Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 18
یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ
يَسْتَعْجِلُ : جلدی مانگتے ہیں بِهَا الَّذِيْنَ : اس کو وہ لوگ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا : جو ایمان نہیں لاتے اس پر وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اور وہ لوگ جو ایمان لائے مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا : ڈرنے والے ہیں اس سے وَيَعْلَمُوْنَ : اور وہ علم رکھتے ہیں اَنَّهَا : کہ بیشک وہ الْحَقُّ : حق ہے اَلَآ : خبردار اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يُمَارُوْنَ : جو بحثین کرتے ہیں۔ جھگڑتے ہیں فِي السَّاعَةِ : قیامت کے بارے میں لَفِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ : البتہ کھلی گمراہی میں ہیں
اس کے بارے میں جلدی وہی لوگ مچاتے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے اور جو ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ یہ قطعی طور پر حق ہے آگاہ رہو کہ جو لوگ قیامت کے بارے میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں وہ یقنی طور پر مبتلا ہیں پرلے درجے کی گمراہی میں1
52 منکرین قیامت کی لاپرواہی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قیامت کے بارے میں جلدی وہی لوگ مچاتے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کو محض ایک خیالی ڈراوا سمجھتے ہیں "۔ کیونکہ وہ اس کی ہولناکی اور اس میں پیش آنے والے احوال واہوال سے بیخبر اور بےخوف ہیں۔ اس لئے وہ استہزاء کے طور پر اور لاپرواہی کی بناء پر ایسے کہتے اور کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگ ڈھیٹ بن کر کہتے ہیں کہ اس کو اگر آنا ہے تو وہ آتی کیوں نہیں ؟ اس کو کس نے اور کیوں روک رکھا ہے ؟ اس کا جہاز آخر کب آکر لنگرانداز ہوگا ۔ { اَیَّانَ مُرْسٰہٰا } ۔ وغیرہ وغیرہ۔ 53 ایمان کا تقاضا خوف آخرت : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ ایمان والے قیامت کی ہولناکیوں سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں۔ اور وہ یقین جانتے ہیں کہ وہ قطعی طور پر حق ہے "۔ یعنی اس کا وقوع پذیر ہونا تو قطعی اور یقینی ہے کہ وہ ایک ہونی شدنی چیز اور حقیقت کبریٰ ہے۔ اسی لئے اس کے ناموں میں " الحاقۃ " اور " الواقعۃ " بھی ہیں۔ سو جو لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں وہ تو اسکا مذاق اڑاتے ہیں اور اس کے بارے میں طرح طرح کے آوازے کستے ہیں۔ لیکن جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے لرزاں وترساں رہتے اور اس سے ڈرتے ہیں۔ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی دولت ہے اور اس سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے قیامت کے منکرین اور اس پر ایمان رکھنے والے دونوں گروہوں کا حال بیان فرما دیا گیا جس سے ایمان اور بےایمانی کا فرق اور نتیجہ بھی واضح ہوجاتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 54 منکرین آخرت دور کی گمراہی میں ۔ والعیاذ باللہ العظیم : ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرت کے بارے میں شک کرنے والے بڑی دور کی گمراہی میں پڑے ہیں "۔ اپنے کبر وعناد اور ظلم و استکبار کی بنا پر۔ اور اس بنا پر ایسے لوگ نور حق و ہدایت سے اس قدر دور اور محروم ہوگئے ہیں کہ وہاں سے اب پلٹ کر واپس نہیں آسکتے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں ان لوگوں کی محرومی پر اظہار حسرت ہے جو قیامت جیسی عظیم الشان اور جلیل القدر حقیقت کا انکار کرتے اور اس کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اور اس طرح ایسے لوگ راہ حق و ہدایت سے محروم ہو کر ہلاکت اور تباہی کی راہ پر چلتے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں جاپڑے ہیں۔ جہاں سے انکو راہ حق کی طرف مڑنا بھی نصیب نہیں ہو رہا۔ سو ان کی آنکھیں اس وقت کھلیں گی جبکہ غیب کا وہ جہان اپنے عظیم الشان حقائق کے ساتھ انکے سامنے مکشوف ہوجائے گا۔ مگر اس وقت آنکھ کھولنے اور حقائق کو تسلیم کرنے کا انکو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس وقت وہ ہولناک انجام انکے سامنے موجود ہوگا جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو بنا لیا اور جس سے مفر کی کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہیں ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Top