق کی اور آخرت کے گھر کو جھٹلایا جس کے بارے میں کتب الٰہیہ میں تواتر کے ساتھ اخبار وارد ہوئی ہیں اور انبیائے کرام اور ان کے پیروکاروں نے آگاہ کیا جو عقل میں سب سے زیادہ کامل، علم میں سب زیادہ وسعت کے حامل اور سب سے زیادہ فہم و فطانت رکھنے والے نفوس قدسیہ ہیں۔
Top