Al-Qurtubi - Ash-Shura : 18
یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ
يَسْتَعْجِلُ : جلدی مانگتے ہیں بِهَا الَّذِيْنَ : اس کو وہ لوگ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا : جو ایمان نہیں لاتے اس پر وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اور وہ لوگ جو ایمان لائے مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا : ڈرنے والے ہیں اس سے وَيَعْلَمُوْنَ : اور وہ علم رکھتے ہیں اَنَّهَا : کہ بیشک وہ الْحَقُّ : حق ہے اَلَآ : خبردار اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يُمَارُوْنَ : جو بحثین کرتے ہیں۔ جھگڑتے ہیں فِي السَّاعَةِ : قیامت کے بارے میں لَفِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ : البتہ کھلی گمراہی میں ہیں
جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے دیکھو جو لوگ قیامت میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں
یستعجل بھا الذین لا یؤمنون بھا وہ یہ کلام استہزاء کے طور پر کرتے ‘ ان کا گمان یہ تھا کہ قیامت واقع نہ ہوگی یا کمزور لوگوں کو وہم دلاتے تھے کہ وہ واقع نہ ہوگی مشفقون منھا وہ اس سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ خیال کرتے ہیں کہ اطاعت میں جس طرح انہیں کوشش کرنی چاہیے اس میں انہوں نے کوتاہی کی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ فرمان ہے : والذین یؤتون مآاتوائو قلوبھم و جلۃ انھم الی ربھم رجعون۔ (مومنون) ویعلمون انھا الحق یعنی اس میں کوئی شک نہیں۔ الا ان الذین یمارون فی الساعۃ وہ قیامت کے برپا ہونے میں شک کرتے ہیں اور اس میں مخاصمت کرتے ہیں لفی ضلل بعید۔ وہ حق اور عبرت کے راستہ سے بہت بعید ہیں کیونکہ اگر وہ سوچ و بچار کرتے تو وہ یہ جان لیتے کہ جس ذات پاک نے انہیں مٹی سے پھر نطفہ سے پیدا کیا ہے یہاں تک کہ وہ پہنچے جہاں تک پہنچے تو وہ اس بات پر قادر ہے کہ انہیں دو بارہ اٹھائے۔
Top