Dure-Mansoor - Ash-Shura : 18
یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ
يَسْتَعْجِلُ : جلدی مانگتے ہیں بِهَا الَّذِيْنَ : اس کو وہ لوگ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا : جو ایمان نہیں لاتے اس پر وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اور وہ لوگ جو ایمان لائے مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا : ڈرنے والے ہیں اس سے وَيَعْلَمُوْنَ : اور وہ علم رکھتے ہیں اَنَّهَا : کہ بیشک وہ الْحَقُّ : حق ہے اَلَآ : خبردار اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يُمَارُوْنَ : جو بحثین کرتے ہیں۔ جھگڑتے ہیں فِي السَّاعَةِ : قیامت کے بارے میں لَفِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ : البتہ کھلی گمراہی میں ہیں
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ اس کے جلدی آنے کا تقاضا کرتے ہیں اور جو لوگ ایمان لائے وہ اس سے ڈرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وہ حق ہے، خبردار اس میں شک نہیں کہ جو لوگ قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں وہ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تمنا کریں گے اس کی تمنا کرنے والے ان سے کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا تو یہ فرمان ہے (آیت ) ” یستعجل بھا الذین لایؤمنون بھا، والذین امنوا مشفقون منھا “ (اس کے جلد آنے کے طلبگار وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس کے آنے کا یقین نہیں رکھتے اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں تو وہ اس سے ڈرتے ہیں) پھر فرمایا کہ وہ لوگ اپنے ایمان کے بارے میں ڈر کی وجہ سے تمنا کریں گے
Top