Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 18
یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ
يَسْتَعْجِلُ : جلدی مانگتے ہیں بِهَا الَّذِيْنَ : اس کو وہ لوگ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا : جو ایمان نہیں لاتے اس پر وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اور وہ لوگ جو ایمان لائے مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا : ڈرنے والے ہیں اس سے وَيَعْلَمُوْنَ : اور وہ علم رکھتے ہیں اَنَّهَا : کہ بیشک وہ الْحَقُّ : حق ہے اَلَآ : خبردار اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يُمَارُوْنَ : جو بحثین کرتے ہیں۔ جھگڑتے ہیں فِي السَّاعَةِ : قیامت کے بارے میں لَفِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ : البتہ کھلی گمراہی میں ہیں
جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے دیکھو جو لوگ قیامت میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں
(42:18) یستعجل بھا : یستعجل مضارع واحد مذکر غائب (یہاں جمع کے لئے استعمال ہوا ہے) استعجال (استفعال) مصدر۔ وہ جلدی مانگ رہے ہیں وہ جلدی مچاتے ہیں۔ وہ تعجیل چاہتے ہیں عجلۃ بمعنی جلدی۔ بھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الساعۃ۔ القیامۃ ہے۔ الذین لایؤمنون بھا۔ وہ لوگ جو اس (قیامت) پر ایمان نہیں رکھتے یہ جملہ اپنے اسم موصول اور صلہ سے مل کر فاعل ہے فعل یستعجل کا والذین امنوا مشفقون منھا : الذین امنوا۔ اسم موصول و صلہ مل کر مبتداء مشفقون منھا خبر۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ تو اس سے ڈرتے ہیں ۔ مشفقون اسم فاعل جمع مذکر اشفاق (افعال) مصدر۔ مشفق واحد۔ شفق کا معنی ہے غروب آفتاب کے وقت روشنی کا تاریکی سے اختلاط۔ اسی لئے جو محبت خوف کے ساتھ مخلوط ہو اس کو شفقت کہتے ہیں ۔ باب افعال سے اشفاق کا معنی ہوا ایسی محبت کرنا جس میں ڈر بھی لگا ہوا ہو۔ اس معنی کے دو جزو ہیں۔ محبت اور خوف۔ اگر اس کے بعد من مذکور ہو تو خوف کا معنی ظاہر ہوتا ہے جیسے مشفقون منھا اس سے (قیامت سے) ڈرنے والے۔ اور اگر علی یا فی مذکور ہو تو محبت کے معنی کا زیادہ ظہور ہوتا ہے۔ شفق (باب سمع) علیہ مہربان ہونا۔ شفقت برتنا۔ اور اشفق منہ ڈرنا اور اشفق علیہ مہربان ہونا۔ قرآن مجید میں شفقت اور مہربانی کے معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ الا : خبردار ہوجاؤ۔ جان لو۔ سن رکھو۔ یہ ہمزہ استفہامیہ اور لا نافیہ سے مرکب نہیں ہے جیسا کہ بعض علماء کا خیال ہے بلکہ یہ ایک حرف بسیط ہے۔ تنبیہ اور استفتاح کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس کا استعمال کبھی عرض کے لئے ہوتا ہے یعنی کسی چیز کو نرمی سے طلب کرنا۔ جیسے کہ قرآن مجید میں دوسری جگہ آیا ہے : الا تحبون ان یغفر اللّٰہ لکم (24:22) کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تم کو معاف کر دے اور کبھی تحضیض یعنی کسی چیز کے سختی کے ساتھ مطالبہ کے لئے بھی آتا ہے۔ مثلا الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانھم وھموا باخراج الرسول وھم یدء وکم اول مرۃ (9:13) کیا تم نہیں لڑو گے ان لوگوں سے کہ جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا۔ اور انہوں نے تم سے پہلے چھیڑخانی کی ۔ جب یہ تنبیہ اور استفتاح (یعنی کلام کے شروع کرنے) کے لئے استعمال ہوتا ہے تو جملہ اسمیہ اور فعلیہ دونوں پر داخل ہوتا ہے اور جب عرض اور تحضیض کے لئے آتا ہے تو صرف افعال کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے۔ خواہ وہ الفاظ لفظا مذکور ہوں یا تقدیرا۔ (لغات القرآن) یمارون : مضارع جمع مذکر غائب : ماری (ماضی کا صیغہ) مراء ومماراۃ (مفاعلۃ) مصدر وہ جو جھگڑا کرتے ہیں ۔ مری مادہ فی الساعۃ : ای فی القیامۃ۔ لفی میں لام تاکید کے لئے ہے۔ ضلل بعید : موصوف و صفت گمراہی جو دور نکل گئی ہو۔ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں۔ بہت بڑی گمراہی میں ہیں۔
Top